رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سوالات و اعتراضات بسلسلہ بحث خلافت -- (۲)
اب میں اصل مسائل کی طرف آتا ہوں جو اس سلسلۂ مضامین میں زیر بحث آئے ہیں۔
اقرباء کے معاملہ میں حضرت عثمان ؓ کے طرز عمل کی تشریح:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے اقرباء کے معاملہ میں جو طرز عمل اختیار فرمایا اس کے متعلق میرے وہم و گمان میں بھی کبھی یہ شبہ نہیں آیا کہ معاذ اللہ وہ کسی بد نیتی پر مبنی تھا۔ ایمان لانے کے وقت سے ان کی شہادت تک ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص ترین اور محبوب ترین صحابیوں میں سے تھے۔ دین حق کے لیے اُن کی قربانیاں، ان کے نہایت پاکیزہ اخلاق اور ان کے تقویٰ و طہارت کو دیکھ کر آخر کون صاحبِ عقل آدمی یہ گمان کر سکتا ہے کہ اس سیرت و کردار کا انسان بد نیتی کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کر سکتا ہے جس کو آج کل کی سیاسی اصطلاح میں خویش نوازی (NEPOTISM) کہا جاتا ہے۔ دراصل ان کے اس طرزِ عمل کی بنیاد وہی تھی جو انہوں نے خود بیان فرمائی ہے کہ وہ اسے صلۂ رحمی کا تقاضا سمجھتے تھے [کنزالعمال ج٥، حدیث نمبر ۲٣-۲۴، طبقات ابن سعد، جلد ٣، ص ٦۴]۔ اُن کا خیال یہ تھا کہ قرآن و سُنت میں جس صلۂ رحمی کا حکم دیا گیا ہے اس کا تقاضا اسی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جو بھلائی کرنا بھی آدمی کے اختیار میں ہو وہ اِس سے دریغ نہ کرے۔ یہ نیت کی غلطی نہیں بلکہ راستے کی غلطی یا با الفاظِ دیگر اجتہادی غلطی تھی۔ نیت کی غلطی وہ اُس وقت ہوتی جبکہ وہ اس کام کو ناجائز جانتے اور پھر محض اپنے مفاد یا اپنے اقربا کے مفاد کے لیے اس کا ارتکاب کرتے لیکن اسے اجتہادی غلطی کہنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے، کیونکہ صلہ رحمی کے حکم کا تعلق اُن کی ذات سے تھا نہ کہ ان کے منصبِ خلافت سے۔ انہوں نے زندگی بھر اپنی ذات سے اپنے اقربا کے ساتھ جو فیاضانہ حُسنِ سلوک کیا وہ بلاشبہ صلہ رحمی کا بہترین نمونہ تھا۔ انہوں نے اپنی تمام جائیداد اور ساری دولت اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دی اور خود اپنی اولاد کو ان کے برابر رکھا۔ اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے، مگر صلہ رحمی کا کوئی حکم خلافت کے عہدے سے تعلق نہ رکھتا تھا کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے بھی اپنے اقربا کو فائدہ پہنچانا اس حکم کا صحیح تقاضا ہوتا۔
صلہ رحمی کے شرعی احکام کی تاویل کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ اپنے اقرباء کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے کسی جُز کو بھی شرعاً ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ ظاہر ہے کہ شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ خلیفہ کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہ دے جو اُس کے خاندان یا برادری سے تعلق رکھتا ہو، نہ خُمس کی تقسیم یا بیت المال سے امداد دینے کے معاملہ میں کوئی ایسا ضابطہ شرعی موجود تھا جس کی انہوں نے کوئی خلاف ورزی کی ہو اس سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی جس وصیت کا میں نے ذکر کیا ہے وہ بھی کوئی شریعت نہ تھی جس کی پابندی حضرت عثمانؓ پر لازم اور خلاف ورزی ناجائز ہوتی۔ اس لیے اُن پر یہ الزام ہرگز نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے اس معاملہ میں حدِّ جواز سے کوئی تجاوز کیا تھا۔ لیکن کیا اس کا بھی انکار کیا جا سکتا ہے کہ تدبیر کے لحاظ سے صحیح ترین پالیسی وہی تھی جو حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے اپنے اقرباء کے معاملہ میں اختیار فرمائی اور جس کی وصیت حضرت عمرؓ نے اپنے تمام امکانی جانشینوں کو کی تھی؟ اور کیا اس بات کو ماننے میں بھی تامل کیا جا سکتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے ہٹ کر جو پالیسی اختیار کی وہ بلحاظ تدبیر نامناسب بھی تھی اور عملاً سخت نقصان دہ بھی ثابت ہوئی؟ بلاشبہ حضرت والا کو اُن نقصانات کا اندازہ نہیں تھا جو بعد میں اُس سے ہوئے، اور یہ تو کوئی احمق ہی خیال کر سکتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا اس ارادے سے کیا کہ یہ نتائج اُس سے برآمد ہوں لیکن تدبیر کی غلطی کو بہرحال غلطی ماننا پڑے گا۔ کسی تاویل سے بھی اس بات کو صحیح نہیں ٹھیرایا جا سکتا کہ ریاست کا سربراہ اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کو حکومت کا چیف سیکرٹری بنا دے، اور جزیرۃ العرب سے باہر کے تمام اسلامی مقبوضات پر اپنے ہی خاندان کے گورنر مقرر کر دے۔ (یہ واضح رہے کہ اُس زمانے کے نظم و نسق کی رو سے افریقہ کے تمام مفتوحہ علاقے مصر کے گورنر کے ماتحت، شام کا پورا صوبہ دمشق کے گورنر کے ماتحت اور عراق، آذربائیجان، آرمینیا، اور خراسان و فارس کے تمام علاقے کوفہ و بصرہ کے گورنروں کے ماتحت تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ ان تمام صوبوں کے گورنر انہی کے رشتہ دار تھے۔ یہ ناقابلِ انکار تاریخی واقعات ہیں جنہیں واقعہ کی حد تک موافق و مخالف سب نے مانا ہے اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ واقعہ ایسا نہیں ہوا تھا)۔
