ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جماعت اسلامی میں شمولیت
نعمت اللہ خان جماعت اسلامی میں کیسے اور کب شامل ہوئے اور مسلم لیگ کے کارکن اور نیشنل گارڈ سے جماعت تک ان کا سفر کیسے طے ہوا؟ یہ تفصیل دلچسپ ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں جماعت اسلامی کے کارکن کسی کو جماعت میں لانے کے لیے کتنی مستقل مزاجی اور صبر وتحمل سے کام کرتے تھے۔ اس کہانی کا آغاز قائدآباد کی جھونپڑیوں پر مشتمل بستی سے ہوتا ہے۔ اُس وقت وہاں بڑی تعداد میں ہندستان سے ہجرت کر کے آنے والے پاکستانیوں کے خاندان رہتے تھے۔ اُن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی تھے، جن میں سابق رکن سندھ اسمبلی افتخار احمد، رجب علی شیخ، اعظم ترکستانی اور ندیم اللہ حُسینی نمایاں تھے۔ اُس وقت جماعت اسلامی، سندھ اور کراچی کا حلقہ ایک تھا اور چودھری غلام محمدصاحب اُس کے امیر تھے۔ اُس بستی کے کارکنوں نے جماعت کا نظم بھی بنا لیا تھا اور اُن مہاجرین میں جماعت کی دعوت، اُس کی کتب اور کتابچے دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔
خان صاحب نے ایک بار یہ تفصیل خود بیان کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھ سے جماعت کے جس کارکن نے سب سے پہلے رابطہ کیا، جماعت کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی اور پڑھنے کے لیے مولانا مودودیؒ کے کتابچے اور کتب دیں، وہ افتخار احمد تھے۔ وہ اِس قدر نفیس انسان اور مستقل مزاج کارکن تھے کہ وقت لے کر آتے تھے اور جماعت کا تعارف کراتے پھر ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے کو کہتے۔ پہلے تو مَیں نے اُنھیں ٹالنے کی بڑی کوشش کی، لیکن وہ برابر آتے رہے۔ میں شروع میں لٹریچر لینے سے بھی کنّی کتراتا رہا، لیکن جب بار بار اصرار ہوتا تو لے کر رکھ لیتا تھا اور پھر پڑھے بغیر کچھ دن بعد واپس کر دیتا۔ لیکن افتخار بھائی نے بھی ہمت نہیں ہاری اور مجھ سے رابطہ اور تعلق برابر جاری رکھا۔ یہ صورت حال کافی عرصے تک جاری رہی۔
میری اِنکم ٹیکس پریکٹس مرحلہ وار کامیاب ہو رہی تھی۔ ایک دن وقفے میں بار ایسوسی ایشن کے دفتر گیا تو دیکھا کہ ایک وکیل صاحب بڑے انہماک کے ساتھ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں، جو قانون کی نہیں لگ رہی تھی۔ مجھے تجسس ہوا، اُن سے پوچھوں کہ یہ کون سی کتاب ہے؟ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے، اس لیے ان سے کتاب کے بارے میں پوچھ لیا۔ انھوں نے کہا: ’’خان صاحب! یہ مولانا مودودیؒ کی کتاب ہے، جو عام کتابوں سے بڑی مختلف ہے۔ اس کے مصنف کی باتیں اپنی آسان، رواں اردو اور دلیل سے قاری کو متاثر کرتی جاتی ہیں۔ تم بھی اسے پڑھو، تمھیں یہ کتاب اور ان کی دوسری کتابیں فریئر روڈ پر ماڈرن فوٹو شاپ سے مل جائیں گی۔ یہ شاپ ایک پروفیشنل فوٹوگرافر کی ہے لیکن سا تھ ہی وہ مولانا مودودیؒ کی کتابیں اور ان کا ماہ نامہ ترجمان القرآن بھی رکھتے ہیں۔ تم ان کے یہاں بیٹھ کر پڑھو یا چاہو تو خرید بھی سکتے ہو‘‘۔
مَیں اُس وقت بھی یہ سوچ کر اُن وکیل صاحب کی باتوں میں نہ آیا کہ یہ بھی افتخار صاحب کی طرح مجھے جماعت میں لانا چاہتے ہیں۔ ذہن مسلم لیگی تھا اور ملک میں جاری جماعت اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے سے تھوڑا بہت متاثر بھی تھا۔ تاہم،میرے دل میں ایک کش مکش کی سی کیفیت ضرور پیدا ہوگئی تھی جو کافی عرصہ جاری رہی۔ پھر معلوم نہیں کیوں ایک دن نہ چاہتے ہوئے بھی میں اُس فوٹو شاپ پر چلا گیا، وہ کتاب خریدی اور پڑھی۔ اُس نے مجھے متاثر تو کیا لیکن اس کے باوجود مَیں جماعت میں شامل نہ ہوا۔
نارتھ ناظم آباد کا گھر بن گیا تھا اور ہم وہاں منتقل ہوئے تو معلوم ہوا، جماعت اسلامی کے لوگ یہاں بھی ہیں اور خدمت خلق کا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ جذبہ میرے اندر بچپن سے تھا۔ مَیں نے وہاں کے ناظم سے ملاقات کی، جن کا نام ڈاکٹر محمد اطہر قریشی تھا۔ ان سے بات کی تو اُن میں بھی مجھے افتخار احمد جیسا خلوص اور جماعت سے محبت نظر آئی۔ مَیں اُن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے انھیں غریب اور بے سہارا بچیوں کی امداد اور اُن کی شادیوں میں جہیز دینے کا منصوبہ پیش کیا اور بتایا کہ مَیں نے اپنے بعض کلائنٹس سے بات بھی کر لی ہے، وہ بھی اس نیک منصوبے میں مالی مدد کریں گے۔ آپ ایسی بچیوں کے گھرانوں کا پتا کریں، مَیں اُن کی تفتیش کر لیا کروں گا، اِس طرح شادی کے لیے جہیز اور دوسرا ضروری سامان فراہم کر دیا کریں گے۔ اُنھوں نے اس منصوبے کو پسند کیا اور اُن کے تعاون سے اِس پر کام شروع کردیا۔ مجھے ڈاکٹر اطہر قریشی صاحب کی سادگی، خدمت کے جذبے، دین سے گہرے تعلق اور ہر کسی سے دوستی قائم کرنے اور بھائی چارے کے رویے نے بڑا متاثر کیا۔ اُن سے رابطہ بڑھتا رہا اور مَیں جماعت کے قریب آتا گیا۔
