ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
رمضان، عید اور اُمت کی حالت ِ زار
[ڈاکٹر یوسف القرضاوی | مارچ ۲۰۲۶ | رمضان المبارک] ہم رمضان کے دنوں اور قرآن کی تلاوت کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہر اس چیز کا اختتام ناگزیر ہے جس کا آغاز ہوا ہو۔ جس کی ابتدا ہو اس کی انتہا بھی ہوتی ہے، البتہ پاک ہے وہ ذاتِ اول جس سے پہلے کچھ نہیں، اور وہ ذاتِ آخر جس کے بعد کچھ نہیں، اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
دن بادلوں کی طرح کتنی تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ بادلوں کی طرح ہی نہیں بجلی جیسی تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں، اور یہ تمام دن ہماری عمر کا حصہ ہیں، ہماری کتابِ زندگی کے صفحات ہیں جو پلٹتے جاتے ہیں اور اختتام قریب آتا جاتا ہے۔
حسن بصری نے جیساکہ فرمایا: اے ابن آدم، تو حقیقت میں ایام کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر گیا تو تیرا ایک حصہ بھی کھو گیا۔
لہٰذا یہ دن جو گزر رہے ہیں وہ ہمارا حصہ ہیں، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے یہ دن اور راتیں اس کی نیکیوں کے ترازو میں ہوں، اس کی برائیوں کے ترازو میں نہ ہوں۔ ہم میں سے خوش نصیب وہ ہے جس کے حق میں رمضان گواہ بن جائے، اس کے خلاف گواہی نہ دے، اس کے حق میں شفاعت کرنے والا ہو، اس کی شکایت کرنے والا نہ ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب، میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا (یعنی قیام اللیل کی وجہ سے)، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما‘‘۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی‘‘ (حاکم،۱/۵۵۴ مسلم کی شرط پر صحیح)۔ لہٰذا خوشخبری ہے اس کے لیے قرآن اور رمضان جس کی شفاعت کرنے والے ہوں گے۔
کچھ لوگ پورا ماہِ رمضان اپنا تعلق اللہ سے جوڑے رکھتے ہیں، لیکن رمضان ختم ہوتے ہی وہ اپنے اور اللہ کے درمیان اس تعلق کو توڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہمیشہ کہتے ہیں: جو شخص رمضان کی عبادت کرتا تھا تو رمضان مر چکا ہے، یا مرنے کے قریب ہے، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ زندہ و قائم ہے اسے موت نہیں۔ سلف کہا کرتے تھے: بُرے لوگ ہیں وہ جو اللہ کو صرف رمضان میں پہچانتے ہیں، لہٰذا ربانی بنو رمضانی نہ بنو، موسمی فرماں بردار نہ بنو کہ سال کے ایک مہینے میں اللہ کو پہچانو، اور باقی سارا سال اس کو بُھولے رہو۔
قبولیتِ رمضان المبارک کی علامت یہ ہے کہ نیکیوں پر استقامت اختیار کی جائے اور اطاعت و فرماں برداری کو مستقل شعار بنا لیا جائے۔ اللہ نے رمضان صرف اس لیے واجب کیا کہ ہم اس سے دلوں کی بیٹریاں چارج کر لیں، کیونکہ بیٹریاں خالی ہو جاتی ہیں، اور انھیں دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان اس لیے آتا ہے کہ ہم روزے، قیام، ذکر، تلاوتِ قرآن، اجتماعی دروس قرآن اور دروسِ رمضان سے اپنی بیٹریاں چارج کر لیں۔رمضان میں چارج شدہ بیٹری ہمیں اگلے گیارہ مہینوں تک فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔ لہٰذا اگر رمضان گزر جائے اور ہماری بیٹری خالی ہو، تو اس صورت میں رمضان ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