ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قرآن و سنّت میں اطاعت نظم کی اہمیت
اسلام میں اطاعت کا مفہوم، دین کے عقائدی اور تشریعی اصولوں سے قوت اور طاقت حاصل کرنا ہے۔ اس لیے کہ اسلام میں اطاعت دراصل اللہ ہی کی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کا حکم ہے کہ معروف میں امیر اور نظم کی اطاعت کی جائے۔ <<اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۰ۚ (النساء۴:۵۹)>> ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں‘‘۔
اس کی تعبیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی:’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی‘‘ (صحیح مسلم:۴۷۴۷) ۔اس لیے معروف میں اطاعت ِ نظم دراصل اللہ کی اطاعت ہوتی ہے اور معروف میں اس کی نافرمانی اللہ کی نا فرمانی۔