ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جنوری 2026) کا شمارہ ہے، جو دعوت و تحریک، معاشرتی اصلاح اور اسلامی معاشیات جیسے موضوعات پر مضامین کا مجموعہ پیش کرتا ہے۔
شمارے میں دعوتِ دین کے تقاضوں اور تحریکی کارکنوں کی ذمہ داریوں پر مضامین کے علاوہ نظامِ زکوٰۃ، اسلامی بینکاری اور مضاربہ پر تفصیلی بحث شامل ہے۔ اطاعتِ امیر اور تنظیمی نظم و ضبط کے موضوع پر بھی متعدد مضامین ہیں، جبکہ حالاتِ حاضرہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو اور کشمیر کی صورتحال پر تبصرے بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مستحق کو غنی بنانے کا دس نکاتی منصوبہ
ملک میں غربت کے خاتمے اور زکوٰۃ کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ بحال کرنے کے لیے ایک جامع اور منصوبہ بند تحریک کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل دس نکات پر عمل درآمد ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے:
۱- زکوٰۃ سے متعلق آ گاہی اور ماہر افراد کی شراکت:سب سے پہلے عوام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور عہدِ نبوی و خلافت راشدہ کے دور میں اس کے اجتماعی نظام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی ہوگی۔ اس نظام کے انتظام کے لیے صرف دیندار افراد ہی نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے مرد و خواتین کو بھی شامل کرنا ہوگا، مثلاً:
جدید اُمور سے واقف علمائے کرام: اکاؤنٹنٹس اور آڈیٹرز (حسابات و جانچ پڑتال کے ماہرین)
بہترین عوامی تعلقات رکھنے والے سماجی کارکن
اس کی ابتدا ہر محلے میں مسجد کی سطح سے کی جا سکتی ہے۔
’ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز‘ نے زکوٰۃ کے متعلق ایک سروے کیا جس میں یہ اہم باتیں سامنے آئیں:
زکوٰۃ دینے والوں کی ایک بڑی تعداد (تیس فی صد) کو زکوٰۃ اور اُس کے فوائد کے بارے میں یا تو علم نہیں ہے یا وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ۴۰ فی صد سے زیادہ جواب دینے والے اپنی زکوٰۃ کا صحیح حساب لگانے کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ۷۵ فی صد سے زیادہ لوگ اپنی زکوٰۃ انفرادی طور پر رشتہ داروں یا مقامی ضرورت مندوں کو دیتے ہیں، جب کہ صرف ۱۵ فی صد ہی اسے منظم اداروں جیسے بیت المال یا غیرسرکاری تنظیموں کو دیتے ہیں۔ تاہم، ۷۰ فی صد سے زیادہ لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’اجتماعی نظامِ زکوٰۃ‘ ہی بہترین طریقہ ہے اور اسے تعلیم اور معاشی خود مختاری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح زکوٰۃ کے نصاب کے تعلق سے بھی صحیح آگاہی نہیں ہے جو دوسو درہم چاندی یا ۵۹۵ گرام ہے اور ۲۰ دینار سونا یا ۸۵ گرام ہے (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۵۰۶)
اسلام کے نزدیک ہر وہ شخص غریب ہے جو صاحبِ نصاب نہیں ہے۔ شاہ ولیؒ اللہ نے نصاب کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے: ’’یہ وہ ضروری اثاثہ ہے جس کے ذریعے ایک چھوٹے خاندان کے سال بھر کے ضروری اخراجات کی تکمیل ہو سکتی ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۶۶)
۲-مالیاتی علم اور دولت کی پیدائش:عوام میں مالیاتی خواندگی کی شدید کمی ہے۔ دولت پیدا کرنے، کاروبار میں حصہ لینے اور نفع بخش روزگار اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ بچت کرنے اور منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کی عادت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ’دینے والوں‘ کی ایک مضبوط جماعت تشکیل دی جا سکے۔
جنت کی بشارت پانے والے دس جلیل القدر صحابہ (عشرہ مبشرہ) میں سے چار، یعنی حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، آج کے دور کے حساب سے ارب پتی تھے۔
