ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
۱- مغربی فکر کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟
سردست یہ بات غیرضروری ___ بلکہ بعض کے نزدیک گمراہانہ ہوسکتی ہے کہ مسلمان مغربی سماجی نظریات کا مطالعہ کریں۔ اگر اسلامی تعلیمات زندگی کے تمام پہلوئوں پر جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور اگر مغربی فلسفے اُن لادینی اُصولوں پر مبنی ہیں جو عموماً اسلامی اقدار سے متصادم ہیں، تو پھر ایسی فکری روایت کا مطالعہ کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے جس کی خامیاں پہلے سے واضح ہیں؟
یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن ایک نہایت اہم حقیقت کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ مغربی فکر صرف ایک عقلی نظریاتی نظام نہیں، بلکہ جدید دنیا کا معمار ہے۔ وہ ادارے، قوانین، معاشی ڈھانچے اور تعلیمی نظام جن کے ہاتھوں میں آج مسلم دنیا کی لگام ہے، ان سب کی بنیاد ان افکار پر ہے جو یورپ کے تاریخی تجربات کی کوکھ سے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا، کسی حقیقی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ان نظریات کو سمجھا جائے۔اس ضرورت کی کم از کم چار بنیادی وجوہ ہیں:
الف: عالمِ اسلام میں نوآبادیاتی اداروں کی گہری بنیادیں
یورپی نوآبادیات نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ مسلم معاشروں کے ادارہ جاتی ڈھانچوں کو اَزسرِ نو تشکیل دیا۔قانونی اصول و ضوابط بدلے گئے، تعلیمی نظام نئے سانچوں میں ڈھالے گئے، بیوروکریسی کے نئے طریقے متعین کیے گئے، اور معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو مرتب کیا گیا۔ اور یہ سب مغربی معیارات کے مطابق تشکیل دیا گیا۔آزادی کے بعد بھی یہ ادارے جوں کے توں برقرار رہے۔ ان کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی طرف ذرّہ برابر توجہ نہیں کی گئی۔
اصل بات یہ ہے کہ ادارے کسی معاشرے کے اجتماعی مقاصد کو عملی صورت دیتے ہیں، اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اختیار کس کے پاس ہو، وسائل کس سمت کا رخ کریں، اور نظم کس کے مفاد میں قائم رہے؟ نوآبادیاتی دور میں جو ادارے یہاں قائم کیے گئے، ان کا بنیادی مقصد ’وسائل اور محاصل کا اخراج‘ تھا یعنی ایسا انتظام جس کے ذریعے پیداوار، زمین اور محنت کے ثمرات نوآبادیاتی حکمرانوں تک منتقل ہوں۔ آزادی کے بعد ان اداروں کا رخ کم و بیش وہی رہا۔ اب محاصل اور وسائل کا بہاؤ بیرونی حکمرانوں کے بجائے اندرونی اشرافیہ (خصوصاً وہ طبقہ جو انھی اداروں کے اندر تربیت پاتا اور انھی کے ذریعے اقتدار پاتا ہے) کی طرف ہوگیا۔ ان اداروں کے مقاصد سے آگاہ ہوئے بغیر جب تک انھی کے سانچوں میں رہتے ہوئے ’اصلاح‘ کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، اسلامی اہداف کا حصول محدود یا بے معنی رہے گا۔ حقیقی اصلاح کا آغاز تو درست تشخیص سے ہوتا ہے۔
ب: سماجی نظریات اور اداروں کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت
سماجی نظریات کا کام فقط تفہیمِ عصر حاضر میں معاونت کرنا نہیں ہے۔ وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ترقی کا معیار کیا ہے، کون سے نتائج مطلوب ہیں، اور کن ذرائع کو جائز سمجھا جائے گا؟ مثال کے طور پر مغربی معاشیات میں اکثر اوقات بنیادی مقصد ’تکثیرِ افادہ‘ یا ’شرحِ نمو‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ تصور ایسے ادارے پیدا کرتا ہے، جو انھی اہداف کی خدمت کرتے ہیں، جیسے بینک اور اسٹاک مارکیٹیں وغیرہ۔ جب یہ ادارے عوام کی رگ و پے میں سرایت کر جاتے ہیں، تو رفتہ رفتہ رویّے، توقعات اور اقدار بھی انھی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہیں۔
اسلامی اقدار کا رخ بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں دولت امانت ہے، ملکیت نہیں۔ معاشی سرگرمی کا مقصد عدل، باہمی منفعت اور سماجی فلاح ہونا چاہیے۔ اسلامی تہذیب کے ادارے زکوٰۃ، وقف، اخلاقی تجارت انھی اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہداف ان اداروں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے، جو سیکولر اور انفرادی مفادات کے حصول کے لیے بنے ہوں۔