اِس تدبیر کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بہت سے بزرگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ اپنے خاندان کے جن لوگوں کو حضرت عثمانؓ نے عہدے دیتے تھے ان میں سے اکثر حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی عہدے پا چکے تھے۔ مگر یہ بڑا کمزور استدلال ہے۔ اوّل تو حضرت عمرؓ نے اپنے رشتے داروں کو عہدے نہیں دیتے تھے بلکہ دوسرے لوگوں کو دیتے تھے جن میں حضرت عثمانؓ کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ یہ چیز کسی کے لیے بھی دل کی جلن کا موجب نہ ہو سکتی تھی۔ دل کی جلن لوگوں کو اس وقت لاحق ہوتی ہے جب سربراہ مملکت خود اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے عہدے دینے لگے۔ دوسرے، حضرت عمرؓ کے زمانے میں ان لوگوں کو اتنے بڑے عہدے کبھی نہیں دیتے گئے تھے جو بعد میں ان کو دے دیتے گئے۔ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ان کے زمانہ میں مصر کے صرف ایک فوجی افسر تھے۔ حضرت معاویہؓ صرف دمشق کے علاقے کے گورنر تھے۔ ولید بن عقبہ صرف الجزیرہ کے عرب علاقے پر حاکم بنائے گئے تھے۔ سعید بن العاص اور عبد اللہ بن عامر بھی چھوٹے چھوٹے عہدوں پر رہے تھے۔ یہ صورت ان کے زمانے میں کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی کہ جزیرۃ العرب سے باہر کے تمام اسلامی مقبوضات ایک ہی برادری کے گورنروں کے ماتحت ہوں اور وہ برادری بھی خلیفۂ وقت کی اپنی برادری ہو۔
یہ بات بھی ناقابل انکار ہے کہ یہ سب لوگ جن کو حضرت عثمانؓ کے آخری عہد میں اتنی بڑی اہمیت حاصل ہوئی، طُلَقَاء [ طلقاء سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی دے دی تھی] میں سے تھے، اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و تربیت سے فائدہ اٹھانے کا بہت کم موقع ملا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ حضورؐ کی بھی یہ پالیسی نہ تھی اور آپؐ کے بعد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی اس پر عامل نہیں ہوئے کہ ان لوگوں کا مقاطعہ کیا جائے، یا انہیں اسلامی ریاست میں کام کرنے کے ہر موقع سے الگ رکھا جائے۔ حضورؐ نے اور آپ کے بعد شیخینؓ نے ان کی تالیفِ قلب اور ان کی تربیت کرکے ان کو معاشرے میں اچھی طرح جذب کرنے کی کوشش فرمائی تھی اور ان سے ان کی استعداد کے مطابق کام بھی آپؐ اور دونوں خلفاء لیتے رہے مگر یہ پالیسی نہ حضورؐ کی تھی اور نہ شیخینؓ کی کہ سابقینِ اوّلین کے بجائے اب ان لوگوں کو آگے بڑھایا جائے اور مسلم معاشرہ اور ریاست کی رہنمائی و کارفرمائی کے مقام پر فائز ہوں۔ بعد کے واقعات سے، جبکہ بنی امیہ کے ہاتھ میں پورا اقتدار آیا، یہ بات عملاً ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ چاہے غیر دینی سیاست کے ماہر اور انتظامی اور فوجی لحاظ سے بہترین قابلیتوں کے مالک ہوں، لیکن امتِ مسلمہ کی اخلاقی قیادت اور دینی سربراہی کے لیے موزوں نہ تھے۔ یہ حقیقت تاریخ میں اتنی نمایاں ہے کہ کوئی وکالت و صفائی اس پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
حضرت معاویہؓ کو مسلسل ۱۹، ۲۰ سال ایک ہی صوبے پر گورنر رکھنا بھی شرعاً ناجائز نہ تھا، مگر سیاسی تدبیر کے لحاظ سے نامناسب ضرور تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ خواہ مخواہ کسی قصور کے بغیر ان کو معزول ہی کر دیا جاتا۔ صرف یہ بات کافی تھی کہ ہر چند سال کے بعد ان کا تبادلہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے کی گورنری پر کیا جاتا رہتا۔ اس صورت میں وہ کسی ایک صوبے میں بھی اتنے طاقتور نہ ہو سکتے تھے کہ کسی وقت مرکز کے مقابلے میں تلوار لے کر اُٹھ کھڑا ہونا اُن کے لیے ممکن ہوتا۔
بیت المال سے اقرباء کی مدد کا معاملہ:
بیت المال سے اپنے اقرباء کی مدد کے معاملہ میں حضرت عثمانؓ نے جو کچھ کیا اس پر بھی شرعی حیثیت سے کسی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔ معاذ اللہ انہوں نے خدا اور مسلمانوں کے مال میں کوئی خیانت نہیں کی تھی۔ لیکن اس معاملہ میں بھی ان کا طریق کار بلحاظ تدبیر ایسا تھا جو دوسروں کے لیے وجہِ شکایت بنے بغیر نہ رہ سکا۔
