ماہنامہ ترجمان القرآن، مارچ 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مارچ 2026) کا شمارہ ہے، جس میں رمضان و عید کی روحانی تعلیمات، توحید کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں اسلامی اقتصادیات پر جاری سلسلے کی مزید اقساط، تکبر و تواضع پر اخلاقی گفتگو، اور غزہ کی صورتحال، بنگلہ دیش کے انتخابات اور مسئلہ کشمیر پر تجزیاتی مضامین شامل ہیں۔ آخر میں زکوٰۃ کے فقہی مسائل پر بھی رہنمائی دی گئی ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قیادت، کردار اور سیاسی اخلاقیات
قدامت پسند حلقوں کے دباؤ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی قیادت کو ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل رپورٹس سامنے آئیں کہ سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود باراک نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ فلسطینی آبادی کی قدرتی افزائش اسرائیل کے لیے ایک تزویراتی کمزوری ہے۔ اس تناظر میں بعض تجزیہ کار غزہ میں جاری نسل کشی اور مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے کو دیکھنے لگے ہیں۔ایک حالیہ بیان میں باراک نے جیفری ایپسٹین سے اپنی ملاقاتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ افسوس کس بات پر؟ خود ان ملاقاتوں پریا اس بات پر کہ وہ ملاقاتیں منظرعام پر آ گئیں؟
غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں، یہ طاقت اور ثابت قدمی، بیانیے اور حقیقت، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک طویل کش مکش ہے۔ عسکری قوت وقتی غلبہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام کے لیے سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جراءت درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کے راستے مسدود رہے تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو شکل دے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عارضی طور پر غالب کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ پائیدار امن کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کس کے پاس ہے؟