مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

عُذر کی وجہ سے نماز میں کوتاہی کا تدارک

سوال: میں پرائمری اسکول میں ٹیچر تھا۔ ریٹائر ہوگیا ہوں۔ زندگی بھر تحریک اسلامی سے وابستہ رہا ہوں۔ رفاہی اداروں میں حسب توفیق مالی امداد کرتا رہا ہوں۔ میرے چھ لڑکے ہیں۔ میرے پاس کچھ زمین تھی وہ میں نے ان میں تقسیم کردی ہے۔ اب میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میری دائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا۔ اسٹیل کا گولا ڈالا گیا۔ لیکن چند ماہ کے بعد دوبارہ معائنہ ہوا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے گھٹنے ناکارہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مصنوعی گھٹنے بھی کام نہیں دے سکتے۔ جون ۲۰۲۵ء سے میں چارپائی پر پڑا ہوں۔ پیشاب ، پاخانہ بھی بستر پر لیٹے ہوئے کرتا ہوں۔ خود سے اُٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتا۔ میرے پوتے سارا کام کرتے ہیں، وضو بھی نہیں کرسکتا۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔

ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ فی نماز دوکلو گندم مرنے کے بعد صدقہ کرنا پڑے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد کیا میرے بیٹے اتنا صدقہ کرسکیں گے؟ مجھے اُمید نہیں، میں نے نہ کبھی روزہ چھوڑا نہ نمازِ تہجد کا ناغہ کیا۔ غریبوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اب میری ایسی حالت ہوگئی ہے۔ براہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں؟

جواب: اس دُنیا میں ہرانسان آزمائش کی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھانسانوں کو دے کر آزماتا ہے اور کچھ کو محروم کرکے۔ کچھ کو مال و دولت سے نوازتا ہے تو کچھ کو غریب رکھتا ہے۔ کچھ کو صحت مند رکھتا ہے تو کچھ کو امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ نعمتیں پاکر وہ شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور مال و دولت اور صحت سے محروم ہونے پر وہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ کامیاب انسان وہ ہیں جو کوئی نعمت پاکر شکر بجا لائیں اور کسی پریشانی کا شکار ہوں تو صبر کریں۔ کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کے برابر رقم صدقہ کرنا ہے۔ تاہم بعض افراد نے یہی ہر نماز کا فدیہ بھی قرار دیا ہے، جو درست نہیں ہے۔

جب تک انسان زندہ اور ہوش و حواس میں ہے، نماز معاف نہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو، نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وضو نہ کرسکتے ہوں تو مٹی کا ڈلا اپنے پاس رکھیں، اس سے تیمّم کرلیا کریں۔ اُٹھ بیٹھ نہ سکتے ہوں تو لیٹے لیٹے نماز ادا کرلیا کریں، کم از کم فرض نماز ضرور ادا کریں، توفیق اذکار و اوراد کا اہتمام کریں۔ جتنا قرآن یاد ہو جب بھی موقع ملے دُہراتے رہیں۔

آپ نے پوری زندگی دین داری کے ساتھ گزاری ہے۔ عبادات کا اہتمام کیا ہے۔ صدقہ و خیرات کرتے رہے ہیں۔ اب عُذر کی وجہ سے نہیں کرپا رہے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ حدیث میں ہے کہ عام حالات میں بندہ جو نیک اعمال کرتا رہا ہے، اگر عُذر کی وجہ سے انھیں نہ کرسکے تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر دیتا رہے گا۔(محمد رضی الاسلام ندوی)