محمد بن سعد نے طبقات میں امام زہری کا یہ قول نقل کیا ہے:
<<واستعمل اقرباءه واهل بيته في الست الاواخر، وكتب لمروان بخمس مصر، واعطى اقرباءه المال وتأول في ذالك الصلة التي امر الله بها، واتخذ الاموال واستسلف من بیت المال وقال ان ابا بکر وعمر ترکا من ذالك ما هو لهما واني اخذته فقسمته في اقربائي فانکر الناس علیہ>>۔ (طبقات ابن سعد ج ۳، ص ۶۴)
حضرت عثمانؓ نے اپنی حکومت کے آخری ۶ سالوں میں اپنے رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں کو حکومت کے عہدے دیے، اور مروان کے لیے مصر کا خمس (یعنی افریقہ کے اموال غنیمت کا خمس جو مصر کے صوبے کی طرف سے آیا تھا) لکھ دیا، اور اپنے رشتہ داروں کو مالی عطیے دیتے، اور اس معاملہ میں یہ تاویل کی کہ یہ وہ صلہ رحمی ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ انہوں نے بیت المال روپیہ بھی لیا اور قرض بھی لیا، اور کہا کہ ابو بکرؓ و عمرؓ نے اس مال میں سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا اور میں نے اسے لے کر اپنے اقرباء میں تقسیم کیا ہے۔ اسی چیز کو لوگوں نے ناپسند کیا۔
یہ امام زہری کا بیان ہے جن کا زمانہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد سے قریب ترین تھا، اور محمد بن سعد کا زمانہ امام زہری کے زمانے سے بہت قریب ہے۔ ابن سعد نے صرف دو واسطوں سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اگر یہ بات ابن سعد نے امام زہری کی طرف یا امام زہریؒ نے حضرت عثمانؓ کی طرف غلط منسوب کی ہوتی تو محدثین اس پر ضرور اعتراض کرتے۔ اس لیے اس بیان کو صحیح ہی تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کی تائید ابن جریر طبری کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ افریقہ میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے وہاں کے بطریق سے ۳ سو قنطار سونے پر مصالحت کی تھی <<فامر بھا عثمان لآل الحکم>> (پھر حضرت عثمانؓ نے یہ رقم الحکم، یعنی مروان بن حکم کے باپ کے خاندان کو عطا کر دینے کا حکم دیا) [الطبری، ج٣، ص۷۹]۔ حضرت عثمانؓ نے خود بھی ایک موقع پر ایک مجلس میں، جہاں حضرت علیؓ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت معاویہؓ موجود تھے، اور ان کے مالی عطایا پر اعتراضات زیر بحث تھے، اپنے طرز عمل کی یہ تشریح فرمائی تھی:
”میرے دونوں پیش رو اپنی ذات اور اپنے رشتہ داروں کے معاملے میں سختی برتتے رہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رشتہ داروں کو مال دیا کرتے تھے۔ میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جس کے لوگ قلیل المعاش ہیں اس وجہ سے میں نے اُس خدمت کے بدلے میں جو میں اس حکومت کی کر رہا ہوں اس مال میں سے روپیہ لیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسا کرنے کا حق ہے۔ اگر آپ لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں تو اس روپے کو واپس کرنے کا فیصلہ کر دیجیے، میں آپ کی بات مان لونگا۔ سب لوگوں نے کہا آپ نے یہ بات بہت ٹھیک فرمائی۔ پھر حاضرین نے کہا آپ نے عبداللہ بن خالد بن اسید اور مروان کو روپیہ دیا ہے۔ ان کا بیان تھا کہ یہ رقم مروان کو ۱۵ ہزار کی اور ابن اسید کو ۵۰ ہزار کی مقدار میں دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ رقم ان دونوں سے بیت المال کو واپس دلوائی گئی اور لوگ راضی ہو کر مجلس سے اُٹھے۔“[الطبری، ج٣، ص٣۸۲۔ ابن الکثیر، ج٣، ص۷۹]
ان روایات سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اقرباء کو روپیہ دینے میں جو طرزِ عمل اختیار کیا تھا وہ ہرگز شرعی جواز کی حد سے تجاوز نہ تھا۔ انہوں نے جو کچھ لیا وہ یا تو صدر مملکت کی حیثیت سے اپنے حق الخدمت کے طور پر لے کر خود استعمال کرنے کے بجائے اپنے عزیزوں کو دیا، یا بیت المال سے قرض لے کر دیا جسے وہ ادا کرنے کے ذمہ دار تھے، یا اپنی صوابدید کے مطابق انہوں نے خمس کے مال کو تقسیم کیا جس کے لیے کوئی مفصل شرعی ضابطہ موجود نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ اگر حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی طرح وہ اپنے رشتہ داروں کے سوا دوسرے لوگوں کے ساتھ اس نوعیت کی فیاضی برتتے تو کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ مگر خلیفۂ وقت کا خود اپنے رشتہ داروں کے معاملہ میں یہ فیاضی برتنا موضع تہمت بن گیا۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے اسی بنا پر اپنے آپ کو ہر شک و شبہ سے بالا تر رکھنے کی خاطر اپنی ذات پر بھی سختی کی تھی اور اپنے عزیزوں کو بھی اُن فیاضیوں سے محروم رکھا تھا جو وہ دوسرے سب لوگوں کے ساتھ برتتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ احتیاط ملحوظ نہ رکھی اور وہ اعتراضات کے ہدف بن گئے۔
