مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تیسری نسل (۲۰۰۸ء - تاحال)

ان تجربات کے بعد مفکرین کی ایک نئی لہر سامنے آئی، جس نے سوال کو ایک بار پھر بنیاد سے اٹھایا: اگر بنیاد ہی درست نہ ہو تو عمارت میں جزوی ترمیم کیسے کافی ہو سکتی ہے؟ چنانچہ تیسری نسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’’اسلامی معاشیات کو سرمایہ دارانہ نظام کی کسی شاخ یا ترمیم کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے اخلاقی اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا‘‘۔

البتہ اس بار منہج قدرے مختلف ہے۔ ریاستی طاقت کے زور پر اوپر سے تبدیلی نافذ کرنے کے بجائے، توجہ نیچے سے (برادریوں، مقامی اداروں، اور عملی نمونوں کی) تعمیر پر ہو، تاکہ ایک متبادل نظم بتدریج پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ وسیع تر سطح پر اثر انداز ہو۔ اس نسل کے نزدیک ’’اسلامی معاشیات، سرمایہ داری کی پیوندکاری یا محض ایک نظری منصوبہ نہیں، بلکہ اصولی طور پر سرمایہ داری سے مختلف ایک جامع نظمِ حیات، کامل نظامِ فکر اور ادارہ سازی کا ایک زندہ عملی نمونہ ہے، جس کی بنیاد عدل، تعاون، کفالتِ عامہ اور اللہ کے حضور جواب دہی جیسے تصورات پر ہے‘‘۔

اس طرح یہ کتاب فکری اعتبار سے دوسری اور تیسری نسل کے درمیان ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اُس دور میں لکھی گئی جب اصلاحی منہج غالب تھا، مگر اس نے اسی تناظر میں ’جزوی اصلاح‘ کی حدود واضح کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام اور سرمایہ داری کا اختلاف محض چند احکام کا نہیں بلکہ بنیادوں کا ہے۔ یہی ادراک بعد ازاں تیسری نسل کی فکری سمت کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