مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اللہ کے محبوب بندے

اللہ تعالیٰ نے ’ضمیر‘ کی شکل میں انسان کو ایسا خیر خواہ عطا فرمایا ہے جو نیکی کی طرف اسے متوجہ ایسے کرتا ہے جیسے خوشبو کا جھونکا۔ اگر اس لمحے کو کھو دیا تو پھر شیطان اس نیکی کے خیال کو وسوسے کی نذر کر دے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ اور بندے کے درمیان حجاب آجائے گا۔ اس کا علاج یہ ہے:

<<وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۲۰۰ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۝۲۰۱ (الاعراف۷:۲۰۰-۲۰۱)>> اور اگر کبھی شیطان وسوسہ ڈال کر اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سب کچھ جاننے اور سننے والا ہے۔ حقیقت میں تقویٰ والے یہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں کہ کبھی شیطان کے اثر سے بُرا خیال ان کو چھو کر بھی گزرے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے؟

شیطانی وساوس سے ہوشیار اور چوکنا رہنا، برائی کرنے سے باز آجانا یا برائی کرلینے کے بعد توبہ کرلینا‘ حتیٰ کہ نزع کے عالم سے پہلے پہلے ہی توبہ کی توفیق مل جانا بھی انسان کی کامیابی ہے۔ البتہ کامیاب لوگوں کے درجات ضرور مختلف ہوسکتے ہیں۔ بُرائی کا احساس چھو لینے پہ ہی دل توبہ کی طرف مائل ہو جائے تو یہ دراصل عظیم لوگوں کی نشانی ہے۔ ان لوگو ں کو غلطی یا گناہ کے چھوٹے ہونے کی بجائے اس اللہ ربّ العزت کے عظیم ترین مرتبے کا علم ہوتا ہے جس کی نافرمانی ہورہی ہوتی ہے۔ اسی لیے گناہ کا خیال آجانا بھی ان کے لیے باعثِ ندامت ہوتا ہے اور اس کے لیے بھی وہ اپنے ربّ سے معافی کے خواستگار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ اپنے شایانِ شان جن سے محبت کرتا ہے۔ کسی سے گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ بندہ وہ ہے جو اپنے ربّ کے حضور فوراً معافی کی درخواست پیش کردے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنے پر ہر لمحہ تیار ہے اور منتظر ہے کہ گنہگار اس کی طرف پلٹ آئیں:

<<وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللہَ يَجِدِ اللہَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝۱۱۰ (النساء ۴:۱۱۰ )>> جو شخص برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے تو اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔

<<وَالَّذِيْنَ اِذَافَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۝۰۠وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۣ۠وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝۰۠ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۵)>> جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا گناہ کربیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے اور اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔ فی الواقع اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرسکتا ہے۔ (اور ان کی خوبی یہ ہے کہ ) اپنے برے کام پہ اصرار نہیں کرتے، اور جانتے بوجھتے بُرے کام کو کرنے پر ہٹ دھرمی اختیار نہیں کرتے۔

گویا کہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ بندوں کی یہ نشانی ہے کہ وہ شیطانی طرز عمل اختیار کرتے ہیں، یعنی اپنے قصور کو نہ ماننا، شرمندہ نہ ہونا، اپنی غلطی کو درست قرار دینے کے لیے بے سروپا دلائل دینا، گناہ اور غلطی پہ استغفار نہ کرنا، بندوں سے معذرت کرنے کو حقیر جاننا، بدلحاظ و بے مروت ہوجانا، جانتے بوجھتے اپنی غلطی‘ نافرمانی اور گناہ پر اَڑ جانا۔ اس کے علاوہ شیطانی طرز عمل یہ بھی ہے کہ اپنی کمزوریوں، گناہوں اور جرائم کو افشا ہوتے دیکھ کر زخمی اَنا کے غرورِ نفس میں مبتلا ہو کر ظالمانہ رویہ اختیار کرلینا۔ ایسا خطرناک ہوجانا جیسا کہ زخمی سانپ خطرناک ترین ہو جاتا ہے۔ تکبر و غرور کے غبارے میں جب ہوا بھرجاتی ہے تو متکبرین میں شیطانی روح بدرجۂ اَتم بیدار ہو جاتی ہے ۔ حسد، بغض و عناد، انتقام، کینہ اسی تکبر کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ ان روحانی بیماریوں کے نتیجے میں انسان ذہنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ ذہنی ونفسیاتی بیماری بالآخر جسمانی آزار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

قصۂ آدم و ابلیس میں انسانی زندگی کی تعمیر و تخریب کا یہی رازہے کہ اگر اولادِ آدم اپنے والدین (آدم و حوا) کے نقش قدم پر چلے گی، یعنی اللہ کی نافرمانی اور حقوق العباد میں کوتاہی ہو جانے کے بعد توبہ و انابت کا طرزِعمل اختیار کرے گی اور اپنی اصلاح کرلے گی، تو جنّت میں ان کے ساتھ رہے گی اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنے والے فرشتے سلام و مرحبا کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے ۔اگر شیطان کا متکبرانہ طرزِ عمل اختیار کرے گی تو شیطان کے ساتھ جہنم کو اپنا ٹھکانہ پائے گی، کیونکہ ’’ہر شخص اپنے ہی کیے ہوئے اعمال کے بدلے گروی ہے‘‘۔ (المدثر ۴۷:۳۸)

عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے