ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
امت کے پاس کوئی معتصم نہیں !
موجودہ حکمرانوں نے ان لوگوں کی پکار سنی جو یہاں اور وہاں چیخ رہے تھے، لیکن ان میں کوئی معتصم نہیں۔ معتصم کہاں ہے، اس کی غیرت کہاں ہے، اس کی بہادری کہاں ہے جس نے ایک عورت کی مدد کے لیے لشکر تیار کیے اور دشمن سے جنگ کی تھی ؟
ایک امت جس کی ناک خاک میں رگڑی گئی، دہشت گردی کے نام پر اس سے جنگ لڑی گئی۔اب معاملہ ایک عورت کے چہرے پر تھپڑ مارنے کا نہیں ہے، بلکہ ایک امت کا ہے جس کی ناک خاک میں رگڑی گئی ہے، ایک ذلیل اور حقیر سمجھی جانے والی امت، اور اس سے دشمن قوتیں مختلف عنوانات کے تحت لڑ رہی ہیں، جن میں آخری عنوان دہشت گردی کا ہے، اور یہ ایک جھوٹا عنوان ہے، کیونکہ مقصود دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اسلام اور امت اسلامیہ نشانہ ہے۔
ورنہ اس کا کیا مطلب ہے کہ اسلامی مزاحمتی تحریک کی نمائندگی کرنے والی اسلامی جماعت حماس، اور اسلامی جہاد کی جماعت، اور فلسطین میں مزاحمتی دھڑے، جو اپنی زمین، اپنی عزت، اپنی حرمتوں اور اپنے مقدس مقامات کا دفاع کر رہے ہیں، یہ کیسے دہشت گرد ہو گئے؟
کشمیر میں کشمیری جہاد کی تحریک، اور خیراتی انجمنیں جو مسلمانوں کو امداد دیتی ہیں اور ان کی مدد کرتی ہیں۔ کیا یہ دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں، اور کیا یہ لوگ دہشت گرد ہیں؟ وہ اسلامی دعوت اور اسلامی تحریک کو روکنا چاہتے ہیں۔ اسلامی بیداری، اور اسلامی طاقت کو کمزور کرنا، اور اسے ’دہشت گردی‘ کے عنوان سے منتشر کرنا چاہتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، ہم اپنی قوم، اپنے رہنماؤں، اور اپنے لیڈروں میں ایسے لوگوں کو پاتے ہیں جو اس دشمن کے قافلے میں چلتے ہیں، اور ان کی دہلیزپر جھکتے ہیں، اور ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جو بآوازِ بلند ’نہیں‘ کہہ سکے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے وہ آدمی پسند ہے جس پر ذلت مسلط کی جائے، تو وہ پورے زور سے’نہیں‘ کہے۔
عوام میں بہت خیر ہے، انھیں بس دُور اندیش اور جراءت مند قیادت کی ضرورت ہے۔ امت قیادت سے محروم ہے، لیکن عوام میں بہت بھلائی ہے، اور وہ بہت کچھ پیش کر سکتے ہیں، لیکن انھیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو طاقت کو سمجھے، اسے منظم کرے، اسے بہتر بنائے، اس کی صفیں سیدھی کرے، اور اسے دشمن کے سامنے کھڑا کرے، انھیں قیادت کی ضرورت ہے۔
ہم سے خلافت کھو جانے سے سیاسی قیادت کھو گئی، اور ہم نے دینی قیادت بھی کھو دی، حالانکہ اسلام میں دین اور سیاست کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے۔ خلافت صرف ایک مذہبی تنظیم نہیں تھی، بلکہ جیسا کہ علما نے خلیفہ کی تعریف میں کہا کہ وہ دین کی حفاظت کے معاملے میں رسولؐ اللہ کا نائب ہوتا ہے ، اور اس کے ذریعے دنیا کی حفاظت کرتا ہے۔