مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

معاشرے کی تعمیر اور توحیدی روح

[پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد | مارچ ۲۰۲۶ | اسلامی معاشرت] اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری اور مالک و ربِّ کائنات سے بغاوت میں فرق کرنے والا الہامی اصول اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف توحید ہے۔یہ وہ پیمانہ ہے جو ایک فرد اور معاشرے کو معروضی طور پر آئینہ دکھلاتے ہوئے اس کے حُسن یا بدصورتی کو بلاکسی مبالغے کے اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔لیکن صدیوں کی سیاسی اور فکری غلامانہ ذہنیت اور مناظرانہ بحثوں نے توحید کو ایک کلامی مسئلہ بنا دیا۔ اس طرح اس کی جامعیت اور سیرت سازی اور معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت پردۂ نسیاں میں رو پوش کر دی گئی اور اس کی لغوی وضاحت کو کافی سمجھتے ہوئے توحید اور تثلیث یا توحید اور کثیر خداؤں کے تقابلی مطالعہ کو علمی گفتگو کا موضوع بنائے رکھا گیا۔

مشرکین مکہ اور داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وجہ نزاع یہ نہیں تھی کہ اللہ خالق کائنات نہیں ہے۔ وہ جب سمندری اسفار میں کسی طوفان میں گھر جاتے تھے تو خالق کائنات ہی کو پکارتے تھے۔مزید یہ کہ جن لوگوں نے حرم مکہ میں ۳۰۰ سے اوپر خداؤں کی ’اقوام متحدہ‘ قائم کررکھی تھی، اس میں ایک بڑے خدا کا اضافہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔ وہ ایک بڑے خدا کو اپنے خداؤں سے بلند مقام پر بٹھا دیتے تو تنازع ختم ہو جاتا۔

لیکن مسئلہ عددی قوت کا نہیں تھا بلکہ توحیدکے معنوی اور عملی مضمرات کا تھا۔وہ جو عربی ادب کے اسرار اور رُموز جاننے کا دعویٰ کرتے تھے ،انھوں نے نور اور ہدایت کے لیے اپنے شعور کے دریچے بند کر رکھے تھے، روایات کی اندھی پیروی ان کا شیوہ تھا۔ اس سب کے باوجود وہ جانتے تھے کہ توحید یا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کو ربّ اور حاکم ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام چراغ جو دوسروں کے اُجالے سے روشن ہیں گل ہو جائیں گے اور صرف ایک نور ہدایت رہنمائی کا ذریعہ قرار پائے گا۔