مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اجتماعی نظم کا فقدان

ہمارے ملک میں زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔ عموماً دینی مدارس کے سفیر اور مختلف اداروں کے ذمہ دار ماہِ رمضان میں اسے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ غرباء کا ایک جم غفیر اہل ثروت کے مکانات پر آکر چند سو روپے، اناج یا کپڑے لے جاتا ہے۔ اس سے زکوٰۃ کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا، یعنی زکوٰۃ دینے والے کا تزکیۂ نفس، غربت کا خاتمہ اور مستحق کو خود کفیل بنانا، اور دین کی نصرت وحفاظت۔

جب اجتماعی نظام کی بات آتی ہے تو عموماً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا بیت المال قائم کرنے کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری نہیں ہے؟

زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے جس کے اصول تو سلف سے ملتے ہیں لیکن جدید مسائل کی تطبیق میں رہنمائی کم ملتی ہے۔ جیسا کہ مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری فرماتے ہیں:’’دین کے جو دیگر ارکان ہیں ان سے متعلق مسائل کے لیے علمائے سلف نے اصول وضوابط وضع کیے ہیں۔ مگر زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے کہ اس سلسلے میں علمائے سلف کے بیان کردہ اصول تو ملیں گے مگر تطبیق میں ان سے رہنمائی بہت کم مل سکے گی، کیوں کہ دورِ جدید کے مسائل کا تصور عہدِسلف میں نہیں تھا۔ لہٰذا عصرِ جدید کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنا اور ان کا شرعی حکم معلوم کرنے کی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے‘‘۔ (ماہنامہ راہ اعتدال، زکوٰۃ نمبر، اکتوبر ۲۰۰۳ء، ص ۸)