مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی نظامِ تعلیم

سوال: ۱- اسلامی نظامِ تعلیم سے کیا مراد ہے؟

۲- آپ کی نگاہ میں پاکستان کی بقاء و استحکام کے لیے اسلامی نظامِ تعلیم کی ضرورت و اہمیت کیا ہے؟

۳- اسلامی نظامِ تعلیم کی طرف بڑھنے کی کوششوں کے راستے میں کونسی طاقتیں مزاحمت کر رہی ہیں؟

۴- آپ کے خیال میں گذشتہ ۲۷ برس میں پاکستان اسلامی نظامِ تعلیم کے قریب آیا یا دُور ہٹا؟

۵- آپ کے نزدیک اسلامی نظامِ تعلیم کو عملاً بروئے کار لانے کے لیے کونسے اقدامات ضروری ہیں؟ تعلیمی، تہذیبی، ملی۔ اور جغرافیائی زندگی پر اس نظریے کے کیا اثرات مرتب ہونے چاہئیں؟

۶- "نور خان تعلیمی پالیسی" کے نفاذ کی راہ میں کون سا ہاتھ رکاوٹ بنا؟

جواب ۔ ۱- اسلامی نظامِ تعلیم سے مراد ایسا نظامِ تعلیم ہے جس میں تعلیمی نصاب کے جملہ اجزاء کو اسلامی اصول و نظریات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہو، معلمین و متعلمین دونوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا خاص خیال رکھا گیا ہو اور عربی زبان اور کتاب و سُنّت کی ضروری و اساسی تعلیمات کو نظامِ تعلیم کا جزوِ لازم قرار دیا گیا ہو۔

۲- پاکستان کے بقاء و استحکام کے لیے اسلامی نظامِ تعلیم کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ اس حقیقت کو ذہن نشین کر لینے سے ہو سکتا ہے کہ ملک و قوم کی قیادت ہمیشہ تعلیم یافتہ طبقے ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اُن پڑھ یا نیم خواندہ طبقے اپنے قائدین ہی کے پیچھے چلتے ہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے کے بناؤ اور بگاڑ میں نظامِ تعلیم کو جو مقام حاصل ہے وہ محتاجِ بیان نہیں ہے۔

۳- اسلامی نظامِ تعلیم کی طرف پیش قدمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ حکومت ہی ہے جو ایسے نظام سے واقف بھی نہیں اور خائف و گریزاں بھی ہے۔

۴- گزشتہ ۲۲ برس میں پاکستان اسلامی نظامِ تعلیم کی طرف ایک قدم آگے بڑھا ہے تو دو قدم پیچھے ہٹا ہے۔

۵- اسلامی نظامِ تعلیم کو بروئے کار لانے کے لیے دو طرح کے اقدامات ضروری ہیں۔ ایک وہ جو تعلیم گاہوں کے اندر سے شروع ہوں، دوسرے وہ جن کا آغاز باہر کی رائے عام کے دباؤ سے ہو۔ دونوں محاذوں پر پُر امن، منظم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے، اس لیے سیاسی، معاشی، معاشرتی میدان میں جب تک اسلامی انقلاب رونما نہ ہوگا تعلیمی میدان میں تبدیلی آسان اور دیر پا نہ ہوگی۔

۶- معلوم نہیں کہ نور خاں تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں کونسا ہاتھ رکاوٹ بنا؟

(ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۶۹ء)