مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

درُود میں ”سَیّدُنا و مولانا“ کا استعمال اور بعض اہم اُصولی بحثیں - (۱)

سوال: ”آپ نے ماہ مارچ کے ”ترجمان القرآن“ میں کسی سائل کو جواب دیتے ہوئے نماز میں درُود کے متعلق جو کچھ لکھا ہے، اُس پر حسبِ ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں:

۱- آپ نے ابو داؤد اور دارِ قطنی کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھاتے ہوئے تشہد میں ”رحمة اللّٰہ“ کے بعد ”وبرکاتہٗ“ کا، اور ”اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“ کے بعد ”وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ“ کا اضافہ کر دیا۔ اس سے آپ ماثور الفاظ پر اضافے کا جواز ثابت کرتے ہیں، لیکن یہ آپ کے لیے مفید مطلب نہیں ہے، کیونکہ یہ الفاظ مرفوع حدیث میں بھی وارد ہوتے ہیں۔

۲- تشہد کے متعلق آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے اُن کو عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ تک تعلیم دینے کے بعد فرمایا کہ جب تم نے یہ پڑھ لیا (یا اس کو پورا کر لیا) تو تم اپنی نماز سے فارغ ہو گئے، اس کے بعد اُٹھ جانا چاہو تو اُٹھ جاؤ ! بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔“ اس سے آپ نے یہ استدلال کیا ہے کہ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ پر نماز مکمل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد آدمی کچھ نہ پڑھے تب بھی اس کی نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا، اور درود و دعا تشہد میں داخل نہیں ہے بلکہ اس سے زائد ایک چیز ہے۔ مگر آپ کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ حُفّاظِ حدیث کا اِس پر اتفاق ہے کہ عبدُہ و رسولُہ کے بعد کا مضمون در اصل حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے جسے ایک راوی نے بے احتیاطی سے اِس طرح حدیث میں درج کر دیا ہے کہ وہ حضورؐ کا ارشاد معلوم ہوتا ہے۔

۳- بالفرض اگر وہی روایت صحیح تسلیم کر لی جائے جس سے آپ استدلال کرتے ہیں، تو یہ امر واقعہ ہے کہ تشہد کی تعلیم حضورؐ نے ابتدائی دَور ہی میں دے دی تھی جب نماز فرض ہوئی تھی، لیکن قرآنِ مجید میں حضورؐ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے زمانے یعنی ۵ھ میں نازل ہوا تھا، کیونکہ وہ سورۃ احزاب میں درج ہے، اور وہ انہی غزوات کے زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس لیے لامحالہ بعد کی چیز نے پہلے کی چیز کو منسوخ کر دیا۔

۴- نماز تعبّدی اعمال میں سے ہے، اور ان اعمال کے بارے میں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ شارع نے اُن کی تعلیم جس طرح دے دی ہے اُسی طرح اُن کی تعمیل کی جانی چاہیے، ان کے اندر اپنی طرف سے کوئی تصرف نہیں کیا جاسکتا۔ علمائے اصول اس بات پر متفق ہیں کہ عبادات میں اصل حکم کی پیروی اور شارع کے بتائے ہوئے طریقے کا اِتباع ہے، اور اُس سے تجاوز بدعت ہے لیکن آپ دُرُود کے ماثورہ الفاظ پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ ان میں اضافے ہی نہیں ردّو بدل [میں نے ردّو بدل کے الفاظ کہیں استعمال نہیں کیے ہیں صرف کمی بیشی کا ذکر کیا ہے تاہم اگر معترضین کو اصرار ہو کہ میں ردّو بدل کا بھی قائل ہوں تو میں اپنے جواب میں اس کی نظیر بھی پیش کردوں گا۔(مودودی)] اور کمی بیشی تک کے قائل ہیں۔ حالانکہ نماز کے تمام اَوراد توقیفی ہیں، ان میں نہ کچھ گھٹانا جائز ہے نہ بڑھانا۔