۳- مدارس کے نصاب میں زکوٰۃ کے جدید کورس کی ضرورت: علمائے کرام کو اس تحریک کی قیادت کرنی چاہیے۔ اس کے لیے زکوٰۃ کو ایک تفصیلی مضمون کے طور پر دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنا ہوگا اور سماجی و معاشی جائزے جیسے عملی میدانی کام بھی کرائے جانے چاہییں۔ زکوٰۃ کے نظام کے لیے نفسیات، تعلقاتِ عامہ، اکاؤنٹنگ، آڈٹ اور مالیاتی انتظام میں مہارت درکار ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے اداروں کو ورلڈ زکوٰۃ کونسل سے تعاون حاصل کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر عبید اللہ کا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ فنانس (آئی آئی بی ایف) زکوٰۃ کے مینجمنٹ کورس کا اہتمام کرتا ہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔
راقم کے مضمون ’مسلم فاضلین اور معاشی میدان‘ (ترجمان القرآن، لاہور ۲۰۲۱ء) میں بھی مدارس سے فارغ ہونے والے علما کے لیے معاش کی نئی راہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سر فہرست زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہے۔
۴- مسجد بحیثیت مرکز عمل: ہر محلے کی مسجد میں ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں ایک جید عالم، ایک ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور چند سماجی کارکن شامل ہوں۔ یہ کمیٹی اپنے علاقے کا سماجی و معاشی جائزہ لے کر کام کا آغاز کرے۔ اس کوشش میں خواتین کو بھی شامل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خاندانوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مالی حالت کا جائزہ لے سکیں۔
۵- فائنانشیل ٹکنالوجی (فِن ٹیک) کا استعمال: مالیاتی ٹکنالوجی زکوٰۃ کو جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے عمل میں کھلے پن اور بھروسے کو مستحکم بنا سکتی ہے۔ آج دنیا بھر کی فلاحی تنظیمیں اجتماعی مالیاتی امداد کے انٹرنیٹ نظام کے ذریعے یہ کام کر رہی ہیں۔ مثلاً کراؤڈ فنڈنگ (Crowdfunding)، انٹرنیٹ آف تھنگس (Internet of Things - ITO) یا اسی طرح بلاک چین (Blockchain) کا استعمال حسابات (جانچ پڑتال) کے مقاصد کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر وطنِ عزیز میں بھی اس جدید طریقۂ کار کو زکوٰۃ کے انتظام و انصرام میں استعمال کیا جائے تو ایک نئے معاشی فروغ کا خواب پورا ہو سکتاہے۔ (ICIF Newsletter،مئی ۲۰۲۴ء، ص ۴، ۱۰، ۱۴، ۱۶)
۶- زکوٰۃ اور چھوٹے قرضے(Microfinance) : زکوٰۃ کی رقم کا ایک مصرف ’الغارمین‘ (قرض دار) ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق، حضرت عمرؓ کے زمانے میں غارمین سے ایک نئی بات کا حوالہ ہمیں ملتا ہے اور وہ سرکاری خزانے سے لوگوں کو امداد نہیں بلکہ قرضہ دینا ہے۔ اس طرح حضرت عمرؓ کے دور میں زکوٰۃ کی رقم سے غیر سودی قرض دینے کا ثبوت ملتا ہے۔
اگر زکوٰۃ کی رقم چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے تو اس سے غربت بتدریج ختم ہو سکتی ہے اور زکوٰۃ کے مستحق لوگ چند سالوں میں زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں۔
بعض ممالک، مثلاً ملائشیا میں، غریبوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
غیر پیداواری غریب (Non-Productive Poor): وہ لوگ جو عمر رسیدہ، بیوہ، معذور یا دائم المریض ہیں اور کام کرنے کے قابل نہیں۔ ان کی مستقل اور مسلسل مدد کی جاتی ہے۔
پیداواری غریب (Productive Poor): وہ مرد و خواتین جو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اپنا کاروبار نہیں کر سکتے، یا جنھیں ہنر سکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ان کی مدد مسلسل نہیں کی جاتی، بلکہ انھیں کاروبار یا آلات کے لیے بڑی رقم یک مشت یا قسط وار دی جاتی ہے۔ اس طرح انٹر پرینرشپ کے فروغ کے ذریعے انھیں بہت جلد خود کفیل بنا کر ’مستحقِ زکوٰۃ‘ (زکوٰۃ لینے والا) سے ’مزکیِ زکوٰۃ‘ (زکوٰۃ دینے والا) بنانے کی سعی ہوتی ہے۔
Habib Ahmed, Role of Zakah and Awqaf in Poverty Alleviation (Occasional Paper No.8.Islamic Development Bank Group, IRTI, Jeddah, 2004, p.77-82.
