ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
منفعت کے غلام
اگر کسی نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ اس وقت تک ہمارا ساتھ نہ دے گا، جب تک اسے کسی منفعت کی توقع یا مالِ غنیمت کی اُمید نہ ہو، تو اس سے ہم کہیں گے: ذرا دردمندی سے کام لو، ہمارے پاس تو کچھ ہے نہیں۔ البتہ، اگر اخلاص سے کام لو گے، اور نیک نیتی کو راہ دو گے، تو اللہ تمھیں بہت دے گا، وہ اپنی جنّت سے نوازے گا، اور نعمتوں سے نہال کردے گا۔ ورنہ ہم تو گم نام اور نادار لوگ ہیں، ہمارے پاس ہے ہی کیا؟ ہمارے پاس جاہ و منزلت ہے، نہ مال ودولت، پس جو کچھ مل جائے، اسے ہم اس راہ میں لٹاتے اور رضائے الٰہی کی اُمید رکھتے ہیں، وہی ہمارا بہترین سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔
اب اگر اس کی آنکھیں کھل گئیں اور طمع کا یہ روگ دُور ہوگیا تو وہ محسوس کرے گا کہ اللہ کے یہاں جوکچھ ہے وہی بہتر اور لازوال ہے۔ پھر راہِ خدا میںخرچ کرنے اور ثوابِ الٰہی سے سرفراز ہونے کے لیے اللہ کی راہ پر چلنے والوں کے قافلے سے آملے گا۔ بلاشبہ اس دُنیا کی لذت چندروزہ ہے اور آخرت کی نعمت لازوال وبے پایاں ہے۔ لیکن اگر اس کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور حرص و آز کی آگ اسی طرح دہکتی رہی تو خدا بھی اس سے بے نیاز ہے۔ ظاہر ہے اسے ایسوں کی کیا ضرورت ہے جو جان و مال، دُنیا و آخرت اور موت و زندگی میں سب سے پہلا حق خدا کا نہیں سمجھتے۔ غالباً اسی طرح کے لوگ تھے، جنھوں نے دستِ رسالتؐ پر بھی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بس اسی شرط پر راضی تھے کہ آپؐ کے بعد اقتدار کے وارث ہوں۔ اس موقعے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا تھا:’’زمین اللہ کی ہے ، وہ جسے چاہے گا اس کا وارث بنائے گا اور کامیابی متقین ہی کے لیے ہے‘‘۔