ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کراچی کے میئر کی حیثیت سے مثالی خدمات
صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں شہری حکومتوں کا بلدیاتی نظام قائم کیا اور ۲۰۰۱ء میں اس کے لیے انتخابات ہوئے تو کراچی جماعت نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔خان صاحب کی خدمت خلق کے کام کے تجربے کی بنیاد پر انھیں سٹی ناظم (میئر) کے عہدے کےلیے نامزد کیا گیا۔ وہ اس منصب پر ۲۰۰۵ء تک فائز رہے۔اس چار سالہ دور میں انھوں نے کراچی شہر کی ترقی اور شہریوں کی خدمت کے جو کام کیے، ان سے دنیا واقف ہے لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ انھوں نے ان چار برسوں میں شہر کی بے لوث خدمت کی اور اس منصب سے فائدہ اٹھانا تو کجا سٹی ناظم کی حیثیت سے ملنے والی تنخواہ کا حسب سابق ایک روپیہ بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا۔ان کو ماہانہ تنخواہ اور کرایہ مکان کی جو رقم ملتی تھی، وہ یہ رقم بلدیہ میں ایک بنک کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیا کرتے تھے۔ یہ رقم ابھی بنک ہی میں جمع تھی کہ ۲۰۰۵ء میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں زلزلے نے بڑی تباہی مچا دی،جس سے اسلام آباد، باغ، مظفر آباد اور بالا کوٹ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں مکانات اور عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ خان صاحب کو ڈیساسٹر مینجمنٹ بورڈ کا چیف کوآرڈینیٹر بنایا گیا تو انھوں نے ساڑھے تین سال کی پوری تنخواہ ۱۵ لاکھ ۷۵ ہزار روپے کا چیک ان زلزلہ زدگان کے فنڈ میں دے دیا۔عوام کی بے لوث خدمت اور اس عوامی عہدے کے دوران ملنے والے جائز مشاہرے کی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ نہ کی اور اس پوری مدت کی مجموعی تنخواہ دُکھی انسانیت کے لیے فنڈ میں دے دی۔
۲۰۰۱ء میں جب خان صاحب کراچی کے میئر منتخب ہوئے تو انھوں نے شہر کی حالت کو بدلنے کے لیے خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔ضعیف العمری کے باوجود چند گھنٹے سونے اور آرام کے علاوہ وہ دن رات کا بیش تر وقت کراچی کی ترقی اور شہریوں کی خدمت میں صرف کرتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے جوان تھک جایا کرتے، لیکن خان صاحب ایک تروتازہ جوان کی طرح ہمت نہ ہارتے۔ انھوں نے اپنے چار سالہ دور میں کراچی شہر میں پختہ اور چوڑی سڑکوں، کئی کئی گھنٹوں کے ٹریفک جام کے عذاب سے جان چھڑانے کے لیے انڈر پاسز اور فلائی اوورز کا جال بچھا دیا۔شاہراؤں، چوراہوں اور گلیوں میں روشنی کی فراہمی کا انتظام کیا اور تاریکی میں ڈوبے شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا دیا۔
شہریوں اور ان کے بچوں کےلیے جگہ جگہ پارک تعمیر کیے، جن کی تعداد تین سو ہے اور پارکوں پر مافیا کے قبضوں کو ختم کرایا اور اس کےلیے سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا۔ شہر کے ۱۸ٹاؤنز میں سے ہر ٹاؤن کےلیے ایک ایک ماڈل پارک بنایا۔ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کیا۔ اس کےلیےاربن ٹرانسپورٹ اسکیم کا آغاز کیا اور ۵۰۰ نئی ایئر کنڈیشنر بسیں فراہم کیں اور بسوں کو پہلی بار سی این جی پر چلایا تا کہ شہر کو فضائی آلودگی سے پاک کیا جائے۔
تعلیم کو عام کرنے پر خاص توجہ دی۔ اس کے لیے بجٹ میں ۳۱ فی صد اضافہ کیا۔ اسکولوں کی مرمت،ان میں پانی،غسل خانے اور فرنیچر کی فراہمی،نئے اسکولوں کے قیام اور تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے۔شہر میں ۳۲ نئے کالج قائم کر کے ان کی تعداد ۱۲۰ تک بڑھا دی۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی، جس کے مثبت نتائج نکلے۔ اس کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے سٹی ناظم بننے سے پہلے اے اور اے ون گریڈ لینے والوں کی تعداد ۲۰۰ تھی جو ان کے دور کے آخر تک بڑھ کر ۲ ہزار سے بڑھ گئی۔
صحت کے شعبہ میں ان کا بڑا کارنامہ فیڈرل بی ایریا میں کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ڈیزیزز ہے۔اس کے علاوہ نیو کراچی اور کورنگی میں کڈنی ڈائلائسز سنٹر، ملیر میں ہسپتال اور شہر میں ڈائگنوسٹک سنٹر کا قیام بھی ان کے دور کی یاد گار ہے۔ شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی کو ترجیح دی اور کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ شروع کیا۔جس سے شہریوں کو ۱۰ لاکھ گیلن اضافی پانی فراہم ہوا۔ سیوریج کے نظام کو بہتر کیا،پرانی پائپ لائنوں کو تبدیل کرایا اور نئے پمپس لگوائے۔ کچرا اٹھانے کے لیے ۵۰۰ سالڈ ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کرائے۔خان صاحب کا ایک اور یاد گار کارنامہ فیڈرل بی ایریا میں المرکز الاسلامی کے منصوبے کی تکمیل تھا۔ جس میں ایک بڑی لائبریری،آڈیٹوریم،مسجد اور فنونِ لطیفہ کی آرٹ گیلری شامل تھی، لیکن افسوس کہ اس مرکز کو ایم کیو ایم نے ختم کردیا ہے۔
سٹی گیمز کے انعقاد کو بھی ان کا ایک کارنامہ شمار کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں ان کی ایمان داری اور دیانت داری کی وجہ سے شہر کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوا جس کا اندازہ دو تین مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔شاہراہ فیصل فلائی اوور کی تکمیل کا تخمینہ ۲۶ کروڑ ۳۱ لاکھ لگایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو اپنی کڑی نگرانی میں صرف ۱۸ کروڑ میں مکمل کرایا۔اسی طرح ایک اور منصوبے کا ابتدائی تخمینہ ۲۵ کروڑ تھا۔ انھوں نے اس کا اَزسرنو ٹینڈر کرایا تو اس کا تخمینہ ۶ کروڑ آیا اور وہ اسی رقم میں مکمل ہوا۔پیٹرول اور ڈیزل میں ۸ کروڑ کی کرپشن کا خاتمہ کیا۔ انھوں نے اپنی کوششوں سے کراچی کا بجٹ ۶؍ارب سے ۴۳؍ارب کرایا اور ۲۹؍ارب روپے کا ’تعمیر کراچی‘ پروگرام شروع کیا۔ہفتے میں ایک دن عوام کی شکایات اور مسائل سننے کے لیے مختص کیا۔ اس طرح انھوں نے عوام سے رابطہ رکھا اور ان کی ہزاروں شکایات کا براہِ راست ازالہ کیا۔
یہ مثالیں نعمت اللہ خان کے اس مومنا نہ کردار کو ظاہر کرتی ہیں، جو اسلام اپنے سنہری اصولوں پر عمل کرنے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ سیّد مودودی کی قیادت اور تربیت کے ذریعے جماعت اسلامی میں نعمت اللہ خان جیسے کردار ہزاروں میں ہیں۔ جماعت اسلامی کا یہ ایک کارنامہ ایسا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے، مگر جماعت اسلامی میں آپ کو ایسے درویش ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے۔ایسے ہی ایک فقیر منش درویش عبد الستار افغانی بھی تھے جنھوں نے ان سے پہلے سادگی، درویشی،امانت، دیانت، خدمت اور ایثار کی سیکڑوں مثالیں قائم کیں اور جن کی گواہی ان کے سخت سے سخت مخالف بھی دیتے تھے۔
خان صاحب کی ان خدمات کا اعتراف پاکستان بھر کے علاوہ دنیا بھر میں بھی کیا گیا اور انھیں ایشیا کا بہترین میئر قرار دیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خان صاحب کی انسانیت کے لیے خدمات قبول ہوں گی اور جنّت الفردوس میں ان کو بلند درجات ملیں گے۔