ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مخالفین کی گواہی
امیر جماعت اسلامی پاکستان سیّد منور حسن نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں خاتون اینکر کے اس سوال کہ ’کیا وجہ ہے،جماعت اسلامی کراچی پر اس طرح سے فوکس نہیں کر پائی جس طرح کرنا چاہیے تھا؟‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: ’بات تو بہت صاف ہے، لیکن شاید میں نہ کہوں، اگر بیان کر بھی دوں تو آپ نشر نہیں کریں گی‘۔ لیکن اینکر نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، آپ ضرور کہیں وہ نشر کریں گے‘۔
اس پر منور بھائی نے کہا ’’نعمت اللہ صاحب کراچی کے میئر تھے۔ ان کی پہلی مدت ختم ہوئی اور دوسری مدت شروع ہونی چاہیے تھی اور میئر شپ کے امیدوار بھی تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے لوگوں نے دفتر کے چکر لگانا شروع کر دیئے اور یہ ’ہمدردانہ مشورے‘ دینے شروع کیے کہ آپ کہاں دوبارہ زحمت کریں گے‘‘۔ پھر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف بھی کراچی آئے تو انھوں نے طے کیا کہ وہ بھی ان سے بات کریں گے۔ وہ کسی جگہ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہا کہ وہ گاڑی میں بات کریں گے۔ یوں نعمت اللہ خان صاحب سے انھوں نے یہ بات کہی کہ ’’آپ بہت دیانت دار آدمی ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میں تمام ایجنسیوں کی رپورٹس دیکھ لی ہیں۔ آپ اچھے ایڈ منسٹریٹر ہیں، پاکستان سے محبت کرتے ہیں، مذہبی آدمی ہیں، چارسال میں آپ نے اچھے کام کیے ہیں لیکن آپ کی ایک کمزوری یہ ہے کہ آپ کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اگر آپ اس کا کوئی علاج کریں تو ہم تیار ہیں کہ آپ ہی اگلے میئر بنیں‘‘۔
نعمت اللہ صاحب نے کہا کہ میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، اور ان شاءاللہ رہے گا، لیکن آپ مجھے بتائیں کہ میں نے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی بنا پر کو ن سی گڑ بڑ کی ہے؟ کون سے میرٹ کو ڈی میرٹ یا ڈی میرٹ کو میرٹ کیا ہے؟ یا کون سے کام مجھے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرنے چاہئیں تھے؟ یا کون سے کام ہیں جو میں نے جماعت اسلامی کے فائدے کےلیے کیے ہیں؟ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں اور اگر شکایت نہیں ہے تو میرا جماعت سے تعلق ہونا جرم نہیں ہو سکتا‘‘۔ اس پر بات ختم ہوگئی اور وہ اگلے میئر نہیں بنے۔
اس سے زیادہ نعمت اللہ خان کی خدمت اور دیانت کی گواہی اورکیا ہو سکتی ہے کہ میدانِ سیاست میں ان کے شدید مخالف بھی ان کی دیانت اور امانت داری پر پختہ بھروسا اور یقین رکھیں۔
خان صاحب الخدمت کے سربراہ تھے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما اورکلفٹن میرج بیورو کی چیئرپرسن ممتاز قریشی نے جو اتفاق سے ہماری کلاس فیلو بھی ہیں، ایک بار ہم سے فون پر پوچھا: ’’نعمت اللہ خان صاحب تک ایک امانت کیسے پہنچائی جا سکتی ہے؟‘‘ ہم نے ان کو ان کا رابطہ فون دیا اور پوچھا کہ ’’وہ کیا امانت ہے جو وہ ان کے سپرد کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے غریب اور بے سہارا بیواؤں اور یتیموں کے لیے کچھ فنڈ جمع کیا ہے اور چاہتی ہوں کہ وہ اس شخص کے حوالے کروں جن کی دیانت داری پر مجھے پورا اعتماد ہو، اور وہ اس رقم کی پائی پائی کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے،جس کے لیے دی جارہی ہے۔ اور میرے نزدیک وہ شخص نعمت اللہ خان ہیں۔ اس لیے وہ یہ رقم ان تک پہنچانا چاہتی ہیں‘‘۔انھوں نے یہ رقم،جو لاکھوں میں تھی، خان صاحب کے دفتر پہنچا کر ہمیں اس کی باقاعدہ اطلاع بھی دی۔اس کے بعد بھی ایک بار انھوں نے کچھ رقم ہمارے حوالے کی جو ہم نے خود نعمت اللہ خان صاحب کو پہنچائی اور اس کی رسید ممتاز قریشی صاحبہ کو دی۔