۵- دُرُود کے الفاظ میں سیّدنا و مولانا کا اضافہ متعدد وجوہ سے ناجائز ہے:

اَوّلاً احادیث سے جتنے دُرُود ثابت ہیں ان میں کہیں یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے ہیں بلکہ بقول حافظ ابن حجر کسی صحابی و تابعی نے بھی یہ الفاظ دُرُود میں استعمال نہیں کیے ہیں۔

ثانیاً، احادیث سے ثابت ہے کہ لفظ سیّد کا استعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے لیے اِس دنیا میں بالکل غیر شرعی ہے اور حضورؐ نے اپنے لیے اس کے استعمال کو منع فرمایا ہے۔ رہا آپ کا ارشاد کہ انا سید ولد آدم" تو یہ قیامت کی حکایت ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو یہ اعزاز دنیا میں عبدیت کا شیوہ اختیار کرنے کے صلے میں عطا کیا جائے گا، چنانچہ قاضی عیاض نے شفا میں روایت نقل کی ہے کہ اسرافیل نے حضورؐ سے کہا: اللہ تعالیٰ نے اُس تواضع (انکساری) کے صلے میں جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اختیار کی ہے آپؐ کو یہ مرتبہ عطا کیا ہے کہ آپؐ قیامت کے روز اولادِ آدم کے (سید) سردار ہوں گے"۔ نیز حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جبریل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے حضورؐ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوچھا: "آپؐ کو بادشاہ رسول بناؤں یا عبد رسول؟ جبریل نے حضورؐ کو اشارہ کیا کہ "آپ اپنے رب سے تواضع سے پیش آئیے"۔ تب آپؐ نے اُس فرشتے کو جواب دیا "بلکہ عبد رسول"۔ اسی لیے حضورؐ نے اپنے لیے لفظ سیّد کا استعمال پسند نہیں فرمایا اور اپنی دعاؤں میں انتہائی عاجزی اختیار کی۔

ثالثاً، حضورؐ نے غزوہ بنی قریظہ کے موقع پر جب حضرت سعدؓ بن معاذ کے لیے لوگوں سے کہا قوموا الی سیدکم (اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاؤ) تو حضرت عُمرؓ کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ السید هو الله (سیّد تو اللہ ہی ہے)۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حضرت سعدؓ بن معاذ والا واقعہ ۵ھ ہجری کا ہے، اور حضورؐ نے اپنے لیے لفظ سیّد کے استعمال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے السید اللہ ۹ھ ہجری میں فرمایا تھا جب بنی عامر کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔

رابعاً، درود اصل میں ایک دُعا ہے، اور دُعا میں مدعو لہٗ کے لیے سیّد کا لفظ استعمال کرنا روحِ دُعا کے خلاف ہے۔ درخواست اور دُعائیں تو عاجزی و انکساری اور عبدیت کا اظہار ہونا چاہیے جس کے حق میں دُعا کی جاتی ہے اس کے لیے تو یوں کہا جاتا ہے کہ ایک عبد مسکین حاضرِ خدمت ہے، نہ یہ کہ ہمارا آقا اور سردار حاضر ہو رہا ہے“

جواب: آپ نے جو اعتراضات پیش فرمائے ہیں وہ بلاشبہ قابلِ توجہ ہیں اور میں ایسے اعتراضات پر بحث کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہوں ۔ ذیل میں اُن کا سلسلہ وار جواب حاضر ہے۔

تشہد میں ابنِ عمرؓ کا تصرف:

میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے جس بات پر استدلال کیا ہے اُس پر اعتراض کرنے سے پہلے اگر آپ نے دو منٹ بھی غور کر لیا ہوتا تو یہ نہ فرماتے کہ یہ حدیث آپ کے لیے مفیدِ مطلب نہیں ہے، کیونکہ یہ الفاظ مرفوع حدیث میں بھی وارد ہوتے ہیں۔ براہ کرم ایک مرتبہ پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے الفاظ کو پڑھیے وہ فرما یہ رہے ہیں کہ <<اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ>> کے بعد <<وَبَرَكَاتُهُ>> اور <<أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ>> کے بعد <<وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ>> کا اضافہ میں نے خود کر دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ جس وقت انہوں نے یہ اضافہ کیا تھا اُس وقت اُن کے علم میں وہ حدیث مرفوع نہیں تھی جس کے متعلق آپ کہہ رہے ہیں کہ اُس میں بھی یہ الفاظ وارد ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اُن کے علم میں کبھی نہ آئی ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اُن کے علم میں اُس وقت آئی ہو جبکہ وہ پہلے ہی بطورِ خود ان الفاظ کا اضافہ کر چکے ہوں۔ یہ بھی تحقیق فرما لیجیے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ دارِ قطنی نے اسے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ <<هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ>> (یہ سند صحیح ہے) اور حافظ ابن حجرؒ نے ابوداؤد کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ یہ صریح طور پر آپ کے مدعا کے خلاف پڑتی ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک جلیل القدر صحابی نے نماز کے ماثور الفاظ پر اپنی طرف سے کچھ الفاظ کا اضافہ کیا اور اُس کا لوگوں کے سامنے اظہار بھی کر دیا، مگر نہ دورِ صحابہ و تابعین میں اس پر کوئی گرفت کی گئی اور نہ بعد کے کسی دور میں (کم از کم میرے علم کی حد تک) کسی فقیہ یا محدث نے اسے صحابیِ رسول کی بدعتِ ضلالت قرار دیا۔

تشہد کے متعلق ابن مسعودؓ کی روایات:

میں نے تشہد کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی جو روایت نقل کی ہے، اُس کے متعلق آپ کہتے ہیں کہ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کے بعد والے الفاظ کو حفاظِ حدیث نے بالاتفاق الحاقی قرار دیا ہے اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ دراصل یہ حضرت ابن مسعودؓ کا اپنا قول ہے جو راوی کی غلطی سے حضورؐ کی طرف منسوب ہو گیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ رائے کن حفاظِ حدیث نے ظاہر کی ہے۔ مگر اُن کے فضل و کمال کا انتہائی معترف و معتقد ہونے کے باوجود میں اُن کا اندھا مقلد نہیں ہوں کہ بس یہ سُن کر کہ وہ اِن الفاظ کے الحاقی ہونے پر متفق ہیں، خود بھی انہیں الحاقی مان لوں اور یہ نہ دیکھوں کہ جس بنیاد پر اُنہوں نے یہ فیصلہ کر ڈالا ہے وہ بجائے خود معقول بھی ہے یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ حدیث چار مختلف صورتوں میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہوئی ہے:

ایک صورت میں عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کے بعد إِذَا قُلْتَ هَذَا کے الفاظ بالکل متصل ہیں اور کوئی علامت ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ شبہ کیا جا سکے کہ یہ بعد کے الفاظ حضورؐ کے نہیں بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہیں۔ اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضورؐ کا کلام فلاں جگہ ختم ہوا اور فلاں جگہ سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا کلام شروع ہو گیا۔

دوسری صورت اِس حدیث کی یہ ہے کہ وہ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ پر ختم ہو گئی ہے اور بعد کی عبارت اُس میں سرے سے مذکور ہی نہیں ہوئی ہے۔ یہ ترکِ ذکر قطعاً اِس بات کی دلیل نہیں قرار پاسکتا کہ اُوپر والی روایات میں جو زائد عبارت مذکور ہوئی ہے وہ الحاقی ہے۔

تیسری صورت اِس حدیث کی یہ ہے کہ <<عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ>> کے بعد قَالَ یا ثُمَّ قَالَ <<فِإِذَا فَعَلْتَ هٰذَا>> .... کے الفاظ ہیں۔ اِس لفظ قَالَ یا ثُمَّ قَالَ سے قطعاً یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ قائل کون ہے۔ اِس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ حضور نے فرمایا، اور یہ بھی کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا۔ دونوں احتمالوں میں سے ایک کو ترجیح دینے کے لیے خود اِس تفاوت میں کوئی گنجائش نہیں۔

