مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔

شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نا فرمانی کب جائز یا واجب ہے؟

اسلام نے اگر حق کے معاملے میں قیادت کی اطاعت کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، تو غیر حق میں اس کی نافرمانی کو جائز بلکہ واجب کہا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مسلمان پر اس کی پسند و ناپسند کے تمام معاملات میں سمع و طاعت واجب ہے، الا یہ کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اگر اس کو گناہ کا حکم دیا جائے تو سمع و طاعت کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘۔ (متفق علیہ)

امیرالمومنین علیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا جس کا امیر ایک انصاری کو بنایا اور لشکر کو امیر کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ مگران لوگوں نے امیر کو کسی معاملے میں غضب ناک کر دیا اور امیر نے حکم دیا کہ میرے سامنے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر حکم دیا کہ اس میں آگ لگاؤ، لوگوں نے حکم کی تعمیل میں اسے شعلہ دکھا دیا۔ پھر اس نے کہا:کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ میری اطاعت کرو گے؟ لوگوں نے کہا، کیوں نہیں۔ تب امیر نے کہا، تو اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا، ہم تو آگ سے بھاگ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے۔ لوگ اسی طرح ٹال مٹول کرتے رہے یہاں تک کہ امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی۔ بعد میں جب لوگ واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر یہ لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو کبھی نہ نکل پاتے‘‘۔ اور فرمایا: ’’اللہ کی معصیت میں اطاعت نہیں ، اطاعت تو صرف معروف میں ہے‘‘۔

امرائے جماعت کو مولانا مودودیؒ کی نصیحت:مولانا مودودیؒ نے امرائے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’جس شخص کو بھی نظم جماعت کے اندر کسی ذمہ داری کا منصب سونپا جائے اور کچھ لوگ اس کے تحتِ امر دیے جائیں۔ اس کے لیے یہ ہرگز حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے اور اپنے تابع رفقا پر بے جا تحکم جتانے لگے ۔ اسے حکم چلانے میں کبریائی کی لذت نہ لینی چاہیے۔ اسے اپنے رفقا سے نرمی اور ملاطفت کے ساتھ کام لینا چاہیے۔ اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کسی کا رکن میں عدم اطاعت اور خودسری کا جذبہ اُبھار دینے کی ذمہ داری خود اس کے اپنے کسی غلط طریق کار پر عائد نہ ہو جائے۔ اسے جوان اور بوڑھے ، کمزور اور طاقت ور ، خوش حال اور خستہ حال، سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکنا چاہیے، بلکہ جماعت کے مختلف افراد کی مخصوص انفرادی حالتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے اور جو جس لحاظ سے بھی بجاطور پر رعایت کا مستحق ہو، اس کو ویسی ہی رعایت دینی چاہیے۔ اسے جماعت کو ایسے طریقے پر تربیت دینی چاہیے کہ امیر جو کچھ مشورے اور اپیل کے انداز میں کہے ، رفقا اس کو حکم کے انداز میں لیں اور اس کی تعمیل کریں۔

یہ دراصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی اپیل کارکنان پر اثر انداز نہ ہو اور وہ (مجبور ہو کر) ’حکم‘ دینے کی ضرورت محسوس کرے ۔ ’حکم‘ تو تنخواہ دارفوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضاکار سپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنے خدا کی خاطر اکٹھے ہوئے ہوں، خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز اصحابِ امر اور ان کے رفقا میں پیدا ہو جائے گی ، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی و ہ بہت سی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی، جو وقتاً فوقتاً (امیروں اور ماموروں کے درمیان) پیدا ہوتی رہتی ہیں‘‘۔ (ہدایات)