ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انسانی رویے اور معاشرتی زندگی
[ڈاکٹر بشریٰ تسنیم | مارچ ۲۰۲۶ | اسلامی معاشرت] قرآن حکیم میں تخلیقِ آدمؑ کا واقعہ مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے۔ سورۂ اعراف میں قصۂ تخلیق آدم تفصیل سے ملتا ہے۔ اس واقعہ کے مناظر کا تصور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے تین کردار سامنے آتے ہیں:فرشتے ، آدمؑ اورشیطان ۔انسانی زندگی کی تعمیر و تخریب کے سارے راز انھی کرداروں میں مضمر ہیں۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت اور تسبیح و تہلیل میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور انھیں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ آدمؑ کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا نائب اور علمی برتری کی بناپر فرشتوں سے سجدہ کروایا گیا اور انھیں صاحب ِ اختیار بنایا گیا۔ شیطان نے اپنے ارادہ و اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے آدمؑ کے مقابلے میں خود کو برتر جانا اور تکبر کیا اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ٹھیرا ۔شیطان نے آدمؑ سے حسد کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے مقابلے پہ آیا، اور انسان کو اپنا دشمن سمجھا کہ اسی کی وجہ سے اُسے ذلت اٹھانا پڑی ہے:
<<قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَہُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّہُمْ اَجْمَعِيْنَ۳۹ (الحجر ۱۵:۳۹)>> شیطان بولا ’’میرے رب، جس طرح تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لیے دل فریبیاں پیدا کرکے ان سب کوبہکا دوں گا‘‘۔
آدمؑ نے خطا ہو جانے پہ فوری ردعمل، ندامت کی صورت میں ظاہر کیا، اپنی غلطی تسلیم کرلی۔ اپنی جان پہ خود ظلم کرلینے کا احساس ان کے ہر احساس پہ غالب آجاتا ہے اور اللہ کی طرف توبہ و انابت کی تڑپ ان کے جسم و جاں کو بے قرار رکھتی ہے، تو پکار اُٹھتے ہیں:
<<قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا ۰۫ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۲۳ (الاعراف۷:۲۳)>> (آدم و حوا) دونوں بول اٹھے ’’اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے اُوپر ستم کرلیا۔ اب اگر آپ نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘۔