مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خیروشر کا منبع دل

یہی ’ران‘ ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے:

<<كَلَّا بَلْ ۝۰۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۱۴(المطففین۸۳ :۱۴)>> ہرگز نہیں بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پہ ان کے بُرے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جسم کے ہر عضو کی کوئی خاصیت اور اس کا کام مقرر فرمایا ہے۔ ہاتھ، پائوں، زبان، آنکھ اور کان کا اپنا کام ہے۔ اسی طرح دل کا اصل کام ربّ العزت کی خشیت طاری رکھنا ہے اور دل جسم میں سب سے اعلیٰ اور افضل عضو ہے۔ اس کی یہ فضیلت ربّ العزت کی محبت سے مامور ہونے کی بنا پر ہے۔ دل کا کام حقیقت میں اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے ہدایت کو قبول کرنا ہے۔ دل کا اللہ کے ذکر سے مامور رہنا ہی اس کی زندگی اور اطمینان ہے: <<اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۝۲۸ۭ>>۔ طبعی خواہشات اور شہوات کی پیروی کی بنا پر دل پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔

دل کی نگری میں فرشتوں اور شیطان کی ہر وقت کش مکش جاری رہتی ہے۔ جب تک کوئی ایک دوسرے پہ غالب نہ آجائے، یہ اُتار چڑھائو ہروقت جاری رہتا ہے۔ قلب کے معنی ہی متحرک اور ہرآن انقلابی کیفیت طاری رہنے کے ہیں۔ اس انقلابِ خیر و شر پہ ہی انسان کا عمل موقوف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے یہ ٹھیک ہو تو سارا جسم ٹھیک ہوتا ہے۔ اس میں بگاڑ ہو تو سارے جسم میں بگاڑ پید اہو جاتا ہے۔ سنو وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث:۸۶۴)

نیکی و بھلائی پہ ثابت قدم رہنے یا انکار کرنے میں دل تین طرح کے ہوتے ہیں:

تقویٰ سے آباد دل: ایسے دل میں پاک و صاف خیالات آتے ہیں اور فرشتہ ایسے دل کی ہر لمحہ راہنمائی کرتا ہے۔ ایسے دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں اور اپنے محبوبِ حقیقی کی رضا پر راضی و خوش رہتے ہیں۔ یہ انبیاؑ، صدیقین، شہدا اور صالحین کے دل ہوتے ہیں:

<<اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝۳۰ نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝۰ۚ (حٰم سجدہ۴۱:۳۰-۳۱)>> جن لوگوں نے کہا اللہ ہی ہمارا ربّ ہے اور اس پہ ثابت قدم رہے یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، نہ غم کھائو اور خوش ہو جائو، کہ تمھارے لیے اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں آپ کے دوست و مددگار ہیں۔

انھی لوگوں پہ شیطان کے وار کامیاب نہیں ہوتے، ان سے شیطان مایوس ہو چکا ہوتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے کہ ’’تیرے مخلص بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔‘‘ (الحجر ۱۵:۴۰)

نفاق پر مبنی دل: یہ دوسری قسم کے دل شیطان کے قابو میں ہیں، اس لیے وہ ان سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ یہ مشرک، ملحد، فاسق اور منافق لوگوں کے دل ہیں۔ یہ شیطان کے کارندے اور شیطان ان کا مددگار ہے۔ یہ نفسانی خواہشات سے بھرے رہتے ہیں۔ بُرے، ناپاک خیالات کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔ شیطانی افکار کی یلغار ان کو نیکی کے قرب سے بھی دُور رکھتی ہے۔ شیطان ان کو گمراہی کی وادیوں میں بھٹکائے پھرتا ہے۔ یہی وہ دل ہیں جن پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ مہر لگنے کا مطلب ہے کہ وہ مکمل طور پر شیطان کے گروہ میں شامل ہو چکے ہیں۔

نیکی اور بدی کی کش مکش پر مبنی دل: تیسری طرح کے دل وہ ہیں جن کی کیفیات ملی جلی رہتی ہیں۔ ان میں نیکی اور بدی کی کش مکش جاری رہتی ہے۔ کبھی شیطان عقلی دلائل سے برائی میں کشش پیدا کرتا ہے اور کبھی دل اپنی اصلی فطرت کے ساتھ برائی سے منع کرتا اور نیکی میں کشش پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح نفس امارہ اور نفس لوامہ میں کش مکش جاری رہتی ہے۔ حتیٰ کہ سلیم الفطرت انسان نیکی پہ ثابت قدم ہو جاتا ہے اور برائی کی طرف جھکنے والا برے کام پر ڈٹ جاتا ہے۔ نیکی پہ قائم رہنے کی مسلسل کوشش اور جدوجہد سے کبھی نہ کبھی یہ دل ان خالص بندوں میں شامل ہو جاتا ہے جن کو کامیابی کی نوید سنائی جاتی ہے ،اور کمزور ایمان والا مسلسل بُرائی کرنے اور اپنے ضمیر کو سلا دینے کی بنا پر شیطان کے کارندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’(انجام کار) ان میں سے کوئی نیک بخت ہوگا کوئی بدبخت‘‘۔ (ھود۱۱:۱۰۵)

شیطان کے اصل ہدف وہ دل ہیں جو ہر لمحہ اور ہروقت برسرِپیکار ہیں۔ ’کھینچے ہے مجھے کفر تو روکے ہے مجھے ایماں‘ کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ شیطان کی طرف سے خواہشاتِ نفس، دنیا کی محبت اور اس کی دل فریبیوں میں مگن ہوجانے کے لیے پھیلائے ہوئے خوب صورت جال، اور اللہ رب العزت کی طرف سے دل میں ڈالا گیا نیکی کا جذبہ و خیال، دونوں میں ایسی مسلسل کش مکش ہے کہ جس سے کسی کو مفر نہیں۔