مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دو ایمان

اس عقیدے پر ہمارا بھی ایمان ہے اور ہماری قوم کا بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قوم کا ایمان ایک خوابیدہ و بے حس ایمان ہے، جب کہ یہی ایمان اخوان کے دلوں میں ایک بیدار، توانا اور پُرسوز ایمان ہے۔

ہم اہلِ مشرق کے اندر ایک عجیب نفسیاتی کمزوری ہے، جس کا احساس ہم سبھی کو ہے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ جب اس فکر کے سلسلے میں ہم لب کشا ہوتے ہیں، تو نہ پوچھو ہمارا زورِ کلام اور جوشِ بیان ایسا لگتا ہے گویا ہم جینے سے بے زار اور مرمٹنے کے لیے بے قرار ہیں۔ نہ خطرات کا کوئی ڈر ہے، نہ آزمائشوں کی کوئی پروا۔ مال کی ضرورت ہو تو مال لٹائیں، خون کی ضرورت ہو تو خون بہائیں اور راہ میں کوئی پہاڑ ہو تو وہ پہاڑ بھی پاش پاش کرڈالیں۔ یہ کہ اب تو ہمیں نیند نہ آئے گی، نہ چین ملے گا، جب تک اسے غالب نہ کرلیں، یا خود اس کی راہ میں کام نہ آجائیں۔

پھر جب گفتگو کا جوش ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہر ایک کا ایمان کسی سردخانے کی زینت بن جاتا ہے۔ کسی کو اپنے فکر کا ذرا بھی خیال نہیں رہتا، نہ اس کے لیے کوئی اُمنگ ہوتی ہے، نہ کوئی جذبہ اور حوصلہ اُمڈتا ہے، بلکہ کبھی تو اس غفلت و نسیان کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ آدمی یکسر متضاد روش اختیار کربیٹھتا ہے، چاہے اسے احساس ہو یا نہ ہو۔ کیا تم سر نہ پیٹ لو گے اگر ایک سمجھ دار، ذی شعور اور تعلیم یافتہ شخص کو دیکھو کہ وہ دہریوں کی مجلس میں تو دہریہ نظر آتا ہے اور عابدوں کے حلقے میں عابد!

اسی کمزور کردار یا اسی نسیان یا اسی غفلت یا اسی نیند نے، یا اسے جو چاہیں ، نام دے لیجیے، بہرکیف اسی کیفیت نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ پُرسوز ایمان کی فکر کو ہم زندہ کریں اور یہی ہے وہ ہر دل عزیز فکر، جو ان محبوب روحوں میں رچ بس گئی ہے۔