ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خدمتِ خلق اور سیاسی جدوجہد
خانہ کعبہ اور مسجدِ نبویؐ، جیسے مقامات ِ مقدسہ میں حلف لینے کے بعد نعمت اللہ خان نے اپنی پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ جماعت اسلامی کے لیے وقف کردیا۔ اب اُن کی ساری تگ ودو اور جِدوجُہد اسلام کی بالادستی اور ہر شعبے میں اسلام کے نظام ِ عدل وانصاف کے نفاذ کے لیے وقف تھی۔ خدمت ِ خلق کے شعبے کے انچارج وہ پہلے ہی تھے، کراچی کی شوریٰ اور جماعت اسلامی وسطی کے امیر منتخب ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں جنرل ضیاءالحق کے دَور میں غیر جماعتی انتخابات کے دوران سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور جماعت کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بنے، جب کہ ڈاکٹر اطہر قریشی پارلیمانی لیڈر تھے۔اِس دوران میں اُنھو ں نے اپنے گروپ کے ساتھ سیّد غوث علی شاہ کی وزارت ِ اعلیٰ کے دَور میں حزب ِ اختلاف کا بھرپور کردار ادا کیا اور کراچی کے عوامی حقوق اور ترقی کے لیے بھرپور آواز بلند کی۔ اُس زمانے میں کراچی کے میئر، جماعت اسلامی کے محترم عبدالستّار افغانی تھے، جو ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۳ء اور دوبارہ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۷ء تک اس منصب پر فائز رہے اور محدود بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے ایمان داری و دیانت داری کے ساتھ عوام کی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
اُسی دَور میں سیّد غوث علی شاہ کی حکومت اور عبدالستار افغانی کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں موٹر گاڑیوں اور پراپرٹی پر ٹیکس وصول کرنے کے اختیارات پر اختلافات ہوئے۔ یہ ٹیکس صوبائی حکومت وصول کر رہی تھی، جب کہ بلدیہ عظمیٰ کا موقف تھا کہ کراچی کے موٹر وہیکل اور پراپرٹی ٹیکس پر اُس کا حق ہے اور اِسے کراچی کی سڑکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہیے۔ اِس مسئلے سمیت دوسرے امور پر جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں آٹھ ارکان کی اپوزیشن نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا اور سندھ اسمبلی اور میئر افغانی کی میئرشپ میں بلدیہ عظمیٰ کے ایوانوں میں تاریخی جدوجہد کی، جس کا خمیازہ انھیں بلدیہ کی تحلیل کی شکل میں بھگتنا پڑا۔
صدر جنرل محمد ضیاءالحق اور وزیراعلیٰ صوبہ سندھ غوث علی شاہ نے جماعت کی کراچی کے حقوق کے لیے اس جدوجہد کو اپنے خلاف محسوس کیا اور جماعت کی مخالفت پر اُتر آئے۔ نتیجہ یہ کہ جماعت اسلامی کے سیاسی کردار کو غیرمؤثر بنانے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جیسی لسانی جماعت کی سرپرستی شروع کردی۔ اِس طرح کراچی میں جماعت اسلامی کے سیاسی اثرورسوخ کو ۱۹۸۰ء کے عشرے کے بعد ایم کیو ایم کے سفاک ہتھیار سے شدید نقصان پہنچایا۔ جس نے کراچی کے امن اور ترقی اور کلچر کو تباہ کرکے رکھ دیا۔
خان صاحب ساڑھے تین سال تک سندھ اسمبلی کے رکن رہے، لیکن اس کی تنخواہ کی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کی۔وہ یہ رقم بینک میں جمع کرواتے رہے اور جب اُن کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہوئی تو تمام تنخواہوں کا چیک جماعت اسلامی کے شعبہ خدمت ِ خلق کی نذر کر دیا۔
خان صاحب، جماعت کی مرکزی شوریٰ اور عاملہ کے برسوں رکن رہے۔ ۱۹۹۱ء میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منتخب ہوئے اور مسلسل دس سال تک اسی ذمہ داری کے لیے منتخب ہوکر کام کرتے رہے۔ اپنی امارت کے دَور ہی میں اُنھوں نے جماعت کے شعبہ خدمتِ خلق کو مزید آگے بڑھایا، اُس کا نام’الخدمت ویلفیئر سوسائٹی‘رکھا اور اُسے باقاعدہ رجسٹر بھی کرا لیا۔ کراچی کی امارت کی یہ طویل مدت جماعت کے ساتھ اُن کے اخلاص، قائدانہ صلاحیتوں اور ارکان و کارکنوں کے اُن پر اعتماد کا بڑا ثبوت ہے۔ اسی دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے جماعت کے شعبہ خدمت ِ خلق کو پورے پاکستان کی بنیاد پر منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ الخدمت فاؤنڈیشن کے نام سے ادارہ رجسٹر کرایا اور خان صاحب کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ قاضی صاحب نے ان سے کہا کہ اب کراچی میں الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا، اِسے ختم کرکے ’الخدمت فاؤنڈیشن‘ کے تحت ہی کام کریں تاکہ ملک بھر میں یکسانیت برقرار رہے اور خدمت ِ خلق کا کام الخدمت فاو نڈیشن کے نام ہی سے کیا جا سکے۔ خان صاحب کے لیے یہ بات اتنی آسان نہ تھی کیوں کہ اِس سوسائٹی کو اُنھوں نے خود منظم کیا تھا اور ایک توسیعی منصوبے کے تحت رجسٹر بھی کرایا تھا، یوں ایک طرح سے وہ اِس کے بانی بھی تھے۔ اُنھوں نے قاضی صاحب کو قائل کرلیا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ اِس سوسائٹی کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ اب تک الخدمت فاؤ نڈیشن کے ساتھ یہ سوسائٹی بھی بہت اچھے طریقے سے کام کر رہی ہے۔