ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مصنوعی ذہانت: مفید استعمال کے لیے تجاویز
علم سے آگے اس کا مفید استعمال ہے جو حکمت کا مرہونِ منت ہے۔ علم سے حکمت تک کا سفر تو آپ کو اپنے بل بوتے پر ہی طے کرنا ہے۔ اس سفر میں دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کام آئے گا جو آپ کے اپنے ذہن کے میموری سسٹم میں محفوظ ہے۔ ’اے آئی‘ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اس دنیا میں، ہم میں سے اکثر اور بالخصوص نئی نسل کی ایک بہت بڑی اکثریت نے دیگر ذرائع سے علم حاصل کرنے کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔ اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس میں بہتری لانے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دیگر ذرائع علم کو بھی اسی انداز میں مہیا کر دیا جائے جس کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں، اور بالخصوص نئی نسل اس تساہل پسندی میں زیادہ آگے نکل گئی ہے۔ وہ نسلیں جن کا جس حد تک بھی تعلق متفرق ذرائع علم سے رہا ہے، وہ ’اے آئی‘ کے مفید استعمال میں اتنی ہی زیادہ آگے رہیں گی۔ مزید یہ کہ ایسے ہی لوگوں میں ’اے آئی ٹولز‘ کی غلطیاں اور جھکاؤ کو پہچان لینے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوگی۔
اسلامی تعلیمات کو ’اے آئی‘ کے پیرائے میں مہیا کرنا آج کے دور کی نہایت اہم ضرورت ہے۔ ’چیٹ بوٹس‘ کی صورت میں یہ تعلیمات فوری طور پردستیاب ہوں، تو ان سے آج کے دور میں زیادہ استفادہ کیا جائے گا۔ قرآن وحدیث سے لے کر کلاسیکی لٹریچر اور دور جدید کی تحقیق وتصنیف اسی اندازسے مہیا کی جائیں۔ جماعت اسلامی نے اس صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئےاس سلسلےمیں ایک پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہے، اور اس طرح کے بعض چیٹ بوٹس پر کام مکمل بھی ہوچکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بڑے کام کو سرانجام دینے کے لیے مزید افراد اور ادارے آگے آئیں اور اس کام کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں، تاکہ کام کی تکرار سے بھی بچا جا سکے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے۔
دورِ حاضر میں جہاں حصول علم کے انداز بدل گئے ہیں، وہاں تنقیدی سوچ بچار (کریٹیکل تھنکنگ) بھی متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ زور معلومات پر، ان کے حصول میں تیزی اور مستعدی پر ہے، جب کہ تنقیدی فکر ایک مربوط ذہنی ورزش کی متقاضی ہے اور اس بناپر وقت طلب عمل ہے۔ اس مسئلے کو فکری میدان میں باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی، یہ قابل عمل طریقہ ہو سکتا ہے کہ کئی لوگ اپنے پاس موجود علم کو جو بہت وسیع و عمیق نہ بھی ہو، مشترکہ طور پر علم کے ایک وسیع ذخیرے کی شکل دے دیں اور اس کی بنیاد پر تنقیدی سوچ بچار کو بھی ایک مشترکہ صورت میں فروغ دیا جائے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ’اے آئی ٹکنالوجی‘ ’فکری تعاون‘ (کلیبریٹیو تھنکنگ) کے لیے ایک اچھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں بھی ’کلیبریٹیو لیڈرشپ‘ کا ماڈل مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اسے زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی رائج کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی اور تحقیقی ادارے بھی اس ماڈل کو اپنا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کے ایک اچھے ذریعے کی حیثیت سے اڑان بھری تھی، لیکن اب یہ مخاصمت اور اپنے زاویۂ نظرکے مقابلے میں کسی بھی دوسری رائے کوسرنگوں کرنے کی کوششوں کا ایک مرکز بن گیا ہے۔ اوپر تجویز کردہ ’فکری تعاون‘ کو فروغ دے کر سوشل میڈیا کی افادیت کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ گو کہ بہت سے پروفیشنل فورمز پر بہت اعلیٰ درجے کی بحث اور تبادلۂ خیال دیکھنے کو ملتا ہے، تاہم عام طور پر لا حاصل بحثوں اور اپنے اپنے مورچوں میں بند افراد کا شور زیادہ ہے۔ یہ رجحان بھی عام ہے کہ ایسی پوسٹ جس کے ’لائک‘ زیادہ ہوں اسے ہم مفید یا اہم سمجھتے ہیں، اور اسی پس منظر میں بہت سے کاروباری ادارے اور سیاسی قوتیں رجحان سازی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ فکر کو ایک خاص انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، جب کہ انفرادی فکر جلا نہیں پا رہی۔ یقیناً ’اے آئی‘ کے ٹولز اس میں مدد گار ہو رہے ہیں اور ان کا مقابلہ انھی کے میدان میں کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ میدان کے صاحب الرائے افراد کے فورم تشکیل دیے جائیں، جو نئے دور کے تقاضوں کا جائزہ لیتے رہیں اور حسب ضرورت مناسب راہِ عمل تجویز کرتے رہیں۔ اسی طرح ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ادارے کمربستہ ہوں اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