ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دانشِ عصر حاضر
جس بات کو عرب جاہلیہ کے دانش ور ایک لمحہ میں سمجھ گئے تھے اور جو اسلام اور روایتی عرب مذہبیت کے درمیان وجہ نزا ع تھی۔ اس معمولی سی بات کو گذشتہ تین صدی سے زیادہ عرصے میں مغرب اور مشرق کے حکماء اور فلاسفہ اپنی تمام تر ذہانت اور دور جدید میں وجود میں آنے والی مصنوعی ذہانت کے باوجود سمجھنے سے قاصر رہے ہیں یا سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوسکے ہیں۔ وہ یہی راگ الاپتے رہے ہیں کہ معاشی، سیاسی، ثقافتی، معاشرتی اور انتظامی خداؤں کے ایک متضاد نظام میں اگر ایک خدا کو مزید شامل کر لیا جائے جس کا کام روحانیت،مذہبیت اور عبادت کی رسوم کا ہو تو ایک بہترین متوازن، روادار، مساویانہ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ بلکہ ایسا نظام یورپ اور دیگر ممالک میں سکون کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے مسلم ممالک میں بھی اس ’روشن خیال‘فکر کو رواج ملنا چاہیے۔
یہ سوچ محض تصور تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے گذشتہ تین صدیوں میں تعلیم، تجارت، انتظامیہ، عدلیہ اور سیاسی اداروں اور ابلاغِ عامہ کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عقل سے عاری مسلم حکمرانوں، سیاست کاروں، دانش وروں، درس گاہوں، ایوان ہائے تجارت، غرض تمام شعبوں میں ایک سامراجی نظام کی شکل میں نافذ کر دیا گیا۔ اور مسلم عوام و خواص کو دنیا اور ’مذہب‘ میں یگانگت اور ’توازن‘ کا اتنا عادی بنا دیا گیا ہے کہ یہ فکر ان کی سوچ کا زاویہ بن گئی ہے۔ ایک جانب حج اور عمرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ترقی اور جدیدیت کے نام پر مخلوط معاشرہ، سود، مغربی ثقافت اور مصنوعات کا فروغ سرکاری سرپرستی میں عام کیا جارہا ہے۔