آج کل کی غالب معاشی پالیسیوں میں کامیابی کا معیار عموماً مجموعی پیداوار اور دولت کے حجم میں اضافے کو سمجھا جاتا ہے ،جب کہ دولت کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ضروریات کی فراہمی، اور کمزور و محروم طبقات کے حالات پس منظر میں رہتے ہیں۔اس کے برعکس اسلام میں معاشرہ اپنے ہر فرد کی کفالت کا اجتماعی طور پر ذمہ دار ہے، اور کسی نظام کی جانچ اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کتنے لوگ بھوک، محرومی اور عدمِ تحفظ کا شکار رہے، اور یہ کہ وسائل عدل کے ساتھ پھیلے یا چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے۔
اس رُخ کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ موجودہ معاشی نظام کن نظریات، معیارات اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے ہمارے اجتماعی شعور اور عملی فیصلوں کو ایک خاص سمت میں دھکیل رہا ہے۔ مغربی معاشیات اور اس سے وابستہ اداروں کا مطالعہ اسی تشخیص کے لیے ضروری ہے تاکہ اصلاح کی کوششیں محض نیک نیتی کا اظہار نہ رہیں، بلکہ درست ہدف کا رُخ کریں۔
ج:منزل کے شعور سے حکمتِ عملی تـک: پہلا عملی قدم
عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکوں میں عموماً منزلِ مقصود کی تعیین و تو ضیح کی جاتی ہے۔ یعنی اس بات کے اظہار پر زور دیا جاتا ہےکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کیسا ہونا چاہیے؟ اس کے اصول، خدوخال اور ثمرات کیا ہوں گے؟ یہ زور بجا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے مقصد کا واضح ہونا ناگزیر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی برابر اہم ہے: ہم موجودہ حالات سے اُس منزل کی طرف پہلا قابلِ عمل قدم کیسے اٹھائیں؟ محض نقشۂ منزل کافی نہیں، راستے کی عملی ترتیب اور ابتدا کی سمت بھی متعین ہونی چاہیے۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے خلافت کی بحالی کی دعوت ایک عمدہ مثال ہے۔ اس کے حامیان اس کی شرعی بنیادوں اور تاریخی افادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ پہلو اپنی جگہ اہم ہے، مگر آج کی دُنیا میں اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اس سمت بڑھنے کے ابتدائی عملی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں؟ آج امت سیاسی سرحدوں، ریاستی مفادات، اور قومیت کے سانچوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس منتشر صورتِ حال کو نظرانداز کر کے وحدت کی کوئی بھی عملی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ وحدت کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب ہم رکاوٹوں کو دُور کرنے کے لیے تدریجی اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں۔
اس تناظر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید قومی ریاست کا وہ تصور ہے، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیاد بن چکا ہے اور جس نے مسلمانوں کے اجتماعی شعور اور سیاسی امکانات کو سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسی فکری اور ادارہ جاتی صورتیں تلاش کریں، جو ان حد بندیوں سے بلند ہو کر امت کے باہمی ربط اور تعاون کو مضبوط کریں، مثلاً علمی مکالمہ، مشترکہ عوامی شعور کی تشکیل، باہمی تعاون کے سلسلے، اور مشترکہ مقاصد پر عملی اشتراک۔ عويمر انجم کی اُمّاتکس جیسی کاوشیں اسی سمت اشارہ کرتی ہیں کہ آج وحدت کا سوال نئے فکری سانچوں اور نئے عملی راستوں کا متقاضی ہے۔
یہاں اصلاح کے باب میں ایک بنیادی امتیاز کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ ہے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فرق۔ منصوبہ بندی میں منزل متعین کر کے وہاں تک پہنچنے کے مراحل ترتیب دیے جاتے ہیں، مگر حکمت عملی اس وقت ناگزیر ہو جاتی ہے جب راستے میں فعال مزاحمت موجود ہو، یعنی ایسے مفادات، ادارے اور طاقت کے مراکز جو تبدیلی کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِ عمل دکھائیں۔ یہ شطرنج کی بساط کی مانند ہے، اپنی چال سوچنا کافی نہیں، بلکہ مخالف کی ممکنہ چالوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔اسی لیے حقیقی اصلاح کا آغاز صرف اس سوال سے نہیں ہوتا کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، طاقت کے مراکز کہاں ہیں، اور موجودہ نظام کن فکری مفروضات اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے خود کو قائم رکھے ہوئے ہے؟ جب تک جدید بندوبست بالخصوص ریاست، معیشت اور علم کے مغربی سانچوں کی قوت و کمزوری کی درست تشخیص نہ کی جائے، نہ کوئی مؤثر منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ قابلِ عمل حکمت عملی۔ اسی لیے مغربی فکر اور موجودہ نظام کا مطالعہ محض نظری مشغلہ نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی اور ناگزیر ضرورت ہے۔
