ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دورِ نبویؐ میں زکوٰۃ کا نظام
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے باقاعدہ ایک اجتماعی نظم قائم کیا، جس کے چند اہم شعبے یہ تھے:
۱- عمال الصدقات: زکوٰۃ وصول کرنے والے افسران، جن میں حضرت عمرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’حق و انصاف کے ساتھ زکوٰۃ کا وصول کرنے والا اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ وہ عامل اپنے گھر کو لوٹ جائے‘‘۔ (ابن ابی شیبہ، حدیث: ۱۰۸۱۸)
۲- کاتبین صدقات: حساب کتاب کے انچارج، جیسے حضرت زبیر بن عوامؓ۔
۳- خارصین: باغات میں پھلوں کی پیداوار کا تخمینہ لگانے والے، جیسے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ماہر خراص تھے۔ غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ نے ایک مسلمان خاتون کے باغ کی پیداوار کا تخمینہ لگایا جو بالکل درست ثابت ہوا۔ (بخاری)
۴- عمال علی الحمی: مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے۔