شورش کے اسباب:
حضرت عثمانؓ کے خلاف جو شورش برپا ہوئی اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کسی سبب کے بغیر محض سبائیوں کی سازش کی وجہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی، یا وہ محض اہلِ عراق کی شورش پسندی کا نتیجہ تھی، تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں ہے۔ اگر لوگوں میں ناراضی پیدا ہونے کے واقعی اسباب موجود نہ ہوتے اور ناراضی فی الواقع موجود نہ ہوتی تو کوئی سازشی گروہ شورش برپا کرنے اور صحابیوں اور صحابی زادوں تک کو اس کے اندر شامل کر لینے میں کامیاب نہ ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کو اپنی شرارت میں کامیابی صرف اس وجہ سے حاصل ہوئی کہ اپنے اقرباء کے معاملہ میں حضرت عثمانؓ نے جو طرزِ عمل اختیار فرمایا تھا اس پر عام لوگوں ہی میں نہیں بلکہ اکابر صحابہ تک میں ناراضی پائی جاتی تھی۔ اسی سے ان لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جو کمزور عناصر انہیں مل گئے ان کو اپنی سازش کا شکار بنا لیا۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ فتنہ اٹھانے والوں کو اسی رخنے سے اپنی شرارت کے لیے راستہ ملا تھا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ:
<<وكان الناس ينقمون على عثمان تقريبه مروان وطاعته له ويرون ان كثيرا مما ينسب الى عثمان لم يامر به وان ذالك عن رأى مروان دون عثمان فكان الناس قد شنفوا لعثمان لما كان يصنع بمروان ويقربه>>۔ (طبقات ابن سعد، ج ۵، ص ۳۶)
لوگ حضرت عثمانؓ سے اس لیے ناراض تھے کہ انہوں نے مروان کو مقرب بنا رکھا تھا اور وہ اس کا کہا مانتے تھے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بہت سے کام جو حضرت عثمانؓ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا حضرت عثمانؓ نے خود کبھی حکم نہیں دیا بلکہ مروان ان پر پوچھے بغیر اپنے طور پر وہ کام کر ڈالتا ہے اسی وجہ سے لوگ مروان کو مقرب بنانے اور اس کو مرتبہ دینے پر معترض تھے۔
ابن کثیر کا بیان ہے کہ کوفہ سے جو وفد حضرت عثمانؓ کے پاس شکایات پیش کرنے کے لیے آیا تھا اس نے سب سے زیادہ شدت کے ساتھ جس چیز پر اعتراض کیا وہ یہ تھی :
<<بعثوا الى عثمان من يناظره فيما فعل وفيما اعتمد من عزل كثير من الصحابة وتولية جماعة من بنى امية من اقربائه واغلظوا له فى القول وطلبوا منه ان يعزل عماله و يستبدل ائمة غيرهم>>۔ (البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۱۶۷)
اہل کوفہ نے کچھ لوگوں کو حضرت عثمانؓ سے اس امر پر بحث کرنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے بہت سے صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ بنی امیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کو گورنر مقرر کیا ہے۔ اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے بڑی سخت کلامی کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو معزول کرکے دوسروں کو مقرر کریں۔
آگے چل کر حافظ ابن کثیر پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار جو ان کے مخالفین کے پاس تھا وہ یہی تھا کہ :
<<ما ينقمون عليه من توليته اقرباءه و ذوی رحمه وعزله كبار الصحابة فدخل هذا فی قلوب كثير من الناس>>۔ (البدایہ، ج ۷، ص ۱۶۸)
حضرت عثمانؓ نے اکابر صحابہ کو معزول کرکے اپنے رشتہ داروں کو جو گورنر بنایا تھا اس پر وہ اظہارِ ناراضی کرتے تھے اور یہ بات بکثرت لوگوں کے دلوں میں اُتر جاتی تھی۔
طبری، ابن اثیر اور ابن کثیرؒ نے وہ مفصل گفتگوئیں نقل کی ہیں جو اس فتنے کے زمانے میں حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے درمیان ہوئی تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ مدینے میں جب حضرت عثمانؓ پر ہر طرف نکتہ چینیاں ہونے لگیں، اور حالت یہ ہو گئی کہ چند صحابہ (زید بن ثابت، ابو اسید الساعدی، کعب بن مالک اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم) کے سوا شہر میں کوئی صحابی ایسا نہ رہا جو حضرت والا کی حمایت میں زبان کھولتا، تو لوگوں نے حضرت علیؓ سے کہا کہ آپ حضرت عثمانؓ سے مل کر ان معاملات پر بات کریں۔ چنانچہ وہ ان کی خدمت میں تشریف لے گئے اور اُن کو وہ پالیسی بدل دینے کا مشورہ دیا جس پر اعتراضات ہو رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو میں نے عہدے دیتے ہیں اُنہیں آخر عمر بن الخطاب نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا ”عمرؓ جس کو کسی جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انہیں کوئی قابلِ اعتراض بات پہنچ جاتی تھی تو وہ بُری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں“۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا ”وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں“۔ حضرت علیؓ نے جواب دیا <<ان رحمهم مني لقريبة ولكن الفضل في غيرهم>>۔ ”بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں“۔ حضرت عثمانؓ نے کہا ”کیا عمرؓ نے معاویہؓ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟“ حضرت علیؓ نے جواب دیا ”عمرؓ کا غلام یرفا بھی ان سے اتنا نہ ڈرتا تھا جتنے معاویہؓ ان سے ڈرتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ معاویہؓ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عثمانؓ کا حکم ہے مگر آپ انہیں کچھ نہیں کہتے“[الطبری، ج٣، ص٣۷۷۔ ابن الاشیر، ج٣، ص ۷٦ ،------]۔
ایک اور موقع پر حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ کے گھر تشریف لے گئے اور اپنی قرابت کا واسطہ دے کر ان سے کہا کہ آپ اس فتنے کو فرو کرنے میں میری مدد کریں۔ انہوں نے جواب دیا ”یہ سب کچھ مروان بن الحکم، سعید بن العاص، عبداللہ بن عامر اور معاویہؓ کی بدولت ہو رہا ہے۔ آپ ان لوگوں کی بات مانتے ہیں اور میری نہیں مانتے“۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا ”اچھا اب میں تمہاری بات مانوں گا“۔ اس پر حضرت علیؓ انصارؓ و مہاجرین کے ایک گروہ کو ساتھ لے کر مصر سے آنے والے شورشیوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو واپس جانے کے لیے راضی کیا [الطبری، ج٣، ص٣۹۴۔ ابن الاشیر، ج٣، ص۸١۔۸۲]۔ اسی زمانہ فتنہ میں ایک اور موقع پر حضرت علیؓ سخت شکایت کرتے ہیں کہ میں معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور مروان ان کو پھر بگاڑ دیتا ہے۔ آپ خود منبرِ رسول پر کھڑے ہو کر لوگوں کو مطمئن کر دیتے ہیں اور آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کے دروازے پر کھڑا ہو کر مروان لوگوں کو گالیاں دیتا ہے اور آگ پھر بھڑک اٹھتی ہے[الطبری، ج٣، ص٣۹۸۔ ابن الاشیر، ج٣، ص۸٣۔۸۴]۔
حضرت طلحہؓ و زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے متعلق بھی ابن جریر نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ حضرات بھی اس صورتِ حال سے ناراض تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ ہرگز نہ چاہتا تھا کہ خلیفۂ وقت کے خلاف کوئی شورش یا بغاوت ہو یا ان کے قتل تک نوبت پہنچ جائے۔ طبری نے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ << انما اردنا ان يستعتب امير المؤمنين عثمان ولم نرد قتله فغلب سفهاء الناس الحلماء حتى قتلوه >>۔ ”ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ امیر المومنین عثمانؓ کو یہ پالیسی ترک کر دینے پر آمادہ کیا جائے۔ ہمارا یہ ہرگز خیال نہ تھا کہ وہ قتل کر ڈالے جائیں۔ مگر بے وقوف لوگ بُردبار لوگوں پر غالب آگئے اور انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔“
حضرت علیؓ کی خلافت:
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جن حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ باہر سے آئے ہوئے دو ہزار شورشی دارالخلافہ پر مسلط تھے۔ خلیفۂ وقت کو قتل تک کر گزرے تھے۔ خود دارالخلافہ میں بھی ایک اچھی خاصی تعداد ان کی ہم خیال موجود تھی۔ نئے خلیفہ کے انتخاب میں وہ لوگ یقیناً شریک ہوتے، اور ایسی روایات بھی بلاشبہ موجود ہیں کہ جب حضرت علیؓ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا تو ان لوگوں نے بعض حضرات کو زبردستی بھی بیعت پر مجبور کیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخاب غلط تھا؟ کیا اُس وقت حضرت علیؓ سے بہتر کوئی آدمی مدینہ ہی میں نہیں پوری دنیائے اسلام میں ایسا موجود تھا جسے خلیفہ منتخب ہونا چاہیے تھا؟ کیا اُس وقت کے رائج اور مسلّم اسلامی دستور کی رُو سے حضرت علیؓ جائز طور پر خلیفہ منتخب نہ ہو گئے تھے؟ کیا اسلامی دستور میں ایسی کوئی چیز کہیں پائی جاتی ہے کہ نئے خلیفہ کے انتخاب میں اگر سابق خلیفہ کے خلاف شورش برپا کرنے والا گروہ بھی شریک ہو گیا ہو تو اس کا انتخاب غیر قانونی قرار پائے؟ کیا یہ درست تھا اور یہی ہونا چاہیے تھا کہ ایک خلیفہ شہید ہو چکا ہو اور دوسرا خلیفہ اس کی جگہ جلدی سے جلدی منتخب نہ کر لیا جائے بلکہ دنیائے اسلام ایک مدت تک بے خلیفہ ہی پڑی رہے؟ اور اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت علی دانستہ ہی قاتلینِ عثمانؓ کو گرفتار کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے میں کوتاہی کر رہے تھے یا ان کے ہاتھ میں بے بس تھے تب بھی کیا اسلامی آئین و دستور کی رُو سے یہ بات ان کی خلافت کو ناجائز، اور ان کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہو جانے کو جائز کر دینے کے لیے کافی تھی؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو بعد کے واقعات کے بارے میں ایک صحیح رائے قائم کرنے کے لیے فیصلہ کُن اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان سوالات کا جواب اثبات میں دینا چاہتا ہو تو وہ ضرور اپنی دلیل پیش کرے لیکن پہلی صدی سے لے کر آج تک تمام اہلِ سُنّت بالاتفاق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفۂ راشد تسلیم کرتے رہے ہیں اور ہمارے اپنے ملک میں ہر جمعہ کو اہلِ سُنّت بالالتزام ان کی خلافت کا اعلان کر رہے ہیں کم و بیش یہی صورتِ حال خود حضرت علیؓ کے زمانے میں بھی تھی کہ ایک شام کے صوبے کو چھوڑ کر جزیرۃ العرب اور اس کے باہر کے تمام اسلامی مقبوضات اُن کی خلافت مان رہے تھے، مملکت کا نظام عملاً انہی کی خلافت پر قائم ہو چکا تھا اور اُمت کی عظیم اکثریت نے ان کی سربراہی تسلیم کر لی تھی۔ اب یہ دعویٰ کرنے کے لیے مکابرہ کی بہت بڑی مقدار درکار ہے کہ اُن کی خلافت مشکوک و مشتبہ تھی اور ان کے مقابلے میں تلوار اٹھانے کے لیے شرعی جواز کی کوئی گنجائش موجود تھی خصوصاً ان لوگوں پر تو مجھے سخت حیرت ہے جنہیں ایک طرف یزید کی خلافت کو صحیح اور حضرت حسینؓ کو برسرِ غلط ٹھہرانے پر تو بڑا اصرار ہے، مگر دوسری طرف وہ حضرت معاویہؓ کے حق میں معذرتیں پیش کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ حالانکہ جن دلائل سے یزید کی خلافت صحیح ثابت کی جاتی ہے ان کی بہ نسبت ہزار گنے زیادہ قوی دلائل سے حضرت علیؓ کی خلافت قطعی صحت کے ساتھ قائم ہوئی تھی، اور جن حضرات نے بھی خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لیے اُن کے خلاف تلوار اٹھائی ان کے اس فعل کے حق میں کوئی شرعی دلیل نہیں پیش کی جاسکتی۔ خدا کی شریعت بے لاگ ہے۔ اس میں یہ گنجائش نہیں ہے کہ کسی کے مرتبے کا لحاظ کر کے ہم غلط کو صحیح بنانے کی کوشش کریں۔
قاتلینِ عثمانؓ کا معاملہ:
میں نے شرعی احکام پر جتنا بھی غور کیا ہے اس کی بنا پر میرے نزدیک خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کی شرعاً ایک ہی صورت تھی، اور وہ یہ کہ خلیفۂ وقت کی خلافت کو مان کر انہی سے یہ مطالبہ کیا جاتا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلائیں اور جس جس کا جو بھی حصہ اس جُرمِ عظیم میں تھا اس کو شہادتوں کے ذریعے سے متعین کر کے قانون کے مطابق اس کو سزا دیں۔ دوسری طرف اُس وقت کے حالات کا میں نے جس قدر بھی مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ عملاً یہ قانونی طریقِ کار اس کے بغیر اختیار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ حضرت علیؓ کے ساتھ سب لوگ تعاون کرتے اور ان کو پُر امن حالات میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا۔ جیسا کہ تاریخی واقعات سے ثابت ہے، جو گروہ سازش کرکے مدینہ پر چڑھ آیا تھا اس کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی۔ خود مدینہ میں بھی ایک تعداد اُن کے حامیوں کی موجود تھی اور مصر، بصرہ اور کوفہ میں بھی ان کی پشت پر ایک ایک جتھا پایا جاتا تھا۔ اگر تمام اہل حق حضرت علیؓ کے گرد جمع ہو جاتے اور ان سے تعاون کرتے تو وہ ان جتھوں کو منتشر کرنے کے بعد ان پر ہاتھ ڈال سکتے تھے لیکن جب ایک مؤثر بااثر صحابہ کے ایک گروہ نے غیر جانبداری کی روش اختیار کی، اور دوسری طرف بصرے اور شام میں طاقت ور فوجیں حضرت علیؓ سے لڑنے کے لیے جمع ہوگئیں، تو ان کے لیے نہ صرف یہ کہ اس گروہ پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہ رہا، بلکہ وہ عملاً مجبور ہو گئے کہ ان طاقت ور فوجوں کے مقابلے میں جن لوگوں سے بھی مدد لے سکتے تھے ان سے مدد لیں اور ایک اور لڑائی قاتلینِ عثمانؓ کے جتھے سے نہ چھیڑ دیں۔ میری اس رائے سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو وہ مجھے بتائے کہ حضرت علیؓ قاتلینِ عثمانؓ کے اس مضبوط جتھے کو کس وقت پکڑتے؟ کیا خلافت سنبھالتے ہی فوراً؟ یا جنگِ جمل کے زمانے میں؟ یا جنگِ صفین کے زمانے میں؟ یا جنگِ صفین کے بعد اُس زمانے میں جبکہ ایک طرف حضرت معاویہؓ ان کے مقابلے میں مملکت کے ایک ایک صوبے کو توڑ لینے کی کوشش کر رہے تھے اور دوسری طرف خوارج ان کے خلاف صف آرا تھے؟
اجتہادی غلطی کیا ہے اور کیا نہیں ہے:
اور جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن حضرات نے بھی قاتلینِ عثمانؓ سے بدلہ لینے کے لیے خلیفہ وقت کے خلاف تلوار اٹھائی ان کا یہ فعل شرعی حیثیت سے بھی درست نہ تھا، اور تدبیر کے اعتبار سے بھی غلط تھا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں ذرہ برابر تامل نہیں ہے کہ انہوں نے یہ غلطی نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے کی تھی۔ مگر میں اسے محض ”غلطی“ سمجھتا ہوں۔ اس کو ”اجتہادی غلطی“ ماننے میں مجھے سخت تامل ہے۔ اجتہاد کی اصطلاح کا اطلاق میرے نزدیک صرف اُس رائے پر ہو سکتا ہے جس کے لیے شریعت میں کوئی گنجائش پائی جاتی ہو، اور ”اجتہادی غلطی“ ہم صرف اُس رائے کو کہہ سکتے ہیں جس کے حق میں کوئی نہ کوئی شرعی استدلال تو ہو مگر وہ صحیح نہ ہو یا بے حد کمزور ہو۔ اب کوئی صاحبِ علم براہِ کرم یہ بتا دیں کہ حضرت علیؓ کے خلاف تلوار اٹھانے کے لیے جواز کی کوئی کمزور سے کمزور گنجائش بھی شریعت میں اگر تھی تو وہ آخر کیا تھی؟ جہاں تک جنگِ جمل کا تعلق ہے، معتبر روایات کی رُو سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دونوں میں جنگ سے پہلے اپنی غلطی مان کر میدان سے ہٹ گئے تھے، اور حضرت عائشہؓ نے بعد میں اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ رہے حضرت معاویہؓ تو وہ بلاشبہ اپنے آپ کو ہمیشہ حق بجانب سمجھتے رہے۔ مگر ان کی لڑائی کے لیے جواز کی معقول گنجائش آخر کیا قرار دی جا سکتی ہے؟ کیا یہ کہ نئے خلیفہ نے ایک گورنر کو اس کے عہدے سے معزول کر دیا؟ یا یہ کہ نئے خلیفہ نے سابق خلیفہ کے قاتلوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ نہ چلایا؟ یا یہ کہ نئے خلیفہ پر سابق خلیفہ کے قاتلوں نے غلبہ پا لیا؟ یا یہ کہ نئے خلیفہ کی خلافت ہی ایک صوبے کے گورنر کی رائے میں قانونی طور پر قائم نہیں ہوئی درآنحالیکہ مرکز اور تمام دوسرے صوبوں میں اس کی خلافت مانی بھی جا چکی تھی اور عملاً بھی قائم ہو چکی تھی؟ ان میں سے کسی ایک کو بھی خلیفۂ وقت کے خلاف تلوار اٹھانے کی جائز وجہ قرار دینے کے لیے شریعت میں اگر کوئی دُور دراز کی گنجائش بھی پائی جاتی ہو تو اسے بیان کر دیا جائے۔ اس معاملہ میں آیت <<وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا>> سے استدلال قطعاً غلط ہے۔ اس لیے کہ اس آیت کا یہ منشا ہرگز نہیں ہے کہ اگر خلیفۂ وقت قاتلوں کو گرفتار نہ کرے تو مقتول کے اولیاء کو خلیفہ سے جنگ کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔
یہی مشکل حضرت عمرو بن العاصؓ کے معاملہ میں بھی پیش آتی ہے جنگِ صفین میں نیزوں پر قرآن اُٹھانے کی تجویز، اور پھر دومۃ الجندل میں تحکیم کی کارروائی تمام معتبر روایات میں جس طرح بیان ہوئی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ یہ محض ”غلطی“ تھی۔ اس کو ”اجتہادی غلطی“ قرار دینے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ ابن سعد نے امام زہری کی روایت نقل کی ہے کہ جنگِ صفین میں جب لڑائی انتہائی شدّت اختیار کر گئی اور لوگوں کی ہمت جواب دینے لگی تو حضرت عمرو بنؓ عاص نے حضرت معاویہؓ سے کہا: <<هل انت مطيعي فتامر رجالا بنشر المصاحف ثم يقولون يا اهل العراق ندعوكم الى القرآن، والى ما في فاتحته الى خاتمته، فانك ان تفعل ذالك يختلف اهل العراق ولا يزيد ذالك امر اهل الشام الا استجماعا، فاطاعه>> ”آپ میری بات مانیں تو لوگوں کو حکم دیجیے کہ قرآن کھول کر کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ اے اہل عراق ہم تمہیں قرآن کی طرف بلاتے ہیں، الحمد سے والناس تک اس میں جو کچھ ہے اس کے مطابق فیصلہ ہو جائے۔ یہ کام آپ کریں گے تو اہل عراق میں پھوٹ پڑ جائے گی اور اہل شام کی جمعیت بندھی رہے گی۔ چنانچہ حضرت معاویہؓ نے ان کی تجویز مان لی“ [طبقات ابن سعد، ج۴، ص۲٥٥]۔ یہی بات زیادہ تفصیل کے ساتھ ابن جریر، ابن کثیر، اور ابن اثیر نے بھی نقل کی ہے۔ ان سب کا متفقہ بیان یہ ہے کہ حضرت عمروؓ نے قرآن کو حکم بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے اس کی مصلحت یہ بیان فرمائی تھی کہ ”یا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حضرت علیؓ کے لشکر میں پھوٹ پڑ جائے گی، یا اگر وہ سب اسے مان بھی گئے تو ہمیں کچھ مدت کے لیے جنگ کو ٹالنے کا موقع مل جائے گا [الطبری ج ۴، ص ۳۴ - البدایہ، ج ۷، ص ۲۷۶ - ابن اثیر، ج ۳، ص ۱۶۰]۔ اس کے سوا قرآن اٹھانے کی کوئی اور غرض، جہاں تک مجھے معلوم ہے، کسی مورخ نے بیان نہیں کی ہے۔ اور اس متفقہ بیان سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس تجویز کا مقصد فی الواقع قرآن کی بنیاد پر فیصلہ کرانا نہ تھا، بلکہ اسے صرف ایک جنگی چال کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ کیا اسے واقعی ”اجتہاد“ کا نام دیا جا سکتا ہے؟ پھر دومۃ الجندل میں تحکیم کے موقع پر جو کچھ پیش آیا اس کے متعلق طبقات ابن سعد، تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ اور ابن اثیر کی متفق علیہ روایت یہ ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے درمیان خلوت میں جو بات طے ہوئی تھی، حضرت ابو موسیٰؓ نے مجمع عام میں آکر اسی کا اعلان کیا، اور حضرت عمروؓ نے اپنا فیصلہ اس کے بالکل خلاف پیش کر دیا [طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۲۵۶، ۲۵۷ - الطبری ج ۴، ص ۴۹ تا ۵۲ - البدایہ والنہایہ ج ۷، ص ۲۷۸ تا ۲۸۳ - ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۶۷، ۱۶۸]۔ اس رُوداد کو پڑھ کر آخر کون انصاف پسند آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ”اجتہاد“ تھا؟
