ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جماعت کا عہدِ رکنیت اور <<سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا >>
جماعت اسلامی کا رکن جب اطاعتِ نظم کا عہد کرتا ہے تو وہ اسی قرآنی روح کو دُہراتا ہے۔ وہ عہد کرتا ہے کہ ’’میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا میری زندگی کا نصب العین ہے اور میں نے دستور جماعت اسلامی کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور میں عہد کرتا ہوں کہ اس دستور کے مطابق نظام جماعت کا پوری طرح پابند رہوں گا‘‘۔ (دستور جماعت اسلامی)
یہ الفاظ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ یہ اس میثاق کا اعادہ ہے جسے قرآن نے یاد رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک فرد رکنِ جماعت بنتے ہوئے جب یہ اقرار کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہوئے اپنی آزادی و خواہشات کو جماعت کے اجتماعی نظم کے تابع کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
مولانا مودودیؒ ’سمع و طاعت اور نظمِ جماعت کی پابندی‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں: ’’آپ چند مٹھی بھر آدمی ہیں جو تھوڑے سے وسائل لے کر میدان میں آئے ہیں اور کام آپ کے سامنے یہ ہے کہ فسق اور جاہلیت کی ہزاروں گنی زیادہ طاقت اور لاکھوں گنے زیادہ وسائل کے مقابلے میں نہ صرف ظاہری نظامِ زندگی کو ہی بلکہ اس کی باطنی روح تک کو بدل ڈالیں ۔ آپ خواہ تعداد کے لحاظ سے دیکھ لیں یاوسائل کے لحاظ سے، آپ کے اور ان کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ اب آخر ا خلاق اور نظم کی طاقت کے سوا اور کون سی طاقت آپ کے پاس ایسی ہو سکتی ہے جس سے آپ ان کے مقابلے میں اپنی جیت کی امید کر سکیں؟ آپ کی امانت و دیانت کا سکہ اپنے ماحول پر بیٹھا ہوا ہو اور آپ کا نظم اتنا مضبوط و زبردست ہو کہ آپ کے ذمہ دار لوگ جس وقت جس نکتے پر جتنی طاقت جمع کرنا چاہیں، ایک اشارے پر جمع کر سکیں ، تب ہی آپ اپنے مقصدِ عظیم میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اقامتِ دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت میں جماعت کے اُولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہی ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہاہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانا ہے ، وہ اس کے جائز احکام کی اطاعت کر کے دراصل اس [امیر] کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہوگا ، اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہوگا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی، اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ (ہدایات )