ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بھول چوک اور خطا کا پہلو
بھول جانا انسانی سرشت میں شامل ہے۔ شریعت نے اس کی کوئی سزا مقرر نہیں کی۔ یہ حقیقت متعدد احادیث سے معلوم ہوتی ہے، مثلاً بھول کر اگر روزے میں پیٹ بھر کر بھی کھانا کھالیا گیا ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن جان بوجھ کر ایک دانہ یا ایک گھونٹ بھی پیٹ میں ڈالا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی نہ صرف قضا بلکہ کفّارہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی کوتاہی بھول کر ہو گئی ہو یا کسی نے مجبور کیا ہو تو اس کا معاملہ اپنی خواہش، ارادے، منصوبے سے کیے گئے عمل سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی پر ’شرعی حدود‘ کے نفاذ میں بھی اس امر کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اسی طرح خطا کا معاملہ ہے۔ خطا اشتباہ کی بناء پر بھی ہو جاتی ہے،جیسے دو چیزوں کا ایک جیساہونا اور ان میں سے اپنی چیز سمجھ کر غلطی سے دوسرے کی اٹھا لینا۔
انسانوں کی ذہنی، علمی اور معاشرتی افتاد اور استعداد کے مختلف ہو جانے کی بنا پر اس طرح کی خطائیں بھی سرزد ہوسکتی ہیں، مثلاً کسی کے بارے میں حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر کوئی رائے بناتے اور مشورہ دیتے ہوئے خطا کا سرزد ہونا۔ اسی طرح قاضی اپنی پوری تحقیق کے بعد کسی مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے دو رائے میں سے کسی ایک رائے کا انتخاب کرنے میں بھی خطا کرسکتا ہے۔
خطا میں نیت کی خرابی اور فتور شامل نہیں ہوتا۔ حُسنِ نیت سے کوئی رائے بنانا، فیصلہ کرنا، کسی مشتبہ چیز کے بارے میں اسے اپنی ملکیت سمجھ لینا، مگر غلطی کا احتمال ہونے کایقین رکھنا انسان کو انسانی شرف سے نہیں گراتا۔
انسان کو ہر چیز میں اعلیٰ معیار کی چاہت پہ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے مگر بھول جانے کی سرشت اسے کبھی دوسری طرف متوجہ کردیتی ہے۔ انسان کی توجہ اور دل کا میلان بھی ایک وقت میں ایک چیز پہ ہی مرتکز رہ سکتا ہے، مثلاً آدم کو ابدی زندگی اور لازوال سلطنت کے تصورنے درخت کے پاس نہ جانے کا حکم بھلا دیا۔ وقتی طور پر یہ حکم پس پردہ چلا گیا اور ابدی و لازوال سلطنت کا مالک ہونے کا احسا س غالب آگیا:
<<فَوَسْوَسَ اِلَيْہِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى۱۲۰ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۰)>> شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا :’’آدم میں تمھیں بتائوں وہ درخت جس (کا پھل کھا کر) ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے‘‘۔
آدم و حوا نے اسی ’بہترین‘ کی اُمید پہ ممنوعہ پھل کھا لیا۔ یہی حربہ شیطان اولادِ آدم پہ استعمال کرتا ہے۔ عارضی دنیا کی عارضی نعمتوں کو ابدی اور لازوال بنانے کا جنون خطائوں میں مبتلا کرتا ہے اور خطائیں بتدریج گناہوں میں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنے مومن بندوں کو سلیقہ سکھایا کہ وہ اپنی زندگی کو پاک و صاف رکھنے کی نیت اور کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ دعا بھی مانگا کریں۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیت میں یہ دُعا سکھائی گئی ہے: <<رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۰ۚ (البقرہ ۲:۲۸۶)>> ’’اے ہمارے رب! ہم سے کوئی خطا ہوجائے یا بھول چوک ہو جائے تو ہمارا مواخذہ نہ کیجیو‘‘۔
خطائیں انسان سے ’ظلوم‘ اور ’جہول‘ کی بنا پر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بشری کمزوریوں کی وجہ سے اپنی رحمت کو اپنے غضب پہ غالب رکھا ہے، جس کے عملی اظہار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی ‘ بھول چوک اور جو مجبور کر دیا گیا ہو معاف کر دیا ہے۔ (ابن ماجہ)