۷- زکوٰۃ اور غیرمسلم : قرآن نے مصارفِ زکوٰۃ میں ’فقراء‘ اور’مساکین‘ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق، ان میں فرق یہ ہے کہ فقراء سے مراد غریب مسلمان اور مساکین سے مراد غریب غیر مسلم ہیں۔
پروفیسر عبد العظیم اصلاحی لکھتے ہیں: ’’ خلیفہ ثانی نے زکوٰۃ کے مصارف ثمانیہ میں سے فقراء سے مراد مسلمان اور مساکین سے مراد اہل کتاب لیا ہے‘‘۔ (علامہ شبلی نعمانی، الفاروق، ص۱۲۸)
ڈاکٹر محمد حمیداللہ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج کا حوالہ دیتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مدینہ کی گلیوں میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو اس کا جزیہ معاف کر دیا اور اس کا روزینہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ہذا مسکین أہل الکتب (یہ اہل کتاب کے مساکین میں سے ہے)۔ (خطبات بہاولپور، صفحات ۳۴۱-۳۴۲)
ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی لکھتے ہیں: ’’زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر خرچ نہیں کی جائے گی بلکہ ان تمام لوگوں پر جو اس کے مستحق ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ عقیدہ اور مسلک کے اعتبار سے کیا ہیں۔ قرآن کریم کی آیاتِ زکوٰۃ میں فقراء و مساکین اور دوسرے ضرورت مندوں کے ساتھ ایمان کی شرط نہیں لگائی گئی ہے‘‘۔ (عدل کی تلاش، ص ۴۹)
۸- دیگر ممالک کے کامیاب تجربات سے استفادہ:عالمی زکوٰۃ فورم (World Zakat Forum) میں تقریباً چالیس ممالک شامل ہیں۔ ہمیں ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے:
بیزناس (BAZNAS): انڈونیشیا کے زکوٰۃ کا یہ ادارہ سماجی، تعلیمی اور عوامی صحت کے منصوبوں میں زکوٰۃ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
سینزف (SENZAF): جنوبی افریقہ کا یہ ادارہ ایک ایسے ملک میں قائم ہے جہاں مسلمان صرف دو سے تین فی صد ہیں، لیکن یہ دہائیوں سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔
سینٹر فار زکوٰۃ مینجمنٹ (Center for Zakat Management): اس تنظیم کی سربراہی دو خواتین- چیئرپرسن فیروز محمد اور سی ای او یاسمینہ فراٹنک ہیں اور اس ادارہ میں ۵۲ فی صد خواتین کام کرتی ہیں۔ اس کی سماجی صلاحیتوں کی تعمیر اور رفاہی کاموں کا اعتراف کرتے ہوئے کیمبرج (Cambridge) اور برطانیہ کی بین الاقوامی معاشی ایڈوائزری کی جانب سے اس کو 3G کا عالمی سطح کا بہترین انتظامیہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
بنگلہ دیش: یہاں کے زکوٰۃ کا نظام دیہی ترقی اور بچوں کی تعلیم میں مؤثر نتائج فراہم کررہا ہے۔
۹- زکوٰۃ اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDG): اقوامِ متحدہ نے (۲۰۱۵ء- ۲۰۳۰ء) پندرہ برسوں کے لیے ’پائیدار ترقی کے مقاصد‘ مقرر کیے ہیں، جن میں ناداری کا خاتمہ، بھوک کا خاتمہ، بہتر صحت، معیاری تعلیم اور معاشی عدم مساوات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ زکوٰۃ کا اسلامی نظام چودہ سو سال پہلے ان تمام مقاصد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے بھی انڈونیشیا کی زکوٰۃ کی تنظیم کے ساتھ مل کر تیار کردہ ایک منصوبے میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اسلام کا فریضۂ زکوٰۃ دولت کو مالداروں سے ناداروں کی طرف منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اس میں پائیدار ترقی کے مقاصد کی کامیابی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ (ایچ عبدالرقیب، ’اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف اور حلف الفضول‘، ماہنامہ راہ اعتدال، اپریل ۲۰۲۳ء، ص ۱۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ محض ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی، معاشی اور سماجی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف بھوک مٹانا نہیں، بلکہ غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ایک ایسی سوسائٹی قائم کرنا ہے، جہاں دولت صرف امیروں میں گردش نہ کرے، بلکہ معاشرے کے تمام افراد معاشی طور پر خود کفیل ہوں۔
سید سعادت اللہ حسینی لکھتے ہیں:’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے قیام کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل میں چلایا جائے۔ یہ نظام ابتداء میں گاؤں، قصبہ یا شہر کی سطح پر قائم کیا جاسکتا ہے۔ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے یہ ادارے منصوبہ بند طریقے سے غریب طلبہ کو وظیفے اور تعلیمی امداد اور نوجوانوں کو فنی اور تجارتی ٹریننگ دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں‘‘۔ (نظامِ زکوٰۃاور ہندوستان میں سماجی ترقی، ۲۰۱۸ء،ص ۲۰)
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اس ضرورت کو یوں بیان کیا تھا:’’اگر مسلمان آج اور کچھ نہ کریں صرف زکوٰۃ کا معاملہ ہی احکام قرآنی کے مطابق درست کر لیں تو بغیر کسی تامل کے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تمام اجتماعی مشکلات و مصائب کا حل خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے یا تو احکام قرآنی کی تعمیل یک قلم ترک کر دی ہے یا پھر عمل بھی کر رہے ہیں تو اس طرح کہ فی الحقیقت عمل نہیں کر رہے ہیں‘‘۔ (حقیقۃ الزکوٰۃ، لاہور، ص۲۶)
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلم ملت کے مرد و خواتین، علمائے کرام، سماجی کارکنان اور دانش ور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کے اس عظیم نظام کو قائم کرنے کے لیے خصوصی توجہ دیں، تاکہ چند برسوں میں ہم منصوبہ بندی کے ساتھ ایک متوازن اور متمول اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