ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پاکستان ہجرت اور مفلوک الحالی
اُن کی ہندستان سے پاکستان ہجرت کی کہانی بھی نئے وطن سے لازوال محبت کو ظاہر کرتی ہے۔وہ بتاتے تھے کہ مَیں ۱۹۴۶ء میں میٹرک کر چکا تھا۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو مسلمانوں میں زبردست جوش وخروش تھا، لیکن تقسیم کی وجہ سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھی عروج پر تھی۔ ۱۵؍اگست کو ہندستان کی آزادی کا اعلان ہوا تو اجمیر ریلوے اسٹیشن کے قریبی علاقے کے ہندوئوں نے اعلان کیا کہ ’’اب ہم آزاد ہوگئے ہیں، اِس لیے مسجد کے ساتھ والے مندر میں نماز کے دوران میں گھنٹیاں بجائیں گے اور اس کی پروا نہیں کریں گے کہ مسجد میں عبادت ہو رہی ہے‘‘۔ اِس اعلان سے محلے کے مسلمان نوجوانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی، جن میں وہ خود بھی شامل تھے، اور اِس اقدام کے مقابلے کا منصوبہ بنایا کہ اگر وہ گھنٹیاں بجا کر ہماری نماز میں خلل ڈالیں گے اور ہمارے دین کی بے حرمتی کریں گے تو ہم اُنھیں بھرپور جواب دیں گے اور سگریٹ کی خالی ڈبیوں کے کریکر بناکر دھماکوں کی آواز پیدا کریں گے۔پولیس کو اطلاع ملی تو اُس نے ہندوؤ ں کو گھنٹیاں بجانے سے روک دیا۔
دو چار دن کے بعد ہی سی آئی ڈی نے دھماکوں کے لیے کریکر بنانے کی تفتیش شروع کردی اور اس سلسلے میں کچھ اہل کار اُن کے گھر بھی آگئے۔ اُن کے تایا کو پتا چلا تو بہت ناراض ہوئے۔ وہ پاکستان آنے کا ارادہ تو پہلے ہی کرچکے تھے، اِس واقعے نے جلدی آنے پر مجبور کردیا اور وہ تن تنہا ہی ٹرین کے ذریعے اجمیر سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔ جب ۲۸؍اگست کو کراچی پہنچے تو رات ہو چکی تھی۔ اُنھوں نے سٹی اسٹیشن کے قریب ہی ایک بلڈنگ کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر رات بسر کی اور دوسرے دن والد کے ایک دوست کی تلاش شروع کردی۔ وہ مل گئے اور بڑی محبت سے اپنے گھر لے گئے۔ چند دنوں کے بعد نعمت اللہ خان اجمیر واپس گئے اور اپنے چھوٹے بھائی علیم اللہ خان کو ساتھ لے کر کراچی آگئے۔ یہاںاسٹیشن کے ساتھ واقع ایک ہوٹل میں دونوں بھائی رہنے لگے۔ اُنھوں نے اجمیر میں شارٹ ہینڈ اور ٹیلی گرافی کا کورس کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے جلد ملازمت مل گئی۔ کلرکی کی یہ پہلی ملازمت ایک فوجی ادارے میں تھی۔ کچھ عرصے کے بعد اُن کا تبادلہ ایئرفورس ہیڈکوارٹرز، ماڑی پور میں ہوگیا، جہاں صبح ساڑھے سات بجے سے دن ڈیڑھ بجے تک کام کرتے۔ اس کے بعد تین سے پانچ بجے اور پانچ سے دس بجے تک دو جگہ پارٹ ٹائم جاب کرتے۔
جب کچھ آمدنی شروع ہوگئی تو لیاری کے علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر دونوں بھائی رہنے لگے۔ پھر اپنا گھر بنانے کا سوچا۔ اُس وقت مزار ِقائد کا علاقہ خالی تھا اور ہجرت کر کے آنے والے وہاں جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ اس علاقے کا نام ’قائدآباد‘ تھا۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ اس جگہ کو مزار ِ قائداعظم کے لیے مختص کر دیا گیا تھا۔ خان صاحب نے وہیں ایک جھونپڑی بنالی اور اُس میں منتقل ہوگئے۔ علیم خان نے والدہ کو خط لکھا کہ کراچی میں بھائی کو ملازمت مل گئی ہے اور ذاتی مکان بھی بن گیا ہے، اب آپ بھی آجائیں۔ والدہ کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات تھی، چنانچہ وہ بھی بڑی بیٹی کے ساتھ کراچی پہنچ گئیں۔ وہ بڑی خوش خوش آئی تھیں کہ اپنا ذاتی مکان ہے، لیکن جب یہاں آکر مکان کے بجائے جھونپڑی دیکھی تو بڑا دھچکا لگا۔ تاہم، جب اُنھیں حالات کا علم ہوا تو مطمئن ہو گئیں۔ اُس جھونپڑی میں اِس حال میں دن رات بسر ہوتے کہ بارش کے دنوں میں چولہا چارپائی پر رکھ کر کھانا پکانا پڑتا تھا۔ لیکن سب خوش تھے کہ نئے وطن پاکستان میں ہیں۔