اسی دوران مارچ ۱۹۶۹ء میں جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا نافذ کردیا، اور کچھ ماہ گزرنے کے بعد نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ شہر میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا تو جماعت اسلامی نے بھی اپنے امیدوار محموداعظم فاروقی کے لیے علاقے میں مہم شروع کی۔ ڈاکٹر اطہر قریشی صاحب سے دوستی اور قربت کی وجہ سے مَیں بھی اس مہم کا حصہ بن گیا۔ اس مہم کے دوران میں جماعت اسلامی کے لیڈروں اور کارکنوں سے روابط بڑھے، اُنھیں دیکھنے اور جاننے کا اتفاق ہوا۔ مَیں ان لیڈروں اور کارکنوں کے اخلاص، دین کی سربلندی کے لیے تڑپ، ایمان داری اور دیانت داری سے بہت متاثر ہوا۔ آخرکار ۱۹۷۰ءمیں ایک کارکن کی حیثیت سے جماعت اسلامی میں شامل ہوگیا۔ مولانا مودودیؒ کی ساری کتابیں اور دوسرا اسلامی لٹریچر پڑھ لیا اور جماعت کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔ غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرانے کا منصوبہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اِس کی وجہ سے مجھے جماعت کے خدمت خلق کے شعبے کا انچارج بنا دیا گیا۔ اُس وقت اُس کا نام یہی تھا۔ اُس کے تحت پورے شہر میں میّت گاڑیاں چلتی تھیں اور خدمت ِ خلق کے دوسرے کام ہوتے تھے۔ میں نے جماعت میں ایک کارکن کی حیثیت سے کئی برس کام کیا اور جماعت اسلامی کے مقصد و طریقِ کار کو اچھی طرح سمجھ بھی لیا لیکن ابھی رکن نہیں بنا تھا۔
آخرکار میں نے ۱۹۷۴ء میں رکن بننے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت پروفیسر عبدالغفور احمد جماعت اسلامی، کراچی کے امیر تھے۔ یہ حُسنِ اتفاق تھا کہ اُسی سال میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پروفیسر غفور صاحب بھی حج پر گئے ہوئے ہیں اور وہاں حج کے علاوہ بھی اُن کی کچھ مصروفیات ہیں۔ مکۃ المکرمہ پہنچ کر پروفیسر غفورصاحب سے میری ملاقات خانہ کعبہ میں رکن یمانی کے سامنے مؤذن کے کمرے کے نیچے والی جگہ پر ہوگئی۔ یہ جگہ عرصے تک جماعت سے وابستہ لوگوں میں جمعے کی نماز کے بعد باہمی ملاقات کے لیے معروف تھی۔ اُس وقت روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر محمد صلاح الدین صاحب کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود تھے، جن کا تعلق جماعت سے تھا۔ پروفیسرغفور صاحب نے اُن کی موجودگی میں کہا کہ ’’میں تم سے خانہ کعبہ میں حلف لوں گا‘‘۔ یہ میرے لیے بڑے شرف وسعادت کی بات تھی۔ میں بڑا خوش ہوا۔ وہ یہ بات کہہ کر چلے گئے۔ دوسرے دن جب میں حلف لینے کے ارادے سے خانہ کعبہ پہنچا اور اُن کا پوچھا تو پتا چلا کہ وہ تو مدینے چلے گئے ہیں۔ لیکن صلاح الدین بھائی نے کہا کہ حلف تو کوئی دوسرا رکن بھی لے سکتا ہے۔ اُس وقت وہاں رحیم یار خان کے امیر موجود تھے، وہ حلف لینے پر تیار ہوگئے، چنانچہ اُنھوں نے مجھ سے اُسی وقت خانہ کعبہ کے عین سامنے رکنیت کا حلف لے لیا اور یوں میں رکنِ جماعت بن گیا۔
کچھ دنوں بعد میں بھی مدینہ منورہ گیا۔ ایک دن اپنے ہوٹل سے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جا رہا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سکریٹری نشر واشاعت، صفدر علی چودھری مل گئے۔ میں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ پروفیسر غفورصاحب سے ملنے جا رہے ہیں جو ساتھ والے ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ میں بھی اُن کے ساتھ ہو لیا۔ پروفیسر غفورصاحب مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تم سے خانہ کعبہ میں رکنیت کا حلف لینا تھا لیکن اچانک یہاں آنا پڑا، خیر مَیں اب تم سے کل مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حلف لوں گا۔ میں نے اُنھیں خانہ کعبہ میں لیے گئے حلف کا نہیں بتایا، چناں چہ دوسرے دن پروفیسر صاحب نے دوبارہ مجھ سے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رکنیت کا حلف لیا۔ اِس طرح مجھے خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، دونوں جگہ رکنیت کا حلف لینے کا شرف ملا۔ کراچی واپس آکر حلف کی رسمی کارروائی بھی مکمل ہوگئی‘‘۔