یزید کی ولی عہدی کا معاملہ:
سب سے زیادہ حیرت مجھے اُس استدلال پر ہے جس سے یزید کی ولی عہدی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ معترض حضرات یہ تو مانتے ہیں کہ اس کارروائی سے بُرے نتائج برآمد ہوئے مگر وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ اگر یزید کو جانشین نامزد کر کے اپنی زندگی ہی میں اس کے لیے بیعت نہ لے لیتے تو ان کے بعد مسلمانوں میں خانہ جنگی ہوتی اور قیصرِ روم چڑھ آتا اور اسلامی ریاست ہی کا خاتمہ ہو جاتا، اس لیے ان بدترین نتائج کی بہ نسبت وہ نتائج کمتر ہی بُرے ہیں جو یزید کو ولی عہد بنانے سے رونما ہوئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر فی الواقع حضرت معاویہؓ کا یہ خیال تھا کہ ان کے بعد کہیں جانشینی کے لیے اُمت میں خانہ جنگی برپا نہ ہو، اور اس بنا پر وہ یہ ضرورت محسوس فرماتے تھے کہ اپنی زندگی ہی میں اس کا فیصلہ کرکے اپنے ولی عہد کے لیے بیعت لے لیں تو کیا وہ اس نہایت مبارک خیال کو عمل میں لانے کی یہ صورت اختیار نہ فرما سکتے تھے کہ بقایائے صحابہ اور اکابر تابعین کو جمع کرتے، اور ان سے کہتے کہ میری جانشینی کے لیے ایک موزوں آدمی کو میری زندگی ہی میں منتخب کر لو، اور جس کو وہ لوگ منتخب کرتے اس کے حق میں سب سے بیعت لے لیتے؟ اس طریقۂ کار میں آخر کیا امر مانع تھا؟ اگر حضرت معاویہؓ یہ راہ اختیار کرتے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خانہ جنگی پھر بھی برپا ہوتی اور قیصر روم پھر بھی چڑھ آتا اور اسلامی ریاست کا خاتمہ کر ڈالتا؟
حضرت علیؓ کی بے جا وکالت کا الزام:
معترض حضرات نے مجھ پر اس شبہ کا بھی اظہار فرمایا ہے کہ میں حضرت علیؓ کی بے جا وکالت کر رہا ہوں۔ مگر میں صحابہ کرام، اور خصوصاً خلفائے راشدین کے معاملہ میں اپنا مستقل مسلک پہلے ہی یہ بیان کر چکا ہوں کہ ان کا کوئی قول یا فعل اگر بظاہر غلط محسوس ہوتا ہو تو ان کے اپنے کسی بیان، یا اُس وقت کے ماحول یا ان کے مجموعی طرزِ عمل میں اس کا صحیح محمل تلاش کرنے کی پوری کوشش کی جائے، اور اس کے حق میں ہر وہ معقول تاویل کی جائے جو بے جا اور بھونڈی وکالت کی حد تک نہ پہنچتی ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں رسائل و مسائل حصہ اول کے مضمون ”حضرت علیؓ کی امیدواری خلافت“ اور موجودہ زیرِ بحث مضمون میں جو رویہ میں نے اختیار کیا ہے وہ دراصل اسی قاعدے پر مبنی ہے، کوئی بے جا وکالت نہیں ہے جس کا مجھے طعنہ دیا جا رہا ہے۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ تمام معتبر روایات کی رو سے شیخینؓ اور حضرت عثمانؓ کے پورے دَورِ خلافت میں جس خلوص اور کامل جذبۂ رفاقت کے ساتھ انہوں نے ان تینوں حضرات کے ساتھ تعاون کیا، اور جیسے محبت کے تعلقات ان کے درمیان رہے، اور حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی وفات کے بعد جس طرح دل کھول کر وہ ان کی تعریفیں کرتے رہے، تو مجھے وہ روایات کمزور محسوس ہوتی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ان میں سے ہر ایک کے خلیفہ بنائے جانے پر ناراض تھے، اور وہ روایات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ہر ایک کی خلافت آغاز ہی میں دل سے قبول فرمائی تھی جب دونوں طرح کی روایات موجود ہیں اور سند کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، تو آخر ہم ان روایات کو کیوں نہ ترجیح دیں جو ان کے مجموعی طرزِ عمل سے مناسبت رکھتی ہیں، اور خواہ مخواہ وہی روایات کیوں قبول کریں جو اُس کی ضد نظر آتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عثمانؓ کی شہادت سے لے کر خود اُن کی اپنی شہادت تک ایک ایک مرحلے پر ان کا جو رویہ رہا ہے اس کے ہر جز کا ایک صحیح محل میں نے تلاش کیا اور ان کے اپنے بیانات میں، یا اس وقت کے حالات و واقعات میں وہ مجھے مل گیا، مگر صرف ایک مالک الاشتر اور محمد بن ابی بکر کو گورنری کا عہدہ دینے کا فعل ایسا تھا جس کی کسی تاویل سے بھی حق بجانب قرار دینے کی گنجائش مجھے نہ مل سکی۔ اسی بنا پر میں نے اس کی مدافعت سے اپنی معذوری ظاہر کر دی ہے۔ (ترجمان القرآن، اکتوبر ۱۹۶۵ء)