ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تحریکی تشخص
توحید سادہ الفاظ میں ان تمام خداؤں کا انکار کرنے کا نام ہے ،جنھیں ہم شخصی قبولیت کی مرکزیت کا نام دیتے ہیں۔ عوامی تحریکات کی کامیابی کا انحصار قیادت کے کرشماتی ہونے کے ساتھ اس کا ہر معاملہ پر حاوی ہونا اور ہر معاملہ میں حرفِ آخر ہونا ہے اور اس کی دانش کے بغیر کسی کام کا نہ ہونا عوامی تحریک کی پہچان ہوتا ہے۔ ایک ہی لیڈر خود تحریک ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی تحریک کو شورائی مزاج عطا فرمایا اور مسلسل مشورہ کے ذریعے آراء کو وحدت اور حکمت عملی کو متحدہ رُخ عطا کیا۔
تحریک اسلامی مقصد حیات اور دعوت کو مرکزیت دیتی ہے۔ جب غزوۂ احد کے دوران یہ افواہ اڑی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وہی بات کہی جو بعدازاں آپؐ کے وصال پر دُہرائی کہ اگر رسولؐ مر جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ زندہ و قائم ہے۔ اس لیے قائد کے نہ ہونے سے دعوت کی جدوجہد میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے۔ اس واقعے سے نہ صرف حضرت ابوبکر ؓکے دینی فہم کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ اصول بھی نکلتا ہے کہ اقامت دین میں صرف مقصد کو مرکزیت حاصل ہے۔
توحید بلا شرکت غیرے حاکمیت الٰہی کا نام ہے۔ <<اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ ۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (یوسف۱۲:۴۰)>> ’’فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے‘‘۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی حاکمیت مسجد میں رب کریم کو اعلیٰ، اکبر، اعظم کہنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ نشست و برخاست، کھانے پینے، پہننے، اُوڑھنے اور خاموشی و گفتگو میں اللہ و رسولؐ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ اجتماعی معاملات میں اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھنا اور اپنی ذاتی رائے کے باوجود دوسروں کی تجویز کو ترجیح دینا اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کا تحفظ و دفاع کرنا حاکمیت الٰہیہ ہی کے اثرات ہیں۔ اگر دنیا کے تمام سیاسی حکمت عملی کے ماہرین یہ کہتے ہوں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نمائشِ ذات وہ ذریعہ ہے جس سے ایک اخلاقی انقلاب لایا جا سکتا ہے، تو ان تمام دانش وَرانہ باتوں کو رَد کرنے کا نام توحید ہے۔ کیونکہ استعانت، سعادت، فتح اور سربلندی کی کلید اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے تعلق میں پختگی ،اس کے حضور ہمہ وقت حاضری، مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام، اپنی ذات کو پس پشت ڈالنا اوررب کے احکامات کو جیسے کہ وہ ہیں ماننا، اور نافذ کرنا توحید کا تقاضا ہے۔
شخصیت کے اندر توحیدی روح کا مطلب اپنے تمام معاملات کو ربّ کریم کی اطاعت میں دے کر اپنی تمام صلاحیتوں کو خلوصِ نیت کے ساتھ کردار اور تعمیر سیرت میں لگا دینا ہے۔ یہ کام محنت طلب اور صبر آزما ہے۔جس جماعت کو مدینہ میں اسلامی نظام عدل قائم کرنا تھا وہ مکہ کے تیرہ برسوں کی آزمائش اور مدینہ کے ۱۰ سالہ دور میں مشقت سے گزرنے کے بعد اس قابل ہوئی کہ آئندہ نصف صدی وہ نظام جوں کا توں برقرار رہ سکا۔
ایسی شخصیت سکون اور عاجزی کے ساتھ قرآن کریم اور سیرت پاک سے گہرے تعلق اور ان کے اوامر و نواہی کو جوں کا توں عملاً نافذ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی ایک کارکن ہو یا قائد جائزہ لے کر دیکھا جائےکہ وہ روزانہ قرآن سے کتنا استفادہ کر رہا ہے؟ سیرت پاک سے کیا رہنمائی حاصل کر رہا ہے ؟کیا وہ ہرروز اپنا احتساب کر رہا ہے؟ کیا انفرادی اور اجتماعی انقلاب سیرت کے قرآنی اور نبوی اصولوں کو اختیار کر رہا ہے یا غیرمحسوس طریقے سے زمانے کے رجحان اور چلن کو اختیار کر رہا ہے ؟