رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ایک علمی اصطلاح کے ترجمے پر اعتراض
سوال- میں آپ کی توجہ ایک ترجمے کی غلطی کی طرف دلانا چاہتا ہوں ترجمان القرآن شمارہ جنوری ۱۹۷۷ء میں رسائل و مسائل کے زیرِ عنوان آپ نے واحد الخلیہ سالمۂ UNICELLULAR MOLECULE کا لفظ استعمال کیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ علم حیات (BIOLOGY) کی رُو سے یہ ایک انتہائی عام بات ہے کہ تمام زندہ اجسام خلیوں (CELLS) سے بنے ہوئے ہیں اور ہر زندہ خلیے میں کئی اقسام کے اربوں کھربوں کی تعداد میں مالیکیول یا سالمے (MOLECULES) پائے جاتے ہیں جن کا کام ساخت بنانا یا توانائی مہیا کرنا ہوتا ہے۔ یہ مالیکیول کیمیائی اکائیاں (CHEMICAL UNITS) ہوتی ہیں۔ جب ایک خلیے (CELL) میں اربوں مالیکیول پائے جاتے ہوں تو پھر آپ کا یہ کہنا کہ (UNICELLULAR MOLECULE) جس کا ترجمہ ”ایک خلیے والا سالمۂ“ ہوگا قطعاً غلط ہے اور آپ تمام سائنسی لٹریچر میں کسی ایک جگہ بھی یہ لفظ لکھا ہُوا نہیں دکھا سکتے۔ اگرچہ بعض انتہائی قدیم اور ایک خلیے پر مشتمل جانور پائے جاتے ہیں مثلاً (VIRUS) اگر آپ کی مراد ان سے ہے تو صحیح ترجمہ ہوگا۔ ”یک خلیہ جاندار“ (UNICELLULAR ORGANISMS)۔ اکثر (VIRUS) کے اجسام میں صرف ایک لمبا سالمہ (DNA MOLECULE) پایا جاتا ہے۔ جن کو ہم ایک سالمے والے خلیے (UNIMOLECULAR CELLS) کہہ سکتے ہیں ترجمے کی یہ غلطی ”تفہیمات“ حصّہ دوم میں نظریہ ارتقاء کی بحث میں بھی موجود ہے جہاں آپ نے واحد الخلیہ بھنگے کا لفظ استعمال کرکے اس کا انگریزی ترجمہ یہی درج کیا ہے۔
جواب۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میری ایک غلطی کی طرف توجہ دلائی۔ علم الحیات (BIOLOGY) کی رُو سے یہ بات صحیح ہے کہ زندہ اجسام (ORGANISM) خواہ وہ حیوانی ہوں یا نباتی، بہت سے خلیوں (CELLS) پر مشتمل ہوتے ہیں اور ہر خلیہ بے شمار سالموں (MOLECULES) سے مرکب ہوتا ہے لیکن علم الحیات ہی کی رُو سے خلقِ خدا میں بہت سے ایسے اجسام نامیہ یا زندہ اجسام (ORGANISM) بھی پائے جاتے ہیں جن کا وجود ایک ہی ایسی اکائی (UNIT) پر مشتمل ہوتا ہے جو بالاتر درجے کے پودوں اور جانوروں کے خلایا (CELLS) سے مشابہ ہوتی ہے۔ ایسے اجسام عام طور پر واحد الخلیہ (UNICELLULAR) کہے جاتے ہیں۔ پھر چونکہ خلیہ تمام اجسام کا سب سے چھوٹا یونٹ ہوتا ہے، خواہ وہ واحد الخلیہ ہوں یا کثیر الخلیہ اور اس میں ذی حیات مادے کی تمام صفات پائی جاتی ہیں، اس لیے بعض اعتبارات سے اس کو زندہ مادے کا سالمہ (MOLECULE OF LIVINGMATTER) قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کی تصریح آپ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا (۱۹۶۴ء ایڈیشن) کی جلد ۳ صفحہ ۶۵۵ پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
آپ نے خود بھی یہ لکھا ہے کہ اکثر وائرس (VIRUS) ایسے ہوتے ہیں جن کے اجسام میں صرف ایک لمبا سالمہ پایا جاتا ہے اور ان کو ہم ایک سالمے والے خلیے (UNIMOLECULAR CELLS) کہہ سکتے ہیں۔ اس سے خود وہ قاعدہ کلیہ ٹوٹ جاتا ہے جو آپ نے بیان کیا ہے کہ ہر زندہ خلیے میں کئی اقسام کے اربوں اور کھربوں سالمے (MOLECULES) ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یک سالمہ خلیے (UNIMOLECULAR CELL) اور واحد الخلیہ سالمے (UNICELLULAR MOLECULE) میں آخر الفاظ کے اُلٹ پھیر کے سوا اور کیا فرق ہے؟ دونوں صورتوں میں ایک ایسے زندہ خلیے کا وجود مُسلّم ہے جو ایک ہی سالمے پر مشتمل ہوتا ہے‘ خواہ آپ اس کو واحدُ الخلیہ سالمہ کہیں یا واحد السالمہ خلیہ۔
تفہیمات حصہ دوم میں جس چیز کو میں نے ’بنگا‘ لکھا ہے اس سے مراد ایک سالمے والا وہ زندہ خلیہ ہے جسے آپ نے لفظ ”جانور“ سے تعبیر کیا ہے۔ (ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۷۷ء)