ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تحریکِ پاکستان سے وابستگی
نعمت اللہ خان صاحب اپنے حُسن سلوک اور باغ و بہار طبیعت کی وجہ سے سب حلقوں میں مقبول تھے۔ ان کی پوری زندگی محنت، پاکستان سے محبت، بے سہارا افراد، غریبوں کی خدمت، اسلام کے فروغ اور اُس کی اطاعت شعاری کی دلچسپ اور سبق آموز داستان سے عبارت ہے، جو نئی نسل کے لیے امید اور حوصلے کا سبب بن سکتی ہے۔
وہ یکم اکتوبر ۱۹۳۰ء کو ہندستان کے مشہور شہر اجمیر کے ایک تعلیم یافتہ متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریلوے میں کلرک تھے۔ اُن کے والدین کا آبائی وطن تو شاہ جہاں پور تھا، لیکن والد عبدالشکور خان ملازمت کی وجہ سے اجمیر میں رہتے تھے۔ ۱۹۴۰ء میں اُن کا انتقال ہوا تونعمت اللہ خان کی عمر محض دس سال تھی۔ ان کے نانا، ان کی والدہ اور ان کے بہن بھائیوں کو شاہ جہاںپور لے آئے، جہاں ان کی نگرانی اور سرپرستی میں خان صاحب کی ابتدائی تعلیم دوبارہ شروع ہوئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے گزربسر کے لیے ایک پرائمری اسکول میں تیس روپے ماہانہ کی ملازمت اختیار کر لی۔
ہندستان میں ۱۹۴۶ء کے انتخابات کا اعلان ہوا تو اُن کی عمر پندرہ سولہ سال تھی۔ اُن کے علاقے سے مسلم لیگ کے ایک امیدوار کریم الرضا تھے۔ نعمت اللہ خان نے اُن کی انتخابی مہم کے دوران میں جلسوں اور جلوسوں میں شرکت شروع کردی۔ اِس طرح وہ عملی طور پر تحریک پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ وہ ان جلسوں میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ نظمیں اور ترانے پڑھتے تھے۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے شان دار کامیابی حاصل کی۔اُن کے حلقے کے مسلم لیگی امیدوار بھی کامیاب ہوگئے تھے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد قائداعظم نے کامیاب ہونے والے مسلم لیگی ارکان کا ایک اجلاس دہلی میں طلب کیا تو کریم الرضا کو بھی دعوت ملی۔ وہ اپنے نوجوان اور سرگرم انتخابی کارکن نعمت اللہ خان کو بھی اپنے ساتھ دہلی لے گئے جہاں اُنھیں ’مسلم لیگ نیشنل گارڈ‘ کا رکن بنا دیا گیا، وہ سب سے کم عمر رکن تھے۔ ان کو اس اجلاس میں قائداعظم اور تحریک پاکستان کے دوسرے اکابرین کو بہت قریب سے دیکھنے اور اُن کی تقریریں سننے کا موقع ملا۔ جس کی وجہ سے اُن کے دل میں پاکستان سے نہ ختم ہونے والی محبت پیدا ہوئی۔
وہ کہا کرتے تھے کہ ان اکابرین کی تقریروں کا لب لباب اور نچوڑ یہی ہوتا تھا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد اِسی طرح کی ایک اسلامی، فلاحی ریاست کا قیام تھا، جس کی بنیاد آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں رکھی تھی۔ اسی نعرے، وعدے اور مقصد کے لیے ہندستان کے مسلمان قائداعظم کی قیادت میں پاکستان بنانے کی خاطر جمع ہوئے تھے۔ نعمت اللہ خان ابھی میٹرک میں تھے کہ انھیں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔ اِس طرح وہ کم عمری ہی میں تحریک پاکستان کا لازمی حصہ بن گئے۔