مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مصنوعی ذہانت: منفی پہلو اور نقصانات

’ اے آئی‘ کے پھیلاؤ سے کسی خوف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہر ٹکنالوجی کے اچھے اور برے استعمالات ہو سکتے ہیں، انٹرنیٹ اور ’اے آئی‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم، اس ٹکنالوجی کے بعض ایسے نقصانات ہو سکتے ہیں جو ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے، ان کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم ان کا کچھ ذکر کرتے ہیں:

یہ تو سب جانتے ہیں کہ ’اے آئی‘ کا ایک نہایت غلط استعمال اس کے ذریعے کسی شخص کی آواز اور شکل کو استعمال کرتے ہوئے اس سے ایسے بیانات یا ایسی حرکات کو منسوب کر دینا ممکن ہوگیا ہے، جو نہ تو اس کے اپنے الفاظ و افکار ہوں اور نہ اس کی اپنی حرکات وسکنات ہوں۔ اس کے ایسے ہی استعمال کو ایڈوانس امیجنگ کے ذریعے ترقی دی جارہی ہے، اور اس میں ’میٹا اے آئی‘ سر فہرست ہے۔ یہ کسی انسان کی شکل کے تاثرات کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہے، جس کی بنا پر دیکھنے والے کی اصل شخصیت کا کوئی پہلو چھپا دینا اور کوئی دوسرا پہلو اُبھار دینا یا کوئی اور پہلو شامل کر دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ مثلاً، مارک زیکربرگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’میری مسکراہٹ بہت زیادہ جاذب نظر نہیں، لیکن ’میٹا اے آئی‘ کی مدد سے میں اسے ابھار کر جاذبِ نظر بناسکتا ہوں۔ اس طرح کی ٹکنالوجی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے لوگوں کو کسی شخصیت کے بارے میں اصل حقائق سے اندھیرے میں رکھا جاسکے گا۔

انٹرنیٹ پر، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیرمعیاری اور گمراہ کن مواد کی بہتات ہوگئی ہے اوراب یہ پہچاننے کے لیے خاصی مہارت درکار ہوتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟

’اے آئی‘ اب اس دھوکا دہی کو مزید بلندی پر لے جا رہا ہے۔ اس شعبےکے ایک ماہر ڈاکٹر زاہد محسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ عین ممکن ہے، کہ کسی معروف شخصیت کی شکل اور آواز میں ’اے آئی‘ کی تیار کردہ جعلی شخصیت کو استعمال کر کے ایسا مواد انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا جائے جس میں اس کی فکر کو ہی نہیں بلکہ تعلیمات ہی کو مسخ کر کے گمراہی کا ایک ذریعہ بنا دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اس شخصیت سے عقیدت و احترام کا رشتہ رکھنے والے اس سب کچھ کو اسی کی آواز اور اسی کا پیغام سمجھ کر گمراہ ہوتے رہیں گے۔

انٹرنیٹ پر اسلام دشمن حلقوں نے قرآن کے تحریف شدہ نسخے جاری کیے، جن کی خاصی حد تک کامیابی سے نشاندہی کر لی گئی۔ تاہم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے گھڑی ہوئی روایات کواحادیث کے طور پر عام کرنے کے کام کو مکمل طور پر روکا نہ جا سکا اور اچھے خاصے صاحبِ علم لوگ بھی ایسے من گھڑت اقوال کو حدیث سمجھ کر بلا تحقیق ان کا پرچار کرتے اور آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔ ’اے آئی‘ کے دستیاب ہو جانے سے یہ جنگ اب اور مشکل ہوجائے گی اوراسی لحاظ سے حقائق کی مدافعت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔

مدافعت کی ایک صورت تو مسلسل انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے مواد پر نظر رکھنے کی صورت ہے اور اس سلسلے میں ہمارے اداروں کو مستعدی سے کام کرنا ہوگا۔ حکومتی سطح پر جہاں ملک مخالف اور فوج مخالف سرگرمیوں اور مواد کی نشاندہی اور اس کے سدباب کے لیے کام کیا جارہا ہے، وہاں دین کے بارے میں گمراہ کن اور اخلاقی طور پر مضر مواد کی روک تھام کے لیے بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق سائنس میں تحقیق کا حال یہ ہے کہ سات میں سے ایک اشاعت میں ڈیٹا جعلی ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعےہونے والی اس کرپشن کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس موضوع پر امریکا میں نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی آف الینوائے میں ایک تحقیق ہوئی۔ جس کے بارے میں درج ذیل بیان ڈی ڈبلیو نیوز (ایجیئس میتھیو وارڈ) سے ماخوذ ہے۔

سائنسی پبلشنگ گروپس بھی اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور جعلی تحقیق کی نشاندہی کرنے اور اسے واپس لینے کے لیے نئے طریقے بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک بڑے پبلشر، اسپرنگر نیچر نے ۲۰۲۴ء میں اپنی اشاعتوں سے ۲ہزار ۹سو مضامین کو واپس لے لیا تھا۔ لیکن ان جعلی دستاویزات کو واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ اسی دوران غیرمعیاری سائنسی مضامین کی اشاعت ہو چکی ہے۔

ابالکینا اور رچرڈسن جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل بالآخر اس بات سے آتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کی قدر کیسے کی جاتی ہے؟ سائنسی ملازمتیں اور فنڈنگ سائنسی اشاعت پر منحصر ہیں۔

رچرڈسن نے کہا: ’’وسائل کی (کمی) کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جب آپ پر سائنسی (اشاعتوں) کو شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو آپ کے پاس حقیقت میں دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو آپ سائنسی فریب سے کام لیتے ہیں، یا پھر سائنس پر کام ترک کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں دسیوں ہزار سائنس دان مبتلا ہیں‘‘۔ اسی لیے رچرڈسن نے کہا کہ ’’فریب پر مبنی ایسی اشاعتوں کی روک تھام کا بہترین حل یہ ہے کہ اشاعتوں کی تعداد اور اس طرح کے حوالہ جات جیسے تحقیقی تشخیص کے تمام پیمانوں (میٹرکس) کو ختم کر دیا جائے‘‘۔

اس صورتِ حال سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تصورسازی (پرسیپشن مینجمنٹ) جس نے پہلے ہی ہماری سوچ اور فکر کو جدید طریقوں کے ذریعے محدود و مقید کر دیا ہے، ’اے آئی‘ کے اس قسم کے استعمالات سے ہماری فکرمزید پا بہ زنجیر ہو جائے گی۔ اس سے ’تخلیقی سوچ‘ متاثر ہوگی۔ یہ بھی ’برین راٹ‘ (Brainrot)کے عمل کا ایک جز ہے۔ ’برین راٹ‘ پچھلے برس کے دوران سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے اور ۲۰۲۵ءمیں اسے اوکسفرڈ ڈکشنری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ’برین راٹ‘ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جس کا بالواسطہ ایک گہرا تعلق ’اے آئی‘ کے استعمال میں اضافے سے ہے۔ ’اے آئی‘ معلومات کا ایک خزانہ پیش کرتا ہے، جو آپ سے چند کلک کے فاصلے پر موجود ہے، تاہم معلومات سے علم تک پہنچنے کے سفر میں ’اے آئی‘ آپ کا معاون ہو سکتا ہے بشرطیکہ آپ ذہانت کی اس سطح پر ہوں، جہاں آپ ’اے آئی ٹولز‘، مثلاً چیٹ جی پی ٹی یا ڈیپ سیک کو استعمال کر سکتے ہوں۔ ورنہ ’اے آئی ٹول‘ دراصل اپنے علم میں اضافے کے لیے آپ کو استعمال کریں گے اور آپ کے لیے کم ہی مفید ثابت ہوں گے۔

ہمارا اندازہ ہے کہ ’جنریشن زی‘ کے مقابلے میں ’جنریشن وائی‘ علم کی وسعت، گہرائی اور آئی کیو میں زیادہ بہتر سطح پرہیں۔ غالباً، ’جنریشن ایکس‘ اور کسی حد تک بے بی بومر جنریشن بھی ایک بہتر مقام پر ہیں۔ کیونکہ ان نسلوں نے علم کے دیگر ذرائع سے بھی استفادہ کیا اور دورِ حاضر کی سائبرسپیس اور ’اے آئی‘ سے بھی مستفید ہوئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پچھلی صدی تک آئی کیو کی سطح ہرنسل میں دو سے تین پوائنٹ بڑھتی رہی، جب کہ پچھلے تقریباً بیس برسوں سے آئی کیو کا بڑھاؤ یا تواپنی سطح مرتفع پر پہنچ کر رُک گیا ہے یا کئی ممالک میں اس نسبت سے تنزلی آئی ہے، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس تحقیق کے روح رواں فلین کے نام پراسے ’فلین ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