مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مستقبل اس امت کا ہے!

ہم اس امت کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ مستقبل اس دین کا ہے، مستقبل اس امت کا ہے۔ ہمارے پاس قرآن کریم اور سنت نبوی سے، اور شاندار تاریخ سے، اور موجودہ حقیقت سے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے قوانین سے بہت سی بشارتیں ہیں، جو ہمیں اس بات کا یقین دلاتی ہیں کہ یہ صورتِ حال برقرار نہیں رہے گی، اور اس حالت کا ہمیشہ رہنا محال ہے۔ اب غالب آنے کی باری ہماری ہے نہ کہ ہمارے دشمن کی۔ کیونکہ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ’’یہ دن ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں‘‘۔

ان شاء اللہ فتح قریب ہے، لیکن اللہ کا قانون جاری ہے کہ فتح صرف حقيقي مؤمنوں کے ذریعے ہی مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

<<وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْـبَكَ اللہُ۝۰ۭ ہُوَالَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ۝۶۲ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ۝۰ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰكِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَيْنَہُمْ۝۰ۭ اِنَّہٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۶۳ (الانفال۸: ۶۲-۶۳)>> وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے، مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔

میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس مہینے کو ہماری مغفرت کا ذریعہ بنادے، اور اس میں رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کو ہمارا حصہ بنائے، اور ہمارے پیش کردہ اعمال پر ہمیں اجر دے، اور ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے، اور ہمارے آج کو ہمارے کل سے بہتر بنائے، اور ہمارے آنے والے کل کو ہمارے آج سے بہتر بنائے، اور اسلام اور مسلمانوں کو فتح دے، اور اس دین کے دشمنوں کو ذلیل کرے، اور ہمارے مجاہد بھائیوں کی مدد کرے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔

<<رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝۱۴۷ (ال عمرٰن ۳: ۱۴۷)>> اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کردے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔

أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِينَ!