ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اُمت مسلمہ کی منفرد خصوصیات
یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہمیں بطور امت مسلمہ ایسی چیزوں سے نوازا گیا ہے جو کسی اور امت کو عطا نہیں ہوئیں:
ہمیں پانچ نمازوں، اور ان نمازوں میں جماعت، اور قبلہ کی وحدت سے نوازا گیا ہے۔
ایک فرانسیسی مصنف نے اپنی ایک کتاب میں کہا ہے: میں روئے زمین پر مسلمانوں کو کعبہ کے گرد دائرہ بنائے خیال کرتا ہوں۔ اگر کوئی آسمان سے تصویر کھینچے، تو وہ تصور کرے گا کہ ان دائروں نے پوری زمین کو بھر رکھا ہے۔ یہ کعبہ کے انتہائی قریب شروع ہونے والے چھوٹے دائروں کے بعد بڑے اور پھر ان کے بعد ان سے بڑے دائرے بنتے جاتے اور زمین کو بھرتے جاتے ہیں۔ آپ ان دائروں میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کو پائیں گے۔
جاپانیوں کا ایک گروہ قطر آیا تھا اور ستائیسویں رات کو ہمارے ساتھ یہاں نمازِ باجماعت کی تصویریں لے رہے تھے۔ وہ حیران اور متاثر تھے۔اس کے بعد میرے گھر آئے، اور میرے ساتھ طویل بات چیت ہوئی۔ اور بتایا کہ ہم بہت دیر سے پہنچے،اس نماز کو مکمل طور پر نہ دیکھ سکے۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی، لیکن جس گرمجوشی سے نماز ادا کی گئی، اور دعا اور مسلمانوں کا اتحاد، صفیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی جیسے ایک جسم ہو، اس نے ہمیں بہت متاثر کیا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید یہ ان کی اسلام کی طرف ہدایت کا سبب بنے۔ میں نے انھیں بتایا کہ یہ دوحہ میں واحد مسجد نہیں ہے، قطر میں درجنوں مساجد ہیں جہاں یہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں، اور اسلامی دنیا میں ہزاروں اور لاکھوں مساجد ہیں جہاں نمازیں ایسے ہی ادا کی جاتی ہیں، خاص طور پر مکہ اور مدینہ میں۔ رمضان کی ستائیسویں رات کو مسجد الحرام میں تقریباً ۲۰ لاکھ لوگوں نے نماز ادا کی۔ کوئی بھی امت ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرتی ہو، جیسی امت مسلمہ کرتی ہے۔
اس صدی کے اوائل میں ایک برطانوی لارڈ نے اسلام قبول کیا جس کا نام لارڈ ہیدری تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام مغرب کو اسلام کے ذریعے بیدار کرنا رکھا۔ اس کتاب میں اس نے کہا: میں نے اسلام کے علاوہ کوئی ایسا دین نہیں دیکھا جو لوگوں کو اللہ سے جوڑتا ہو، اور انھیں ہر روز پانچ بار اس کے ساتھ ملاقات کا وقت دیتا ہو۔
آپ جانتے ہیں کہ عیسائیت ایک عیسائی سے جو تقاضا کرتی ہے، وہ ہر اتوار کو چرچ کا دورہ ہے، اور اس میں اتنی سختی نہیں ہے جتنی اسلام ادائیگی ٔنماز کے لیے کرتا ہے، جس نے اسے مسلمان اور کافر کے درمیان فیصلہ کن بنا دیا ہے:
<<فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۱۱ (التوبہ۹:۱۱)>> پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔
اسلام مسلمان کو پانچ بار اُس کے رب سے جوڑتا ہے، اور اسی لیے ان نمازوں کو ایک نہر سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں مسلمان ہر روز پانچ بار نہاتا ہے، چنانچہ جب مسلمان گناہوں کی آگ میں جلتا ہے، تو یہ نماز اس آگ کو بجھاتی ہے اور ان گناہوں کے زخموں کو مندمل کرتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز روزانہ کا غسل ہے، اور جمعہ کی نماز ہفتہ وار غسل ہے، رمضان کے روزے اور قیام سالانہ غسل ہے اور حج زندگی بھر کا غسل ہے۔
اللہ نے ہمیں قرآن کریم سے بھی نوازا ہے، یہ وہ کتاب ہے:
<<لَّا يَاْتِيْہِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ۰ۭ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۴۲ (حم السجدہ۴۱: ۴۲)>>باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔
<<كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۱ۙ ٍ(ھود۱۱:۱)>> یہ کتاب ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔
اور جب اس کی آیات ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ہمارا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ یہ قرآن کسی بھی امت کے پاس نہیں ہے۔
ہم امت مسلمہ کے پاس طاقت کے ایسے عوامل اور ایسی خصوصیات ہیں جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں ہیں، لیکن افسوس کہ ہم اس روحانی قوت اور اس توانائی کو بروئے کار نہیں لائے جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں پائی جاتی۔ افسوس کہ امت مسلمہ نے اپنی ان صلاحیتوں، قابلیتوں اور قوتوں کو استعمال نہیں کیا جو اللہ نے اسے عطا کی ہیں۔
یہودی دندناتے پھرتے ہیں، فساد مچاتے ہیں، خون بہاتے ہیں، گھروں کو جلاتے ہیں، اور مکانات کو تباہ کرتے ہیں اور امت مسلمہ قبروں کی طرح خاموش ہے۔ کیا یہ ایک زندہ امت ہے؟ اس کی زندگی کی علامت کہاں ہے؟ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، وہ مسجد جس کے اردگرد اللہ نے برکت دی، اور جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا، اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تین عظیم مساجد میں سے تیسری مسجد قرار دیا، بلکہ اللہ نے قرآن میں اس کا ذکر مسجدنبوی کی تعمیر سے پہلے کیا، کیونکہ سورۂ بنی اسرائیل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے اور مسجد نبویؐ بنانے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ فرمایا:
<<سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِہٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِيَہٗ مِنْ اٰيٰتِنَا۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۱ (بنی اسرائیل ۱۷:۱)>> پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔
قرآن نے اس کا ذکر بے مقصد کیا ہے یا امت کے دلوں کو اس مسجد سے جوڑنے کے لیے؟ اُمت غفلت سے دوچار ہے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی قیادت دکھائی نہیں دیتی جو امت کی رہنمائی کرے۔