مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

توبہ اور رجوع الی اللہ

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت واسعہ کا معاملہ اور پھر مہلتِ توبہ اور اصلاح عمل کی کوشش انسان کو مایوس ہونے سے بچاتی ہے۔ اللہ کی طرف سے اعلانِ عام ہے :

<<قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۵۳(الزمر۳۹:۵۳ )>> کہہ دو اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کرلیا ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جائو۔ اللہ تعالیٰ یقینا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ بے شک وہ غفور و رحیم ہے۔

احادیث نبویؐ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان توبہ و ندامت اور استغفار سے اپنے رب کو راضی کرسکتا ہے۔ اللہ رب العزت کو اپنے بندوں کا نادم ہونا، اس کی طرف رجوع کرنا، استغفار کرنا بے حد پسند ہے۔ بندے زمین و آسمان کے برابر بھی گناہ اور خطائیں کر گزریں مگر پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرلیں، تو وہ اپنے بندوں کی طرف مہربانی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے قصور کا اعتراف کرنا ہی آدم کو شیطان سے ممتاز کرتا ہے۔ جو لوگ انسانیت کے اوصاف سے متصف ہوتے ہیں وہ اپنی غلطی مان لیتے ہیں، قصور کا اعتراف کرتے اور اپنی اصلاح کرلیتے ہیں۔ مومن کی شان اس سے بھی بالاوبرتر ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کے سامنے اپنی غلطی کو تسلیم کرنے، ان کو ان کا حق دینے اور اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب کی رضا کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، اور ان کو خطا اور گناہ میں فرق بھی معلوم ہوتا ہے۔

خطا میں نیت، ارادہ و منصوبہ نہیں ہوتا جیسے کہ انسان کسی جگہ پر پھسل جاتا ہے۔ اس میں ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ چوٹ کھائے اور تکلیف اٹھائے۔ بے شک اس کو پھسل جانے کی خطا پہ تکلیف ضرور اٹھانی پڑتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی نافرمانی کرنے والا خود کو بے چین و مضطرب پاتا ہے۔ اَن جانے میں خطا ہو جانے کے باوجود اس کی روح بے قرار ہو جاتی ہے۔ یہ بے قراری جو رب کے سامنے نافرمانی وغلطی ہو جانے سے ہوتی ہے، یہی تو اللہ کو محبوب ہے اور یہ وہ نعمت ہے جو اللہ نے ’ضمیر‘ کی شکل میں انسان کے اندر رکھ دی ہے۔ غلطی یا خطا میں مومن کا اپنا عمل دخل ہے یا نہیں، اس سے غلطی کسی دوسرے نے کروا دی یا حالات و واقعات نے اس کو کمزور کر دیا___ معاملہ کوئی بھی ہو، خطاہو جانے کے بعد جو دل کی بے قرار کیفیت ہے وہ اللہ کی نظر میں قابلِ قدر ہے۔ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ آدم ؑ سے خطا سرزد ہوجانے پر بے قراری کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اُن پر نظر کرم فرمائی: <<ثُمَّ اجْتَبٰىہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَيْہِ وَہَدٰى۝۱۲۲ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۲)>> ’’پھر اس کے ربّ نے اسے برگزیدہ کیا اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت بخشی‘‘۔خطائوں کے بعد توبہ اور اصلاح سے ہی اولادِ آدم اللہ کی نظر میں برگزیدہ ہوسکتی ہے اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہے۔

