ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دوسری نسل (۱۹۷۵ء- ۲۰۰۸ء)
جب عمل کے میدان میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی کی راہ مسدود نظر آئی تو بہت سے اہلِ علم اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج اصلاح کی جائے۔اس منہج کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ’اسلامی معاشیات‘ کو ’سرمایہ دارانہ معاشیات‘ کی ایک ’اصلاحی صورت‘ میں ڈھالا جاسکتا ہے: جو اجزا اسلام سے ہم آہنگ ہوں انھیں قبول کر لیا جائے جو جزوی تعارض رکھتے ہوں ان میں مناسب ترمیم کی جائے، اور جو صریحاً خلافِ شریعت ہوں انھیں ترک کر دیا جائے۔ یہ راستہ بظاہر اس لیے بھی قابلِ عمل دکھائی دیتا تھا کہ جدید معاشیات نے صدیوں کی ریاضت سے بہت سا علمی و فنی مواد، تجزیاتی آلات، ادارہ جاتی تجربات اور فنی مہارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ چنانچہ ’اَزسرِ نو تعمیر‘ کے بجائے ’اصلاح و تطبیق‘ کو زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی سمجھا گیا۔ اسی دور میں اسلامی بنکاری اور مالیاتی اداروں کی متعدد صورتیں سامنے آئیں۔
تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ اس منہج کی حدود بھی نمایاں ہونے لگیں۔ جدید معاشیات کے بعض بنیادی مگر دقیق مفروضات مثلاً منفعت کو مرکزی محرک ماننا، فرد کو بنیادی اکائی سمجھنا، اور اداروں کو منافع کے تابع رکھنا اکثر صورتوں میں جوں کے توں برقرار رہے۔ نتیجتاً کئی اصلاحات ظاہری صورت سے آگے نہ بڑھ سکیں اور اصل روح پوری طرح منتقل نہ ہو سکی۔دوسری طرف خود سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی بحران بالخصوص ۰۸-۲۰۰۷ء کے عالمی مالیاتی بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے آشکار کر دی کہ ’’مسئلہ محض جزوی اصلاحات کا نہیں، بلکہ نظام کی ساخت اور بنیادوں سے جڑا ہوا ہے‘‘۔