ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی تجارتی بنک
ساتویں صدی کے عرب معاشرے میں مضاربہ تجارت میں بخوبی شامل تھا۔ دورِ فاروقی میں حضرت عمرؓ کے دو صاحبزادے کوفہ گئے اور وہاں کے گورنر حضرت ابوموسیٰؓ نے کچھ سرمایہ ان کے حوالے کر دیا جو بیت المال (Treasury) کے لیے تھا۔ دونوں بھائیوں نے اس سرمایہ سے مال خرید کر بعد میں بیچ دیا اور اصل زر رقم بیت المال میں جمع کروا دی۔ مگر حضرت عمرؓ نے اسے مضاربہ کا معاہدہ قرار دیا اور منافع کی آدھی رقم بھی بیت المال میں جمع کروانے کا حکم دیا کیونکہ اس تجارت میں حکومت رب المال تھی اور حضرت عمرؓ کے بیٹے مضارب۔
اسلامی بنک کام تو کر رہے ہیں مگر اسلامی تجارت فروغ نہیں پارہی۔اسٹیٹ بنک کی طرح دوسرے بنکوں بشمول اسلامی بنک کا منافع بھی بہت زیادہ ہوا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ اسلامی بنک بھی مضاربہ فنڈ قائم کریں۔ محنتی، ایماندار اور ذمہ دار نوجوانوں کو مضاربہ سرمایہ فراہم کریں۔ چونکہ مضاربہ کثیر المقاصد کاروبار ہے، اسے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ ان سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے اور انھیں محدود یا مشروط کاروبار بھی کروایا جاسکتا ہے۔ جب نقصان کی صورت میں ۵۰ فی صد اسٹیٹ بنک سے آئے گا تو سارا بوجھ اسلامی بنکوں پر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اسلامی بنکوں سے تحریک لے کر سودی بنک بھی اسے اپنالیں۔ اسلامی بنکوں میں کام کرنے والے شریعہ اسکالر کے تعاون سے اس کام کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