د: تعلیم کے تقاضے اور حکمتِ عملی
جدید تعلیمی نظام عموماً اس نہج پر استوار ہے کہ وہ مغربی سماجی علوم کو ’معروضی‘، ’قدر سے ماورا‘ اور ’آفاقی حقیقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس عمل میں طلبہ صرف چند نظریات یا اصطلاحات نہیں سیکھتے، بلکہ رفتہ رفتہ ایک خاص تصورِ علم بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ ایسا تصور جس کے تحت اجتماعی زندگی کی تشکیل مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک نام نہاد غیرمذہبی ’عقل‘، تکنیکی مہارت اور پالیسی ساز اداروں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ اسی ذہنی سانچے میں اسلامی متبادل اکثر یا تو محض ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے، یا مغربی اداروں پر ایک سطحی سا ’اسلامی ملمّع‘ چڑھا دینے کی کوشش۔
اس فکری گرفت سے نکلنے یعنی حقیقی فکری آزادی اور تخلیقی متبادل کی صلاحیت پیدا کرنے کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ مغربی نظریات کو ان کے تاریخی پس منظر میں سمجھا جائے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یورپ میں یہ تصورات کن حالات میں ابھرے (مذہبی تنازعات، کلیسائی اقتدار، ریاستی تشکیل، سرمایہ داری کا فروغ، اور ایک ’سیکولر‘ اجتماعی نظم کی جستجو) تو ’آفاقیت‘ کا طلسم خود بخود ٹوٹنے لگتا ہے۔ نظریات ’ہمیشہ کے لیے سچ‘ نظر آنے کے بجائے اپنے عہد کے مخصوص سوالات کے جوابات بن کر سامنے آتے ہیں۔ اسی تاریخی شعور سے یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ بہت سے مغربی حل ہماری اجتماعی صورتِ حال پر جوں کے توں لاگو نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں علم اور وحی کے درمیان وہ تصادم کبھی اسی صورت میں موجود نہیں رہا جس کی وجہ سے یورپ میں ’لادینی نظمِ اجتماع‘ ناگزیر شکل اختیار کر گیا۔
اسی لیے تعلیم کا بنیادی فریضہ یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ کو تربیت دی جائے کہ وہ نظریات کو تاریخی تناظر میں پرکھ سکیں، ان کے اخلاقی اور سیاسی مفروضات کو پہچانیں، اور یہ سمجھ سکیں کہ وہ کن اداروں اور کن عملی نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نصاب سازی اور نئے علمی بیانیوں کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔ ایسے بیانیے جو اسلامی نقطۂ نظر کو محض ردِّ عمل یا تقلید کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خود مختار، اصولی اور ہمہ گیر فکری نظام کے طور پر پیش کریں، اور اسی بنیاد پر ادارہ سازی کی راہیں ہموار کریں۔
سیاسی اور سماجی حکمتِ عملی بھی اسی فکری پختگی پر قائم ہوتی ہے۔ پائیدار اصلاح نہ محض خواہش سے جنم لیتی ہے اور نہ محض مذمت سے۔ اس کے لیے درست تشخیص، تدریجی پیش رفت، اور صبر آزما ادارہ جاتی عمل درکار ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسے ادارے کیسے تشکیل دیں جو اسلامی مقاصد یعنی عدل، کفالت، امانت اور فلاحِ عامہ وغیرہ کو جدید دنیا کی پیچیدگیوں میں بھی مؤثر صورت دے سکیں؟
اسی زاویۂ نظر سے کتاب کے آئندہ ابواب میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ مسلمان مفکرین نے مختلف ادوار میں کس طرح ایک ایسی اسلامی معیشت کی تشکیل کی کوشش کی، جو شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور عصرِ حاضر کے عملی تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ یہ فکری سفر تین بڑے مراحل یا نسلوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے تاریخی سیاق میں اسلامی معاشیات کی تعمیر میں حصہ ڈالا اور مستقبل کے لیے اہم اسباق چھوڑے۔