ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پہلی نسل (۱۹۵۰ء- ۱۹۷۵ء )
دو عظیم عالمی جنگوں نے یورپ کے لاکھوں نوجوانوں کو نگل لیا، اور نوآبادیاتی طاقتوں کو عسکری و معاشی لحاظ سے مضمحل کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کو کامیابی کا راستہ ملا، اور بعد کے عشروں میں متعدد مسلم معاشرے اپنی خودمختاری واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس مرحلے پر اسلامی معیشت کے علَم بردار اہلِ دانش کی پہلی نسل سامنے آئی، اور انھوں نے سرمایہ داری، اشتراکیت اور کمیونزم کے مقابل اسلامی معیشت کو ایک انقلابی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے مغربی معاشرتی و معاشی نظاموں پر بصیرت افروز تنقید کی، اور قرآن، سنت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں عہدِ حاضر کے لیے ایک عادلانہ اور منصفانہ خاکہ پیش کیا، جس کے ذریعے نوآبادیاتی مظالم اور معاشی استحصال سے نجات کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔
لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیاسی آزادی تو حاصل ہو گئی ، مگر اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب پھر بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نوآبادیاتی راج اپنے پیچھے ایک ایسا مضبوط طبقہ چھوڑ گیا جو مقامی ضرور تھا، مگر ذہناً اور عملاً استعماری مفادات کا خادم تھا۔ یہ وہ سامراج نواز طبقہ تھا، جو اقتدار، دولت اور مفادات کی لالچ میں استعمار کی فکری و اخلاقی وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی یہی طبقہ سیاست، بیوروکریسی، فوج اور معیشت کے کلیدی مناصب پر قابض رہا۔ ان کی وفاداری اپنی قوم سے نہیں بلکہ مغرب کی اقدار و معیارات سے تھی۔ اسی لیے اسلامی متبادل کے قیام کی ہرکوشش کے آگے بند باندھے گئے۔ اس حقیقت نے یہ واضح کر دیا کہ محض فکری برتری یا اخلاقی اپیل سے نظام تبدیل نہیں ہوتا، اس کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں جدوجہد کا رخ اقتدار کے حصول کی طرف مڑا، مگر طاقت کے ناہموار توازن اور اندرونی و بیرونی مفادات کی مزاحمت نے ان کوششوں کو بڑی حد تک ناکام یا محدود کر دیا۔
چنانچہ پہلی نسل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے اسلامی معیشت کے اصولی خدوخال واضح کیے اور ایک واضح متبادل کا فکری نقشہ پیش کیا۔ مگر یہی مرحلہ اس ادراک پر بھی منتج ہوا کہ طاقت کے موجودہ توازن میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہیں اور یہیں سے دوسری نسل کی تمہید بندھی۔