خطا سے ندامت نہ ہو تو پھر گناہوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔ خطا بغیر ارادے کے ہوسکتی ہے، مگر گناہ اس عمل کا نام ہے جب انسان اپنے ضمیر کی آواز کو مسلسل دباتے ہوئے گناہ کی آخری شکل تک پہنچ کر اسے کر گزرتا ہے، مثلاً ایک چور، ڈاکو، قاتل اور زانی و بدکار ایک تدریج کے ساتھ گناہ کے آخری مرحلے تک پہنچتا ہے۔ آخری مرحلے تک پہنچنے سے پہلے کسی بھی مقام پہ اگر ضمیر کا کہنا مان کر انسان جرم سے باز آجائے تو اس کے لیے پلٹ آنے کے سارے راستے کھلے ہیں، اور اگر گناہ کرلینے کے بعد بھی وہ نادم ہو، توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اصلاح کرلے، تو وہ رب کو غفور اور رحیم پائے گا ۔ اصلاح کی شرط لازمی ہے۔ توبہ کے ساتھ اگر اصلاح نہ ہو تو بھی انابت الی اللہ نامکمل ہے۔ گناہ روح کی بیماری ہے، ضمیر اس بیماری کی نشاندہی کرنے والا خیر خواہ ہے جیسے تکلیف جسمانی ہو تو درد محسوس ہوتا ہے، بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو بیماری بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح ضمیر کی آواز پہ کان نہ دھرے جائیں اور گناہ پہ نادم نہ ہوا جائے، تو بہ و اصلاح نہ کی جائے، تو روح کی بیماری بڑھتی جاتی ہے۔

انسانوں کے درجات کے مطابق ان کا احساسِ ندامت ہوتا ہے ۔انبیا علیہم السلام اپنے مشن میں معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔ ان کے دل پہ غبار بھی ان کو دن میں ۱۰۰ مرتبہ استغفار کی طرف مائل کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’امور حیات میں مشغولیت کی وجہ سے میرے دل پہ ایک پردہ سا آجاتا ہے۔ اس لیے میں دن میں اللہ سے سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں‘‘۔ (سنن ابی داؤد، حدیث:۱۵۱۱)

صدیقین و صالحین کو اپنی ذرا سی غفلت پہ پشیمانی و فکر مندی کا احساس ہر احساس پہ غالب آجاتاہے۔ صحابہ کرامؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اور گھر میں اپنی مختلف قلبی کیفیات کا سوچ کر فکر مند ہو کر روتے بلکتے اپنے محبوب کے پاس پہنچتے ہیں کہ شاید یہ قلبی کیفیات کا تفاوت ان کو منافق بنا رہا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو مومنوں کے درجات متعین کرتا ہے ۔ صحابہ کرامؓ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت سنا دی گئی تھی وہ معمولی خطائوں پر بھی ندامت کا اظہار کرتے رہتے اور مسلسل استغفار ان کا معمول تھا۔

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کا احساس رکھنے والے اپنی خطا پہ فوراً متنبہ ہو جاتے ہیں اور اپنے قصور پہ معافی مانگتے اور آئندہ کے لیے محتاط ہو جاتے ہیں تو اللہ علیم و حکیم انھیں معاف فرما دیتے ہیں:

<<اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَي اللہِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللہُ عَلَيْھِمْ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًـا۝۱۷(النساء۴:۱۷)>> اللہ انھی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برائی کرلیں تو پھر فوراً ہی ا س سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں تو اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جاتاہے۔ اللہ بہت علم والا اور حکمت والا ہے۔

گناہ ہو جائے تو معافی اور فرماں برداری میں جلدی اور شدتِ احساس ہی آئندہ کے لیے گناہ سے بچاسکتا ہے۔ جب انسان قصوروار ہوتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو بندے اور اللہ کے درمیان ایک حجاب حائل ہو جاتا ہے۔ جتنی جلدی کوئی توبہ کرکے اصلاح کرلے تو یہ حجاب دُور ہوجاتا ہے۔ جب خطا کار یہ حجاب دُور نہیں کرتا تو اس کا دل حجاب در حجاب میں چھپتا چلا جاتا ہے اور یہ حجاب دل کی بیماریوں کا سبب و بیج بن جاتا ہے۔اگر وہ بندہ گناہ چھو ڑکر اللہ سے معافی مانگتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ کا اعادہ کرے تو سیاہ نشان کا اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ سارا دل (سیاہ نشان سے) ڈھک جاتا ہے ۔ (ترمذی، حدیث: ۳۳۳۴)