ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اختتامی کلمات اور دعوتِ مطالعہ
اس تمہیدی مقالے میں چند بنیادی نکات واضح کیے گئے ہیں:
اوّل یہ کہ جدید مغربی معاشیات اگرچہ اپنے آپ کو ایک ’آفاقی علم‘ کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر اس کی فکری جڑیں یورپ کے مخصوص تاریخی تجربات اور مخصوص مقاصدِ حیات میں پیوست ہیں۔
دوم یہ کہ اسلامی معاشیات محض چند مالی احکام یا تکنیکی ضوابط کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی روایت ہے، جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں میں اجتماعی ذمہ داری، کفالتِ عامہ اور عدل کے اداروں کو عملی صورت دی۔ اور،
سوم یہ کہ نوآبادیاتی تسلط اور ادارہ جاتی انہدام کے بعد، جدید دور میں اسلامی بنیادوں پر معاشرتی و معاشی تعمیرِ نو ایک ناگزیر سوال بن کر سامنے آیا اور اسلامی معاشیات کی فکر اسی سوال کے جواب میں مختلف مرحلوں سے گزرتی ہوئی تشکیل پاتی رہی۔
اس مفصل مقدمے کے بعد اب اصل متن کا آغاز ہوگا۔ آئندہ اقساط میں یہ کتاب بتدریج اس بنیادی سوال کے گرد گردش کرے گی کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں قرآن و سنت کی ہدایات کو عملاً کیسے برتا جائے، یعنی ایسے ادارے اور ایسے پیمانے کیسے قائم ہوں جو دولت کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھیں، جو معیشت کو محض پیداوار کا نظام نہیں بلکہ اخلاقی نظمِ حیات کا حصہ مانیں، اور جن کی کامیابی کا معیار یہ ہو کہ معاشرے میں کتنے لوگ محرومی سے بچے، کمزور کس حد تک محفوظ ہوئے، اور عدل کہاں تک قائم ہو سکا۔
ہر قسط کے ساتھ تشریحی حواشی بھی شامل کیے جائیں گے، تاکہ قاری اس بحث کے تاریخی پس منظر، فکری حوالوں اور عصرِ حاضر سے اس کے ربط کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ یوں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری مشق نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ بندوبست کی درست تشخیص کے بغیر نہ درست راستہ متعین ہوتا ہے، نہ مؤثر حکمت عملی وجود میں آتی ہے۔
ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سلسلے کو توجہ اور غور کے ساتھ پڑھیں، سوالات اٹھائیں، اور اپنے علمی و فکری حلقوں میں اس پر گفتگو کریں، تاکہ اسلامی معاشیات محض ایک اصطلاح نہ رہے، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور اور ادارہ سازی کے عمل میں زندہ اور رہنما قوت بن سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے جس کی روشنی میں ہمیں حق ہمیشہ حق اور باطل ہمیشہ باطل نظر آئے اور ہمیں حق کی پیروی اور باطل سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین !