مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ارادہ و اختیار کی آزادی

کچھ خصوصیات اولادِ آدم اور فرشتوں میں مشترک ہیں:

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ، تسبیح و تہلیل کثرت سے کرنا ۔

اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری میں کمی یا کوتاہی کے خیال سے لرزاں و ترساں رہنا اور اپنی لاعلمی اور غلطی کا اعتراف کرتے رہنا۔

احکام الٰہی پہ سرتسلیم خم کرنا۔

فرشتوں اوراولاد آدمؑ میں جو چیز مختلف ہے وہ ’ارادہ و اختیار‘ کا ہونا ہے۔ سب فرشتے اپنی اپنی عبادت (ڈیوٹی) میں مشغول ہیں۔ ہر فرشتے کا جو کام ہے اس کو وہی کرنا ہے اور اس کے علاوہ اُسے کوئی اختیار نہیں، اس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں۔ اس لیے فرشتوں کے درمیان حقوق و فرائض کی باہمی کش مکش نہیں ہے۔ اولادِ آدمؑ کو ’ارادہ و اختیار‘ کے ساتھ ایک بڑے امتحان میں ڈالا گیا ہے۔ ’ارادہ و اختیار‘ وہ عظیم منصب ہے جس مسند عظمیٰ پہ بیٹھ کر وہ اپنے ’نفس‘ کو جنت یا دوزخ کا مستحق ٹھیراتا ہے اور باہم انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض کی کش مکش ہی حقیقت میں اصل معرکہ ہے۔ اللہ کو اپنی اطاعت کے لیے تو فرشتے ہی کافی تھے۔ انسان کو دل دیا تو ساتھ ارادہ و اختیار دیا اور باہم دردِ دل کے لیے پیدا کیا۔

ارادہ و اختیار کے ساتھ انتخاب کے لیے تنوع کا ہونا لازمی امر ہے۔ ’اختیار‘ کے ساتھ انتخاب کی آزادی لازم و ملزوم ہے۔ اگر انتخاب کرنے کے لیے متعدد راستے اور چیزیں نہ ہوں تو انتخاب کی آزادی بے معنی ہو جاتی ہے اور آزادی کے ساتھ اپنے ارادہ اور مرضی سے انتخاب کرنے میں غلطی کا احتمال بھی لازمی ہوتا ہے۔ ’آزادیٔ انتخاب‘ دراصل ایک بہت بڑا منصب ہے، ایک امتحان ہے عقل و شعور کا، عزم و ارادے اور ایمان و یقین کا ۔ انسان اپنے ارادے اور مرضی سے اپنے لیے کسی راستے کی ذمہ داری اٹھانے اور اسے نبھانے کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی منصب و ذمہ داری کے بارے میں ربّ العزت فرماتے ہیں:

<<اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا۝۷۲ (الاحزاب۳۳:۷۲)>> ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ۔ وہ بڑا ہی ظالم اور سخت جاہل ہے ۔

انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اختیار و ارادہ کی آزادی موجود تھی۔ اسی لیے وہ اس بارِ امانت کو اٹھانے پہ تیار ہوگیا۔ ’عہد اطاعت‘ کا امین ٹھیرا ۔ مجبور و مقہور مخلوق سے عہد لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا سے مراد یہ ہے کہ انسان میں دو متضاد داعیے یا خواہش و ارادہ موجود ہیں اور کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی کشا کش ہی انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کشاکش کے بعد اپنے عزم و ارادہ سے کسی کام یا راستے کو اختیار کرتا ہے۔

’ظلم‘ عدل و انصاف کا متضاد ہے۔ ’جہل‘، ’علم‘ اور ’حلم‘ کا متضاد ہے۔ عدل و انصاف کا شعور رکھتے ہوئے جو ظلم کا مرتکب ہو وہ ’ظلوم ہے‘، اور جو ’علم و حلم‘ کی صلاحیت اور اتمامِ حجت کے باوجود اپنے نفس کے جذبات سے مغلوب ہو جائے وہ ’جہول‘ ہے۔ اسی طرح انسانی عقل ماحول سے متاثر ہوکر یا مفادات کی اسیر ہو کر انسان کو ظَلُوْمًا جَہُوْلًا کا مصداق بنا سکتی ہے۔ خیر و شر کے دوراستوں میں سے خیر کا انتخاب کرلینا ہی انسانی شرف کی بنیاد ہے۔ اس ’شرف‘ کو قائم رکھنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے والا انسان بھی کبھی غلطی سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ انسان کی سرشت میں بھول جانے کا مادہ ہے اور اسی بناء پر وہ اپنے عزم میں پختہ نہیں رہتا:

<<وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا۝۱۱۵ۧ (طٰہٰ۲۰:۱۱۵)>> ہم نے آدم کو تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس کو عزم میں پختہ نہ پایا۔