نعمت اللہ خان کی داستانِ زندگی قائد آباد کی جھونپڑی میں ایک اور موڑ مڑتی ہے۔اب اُن کے پاس ملازمت ہے، ذاتی مکان ہے اور سب سے بڑی بات، ماں کی دعائیں ہیں۔ بہن بھائی اور ایک بھانجا بھی ہے۔ اطمینان کی یہ دولت پا کر بھی خان صاحب کی نظریں شان دار مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے حصول پر رہیں۔ اس طرح ایک مستقل اور دو جز وقتی ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ آگے بڑھنے کے لیے تعلیم ہی بنیادی زینہ ہے۔ یہاں تک کہ ایم اے، ایل ایل بی اور صحافت میں ڈپلوما بھی کرلیا۔ وکالت کا امتحان پاس کیا تو جزوقتی ملازمت بھی ایک بڑے اور نامور وکیل، بیرسٹر اصغر علی کے دفتر میں اختیار کرلی۔
یہ وکیل صاحب، خان صاحب کی محنت کے ساتھ کام اور قانونی سوجھ بوجھ سے بہت متاثر ہوئے۔ ایک دن اُنھوں نے خان صاحب کو اپنے چیمبر میں بلا کے کہا کہ آپ نے قانون کی ڈگری لے رکھی ہے۔ آپ قانون کی لیاقت اور معاملات کو قانونی طور پر دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اب آپ کو پریکٹس شروع کر دینی چاہیے۔ خان صاحب خاموشی سے سنتے رہے تو وکیل صاحب نے پوچھا کہ ’’آپ کے پریکٹس نہ کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ خان صاحب نے جواب دیا، وکیل صاحب! میرا ایک مستقل اور دو جزوقتی ملازمتیں کرنے کے باوجود ماں، ایک بھائی، بہن اور بھانجے پر مشتمل خاندان کا گزارا نہیں ہوتا تو پریکٹس کیسے کر سکتا ہوں؟ اس کے جمنے کے لیے تو ایک عرصہ چاہیے۔مَیں اپنی یہ ملازمتیں چھوڑ کر پورے گھرانے کے خرچ کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا ہوں؟ اس پر وکیل صاحب نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ ہر انسان کو زندگی میں ایک بار ضرور اپنی قسمت بدلنے کا موقع دیتا ہے۔ آپ کے لیے اب وہ موقع ہے اور یہ آپ پر ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔
تب نعمت اللہ صاحب نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کر لیا کہ وہ اس موقعے سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ چنانچہ انھوں نے دونوں جزوقتی کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرکے وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔ آغاز میں کچھ مشکل کا سامنا ہوا لیکن پھر کام چل نکلا۔ جب کچھ آمدنی شروع ہوگئی تو جھونپڑی کو چھوڑ کر ناظم آباد نمبر دو میں ایک مکان کرائے پر لے لیا۔ اس طرح ایک دو اور مکان بھی بدلنے پڑے۔ جب ۱۹۶۷ء تک پریکٹس کا کام پوری طرح جم گیا تو اپنا پلاٹ خرید کر اس پر مکان بنانے کا فیصلہ کیا اور نارتھ ناظم آباد میں لب ِ شاہراہ ۱۸۰۰ مربع گز کا پلاٹ ۱۹ہزار روپے میں خریدا اور اس پر مکان بنوا لیا، جو سارے بہن بھائیوں کا مشترکہ گھر تھا۔
نعمت اللہ خان صاحب کے جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے بعد یہ گھر جماعت کے بڑے کام آیا اور کئی عشرے تک اس کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ دَوروں پر آنے والے جماعت کے قائدین کی قیام گاہوں کے لیے بھی یہی بنگلہ استعمال ہوتا رہا۔ خان صاحب ان مہمانوں کی میزبانی کو اپنے لیے اعزاز اور خوش قسمتی سمجھتے تھے۔ سیّد منور حَسن صاحب کی ۱۹۷۴ء میں شادی ہوئی تو وہ بھی کافی عرصے تک اسی گھر کی بالائی منزل کے دو کمروں میں قیام پذیر رہے۔ جماعت کے کارکنوں کے اجلاس اور سیاسی رہنماؤں کے اعزاز میں ناشتے، ظہرانے اور عشائیے بھی اسی بنگلے میں ہوتے رہے۔ خان صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اس بنگلے کو فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم شریعت کے مطابق اپنے ورثا میں تقسیم کر دی تھی اور اپنے بیٹے ندیم اقبال کے ڈیفنس کے بنگلے میں منتقل ہوگئے تھے۔ انھوں نے زندگی کے آخری سال اسی بنگلے میں گزارے۔