ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
وحدتِ امت کو قائم کرنا
اُمت احساسات، شعائر، تصورات، روایات اور آداب میں متحد ہے، لیکن وہ سیاست اور پالیسیوں میں متحد نہیں ہے، جب کہ اسلام نے اس اتحاد کو قائم کرنے کے لیے کچھ چیزیں مقرر کی ہیں:
مرجع اور مآخذ قانون کا اتحاد:اسلامی امت کا مرجع اور مرکز،اسلامی شریعت ہے خواہ افرادِ امت مشرق میں ہوں یا مغرب میں، شمال میں ہوں یا جنوب میں۔ چنانچہ اگر امت اس مرجعیت پر متفق ہو جائے، اور تفصیلات میں اختلاف بھی ہو، تو کوئی حرج نہیں، اہم یہ ہے کہ وہ اس سیدھے راستے پر جمع ہو جائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
<<وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْـمًا فَاتَّبِعُوْہُ۰ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ۰ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۱۵۳ (الانعام۶:۱۵۳)>> اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمھیں پراگندہ کر دیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمھارے ربّ نے تمھیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو۔
اللہ کا راستہ صراط مستقیم ہے، وہ ربانی قرآنی منہج ہے، جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور اس پر زندگی گزاری:
<<اِنَّكَ لَـــتَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۵۲ۙ صِرَاطِ اللہِ الَّذِيْ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۰ۭ اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ۵۳ (الشوریٰ۴۲:۵۲-۵۳)>> یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اگر امت شریعت پر جمع ہو جاتی تو اس کی بات بھی ایک ہوتی، اس کا شیرازہ بھی جمع ہوتا، اور اس کی صفیں بھی متحد ہوتیں، لیکن اس نے مشرق اور مغرب سے، دائیں اور بائیں سے درآمد شدہ راستوں اور مذاہب کی پیروی کی، اور ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ دائیں بازو کا، اور ایک گروہ بائیں بازو کا، اور دائیں بازو کی اپنی اقسام ہیں اور بائیں بازو کی اپنی۔ اگر امت نے اپنے بنیادی مرجع یعنی اپنی شریعت کو چھوڑ دیا جس کا اللہ نے اسے پابند کیا ہے، تو اُمت کبھی متحد نہیں ہوسکتی:
<<ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۱۸ اِنَّہُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللہِ شَيْـــــًٔا۰ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۰ۚ وَاللہُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ۱۹ (الجاثيہ۴۵:۱۸-۱۹)>> اس کے بعد اب اے نبیؐ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمھارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔
وحدتِ دار(علاقوں اور ممالک کا اتحاد): فقہاء اسلامی ممالک کو ’دیارِ اسلام‘ کے بجائے ’دار الاسلام‘ کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ متعدد علاقے ہوں، لیکن وہ ایک ہی دار (گھر) ہیں، دار الاسلام۔ اور اس کا ایک گھر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں کے ساتھ معاشی، عسکری، سائنسی، ادبی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر باہمی تعاون اور یکجہتی کے پابند ہیں۔ چنانچہ یہ باہمی تعاون کرنے والی ایک امت ہے، جیسے ایک جسم کے کچھ حصوں کو تکلیف ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے، ایک امت جیسے ایک مضبوط عمارت کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے، امت ایسے ہی تھی اور ایسی ہی ہونی چاہیے۔
جب معتصم کو معلوم ہوا کہ رومیوں کے ملک میں ایک مسلمان عورت کے چہرے پر ایک رومی نے تھپڑ مارا ہے اور اس نے وامعتصماه (اے معتصم میری مدد کو پہنچو) کہہ کر فریاد کی ہے،تو اس عورت اور معتصم کے درمیان سمندر اور صحرا حائل تھے۔ لیکن جب یہ بات اس تک پہنچی تو اس نے کہا: لبیک اختاہ (میری بہن میں حاضر ہوں!)
پھر اس نے لشکر تیار کیے اور رومیوں سے لڑنے کے لیے کمربستہ ہوگیا۔ نجومیوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک ستاروں کے حساب سے، لڑائی کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے، لہٰذا انجیر اور انگور پکنے کا انتظار کرو۔ اس نے ان کی بات نہیں سنی اور اپنے لشکروں کو لے کر چل پڑا۔ رومیوں سے مشہور تاریخی جنگ عموریہ میں مقابلہ کیا، اور فتح یاب ہوا، یہ ایک فیصلہ کن اور واضح فتح تھی۔
آج ہم اگروامعتصماه پکاریں تو ہمارے حکمرانوں میں سے کون سنے گا یا جواب دے گا؟ ہم کس کو پکاریں؟ اور مسلم خواتین میں سے کسی کو بالوں سے گھسیٹا جا رہا ہے، کسی کے چہرے پر تھپڑ مارے جا رہے ہیں، کسی کو بے عزت اور بے آبرو کیا جارہا ہے، اور کسی کے بچوں اور شوہر کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جا رہا ہے۔ اب فلسطین میں، اگر یہ عورت پکارے تو کون اس کی پکار سنے گا؟