ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انقلابیتِ توحید
توحید اسلام کا وہ انقلابی اصول ہے جو اپنی صداقت، جامعیت ،عالم گیریت اور عملیت کی بنا پر تاریخ انسانی میں منفرد مقام رکھتا ہے۔اس ایک کلمہ نےانسانی تاریخ کے ہر دور میں، دورِابراہیمیؑ سے لے کر دورِ نبویؐ تک انسانوں کی تعمیرِ شخصیت اور تہذیب معاشرہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔توحید اسلام کا سنگ بنیاد ہے۔ ایک باشعور مسلمان کی زندگی کا انفرادی پہلو ہو یا اجتماعی، معاشرتی ہو یا سیاسی، یہ وہ رنگ ہے جو ہر سرگرمی پر حاوی نظر آتا ہے۔جس نے اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگ لیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ یہ رنگ بندگی میں ظاہر ہوتا ہے ،یعنی ایک انسان کس کا بندہ ہے ؟ کیا وہ مال کا بندہ ہے یاشہرت و اقتدار کا ؟
مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ مغرب کی مرعوبیت نے مسلم سربراہان کے دل و دماغ میں صرف ایک خیال کو جاگزیں کر دیا ہے کہ وہ مغربی سامراج کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر کے ترقی اور عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے وسائل مغربی ممالک کے حوالے کر دیے ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں ان کا استعمال کریں۔ نہ صرف مادی وسائل بلکہ ان کا نظام تعلیم ، نظام معاشرت ، نظام حکومت و معیشت ہر چیز مغربی سیاست کاروں کے اختیار میں دے دی گئی ہے۔ وہی ان کا ملکی دفاع دیکھتے ہیں ،وہی معیشت اور ثقافت کے بھی رکھوالے ہیں۔ اس صورتِ حال میں تحریکات اسلامی کی ذمہ داری میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کے جامع تصورِ دین کو کسی لگی لپٹی کے بغیر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے حکمت کے ساتھ پیش کریں۔ حکمتِ دعوت کا تقاضاہے کہ تحریک اسلامی نہ صرف اپنے نصب العین بلکہ اپنے دعوتی طریقِ کار کے امتیاز کو برقرار رکھے اور ان ذرائع سے اجتناب کرے جو اس کے دینی تشخص اور تحریکی پہچان کو متاثر کر سکتے ہیں۔