چوتھی قسم کی روایات وہ ہیں جن میں <<عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ>> کے بعد <<قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ>> یا قَالَ ابن مسعود کے الفاظ ہیں اور پھر <<فِإِذَا فَعَلْتَ هٰذَا>> سے آخر تک کی عبارت نقل کی گئی ہے۔ جن حفاظِ حدیث نے صرف اِن آخری قسم کی روایات کو اِس بات کی دلیل بنایا ہے کہ پہلی قسم کی روایات میں جو عبارت حضورؐ کے ارشاد سے متصل پائی جاتی ہے وہ دراصل الحاقی ہے، اُن کی جلالتِ شان کا پورا اعتراف کرتے ہوئے میں عرض کرتا ہوں کہ حدیث کی روایات میں اِس طرح کے فیصلے صادر کر دینا فنِ حدیث کی قدر و منزلت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ آخر یہ رائے قائم کرنے میں کیا مشکل حائل تھی کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ خود بھی اُسی بات کا فتویٰ دیتے تھے جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی تھی؟ پہلی قسم کی احادیث میں انہوں نے قولِ رسولؐ نقل کیا ہے، اور آخری قسم کی احادیث میں خود اپنا فتویٰ بیان کیا ہے جو عین قولِ رسولؐ کے مطابق ہے۔ اگر ان کا فتویٰ اُن کی روایت کردہ حدیث کے خلاف ہوتا تو ضرور حدیث مشکوک ہو جاتی لیکن وہ تو حدیث کے ٹھیک مطابق فتویٰ دے رہے ہیں۔

کیا ابن مسعودؓ سورۃ احزاب سے ناواقف تھے؟:

تیسرے اعتراض میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، اس میں ذرا اِس بات کی وضاحت اور فرما دیجیے کہ جس وقت کوفے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ حضرت عَلْقَمَہ اور اپنے دوسرے شاگردوں سے تشہّد کے متعلق یہ حدیث بیان کر رہے تھے، اُس وقت سورۃ اَحزاب نازل ہو چکی تھی یا نہیں؟ اور اگر نازل ہو چکی تھی (جس کا شاید آپ انکار نہیں کر سکتے) تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اُس سے واقف تھے یا ناواقف؟ اِس کی آپ وضاحت کر دیں گے تو اعتراض کا جواب آپ کو خود ہی مل جائے گا۔

درُود و دُعا کے ماثور الفاظ کی پابندی کیوں لازم نہیں ہے؟:

تَعبُّدی اعمال (یعنی عبادت کی نوعیت رکھنے والے اعمال) کے بارے میں جس متفق علیہ شرعی قاعدے کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کا میں بھی شِدّت سے قائل ہوں اور بیس سال پہلے خود اُس کو بیان کر چکا ہوں [ملاحظہ فرمائیں تفہیمات حصہ سوم، مضمون ”قانون سازی، شوریٰ اور اجماع“۔ اسی مضمون کے آخر میں اس کی تاریخ اشاعت مئی ۱۹۵۵ء درج ہے]۔ لیکن آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ تشہّد کے بعد پڑھنے کے لیے درُود و دُعا کے جو الفاظ ماثور ہیں اُن کی نوعیت بھی ایسی ہے کہ اُن کو جُوں کا توں پڑھنا ہی ضروری ہو، کیونکہ بخاری، مسلم، نَسَائی، ابوداؤد اور مُسنَد احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایات یہ بتاتی ہیں کہ عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ تک تشہّد پڑھنے کے بعد آدمی کو اختیار ہے کہ اللہ سے مانگنے کے لیے جو دعا چاہے منتخب کر لے۔

تعبدی امور میں رد و بدل اور کمی بیشی کی گنجائش:

علاوہ بریں احادیث میں متعدد نظیریں ایسی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ استثناء کی گنجائش سے خالی نہیں ہے۔ اُن میں صرف بیشی (یعنی اضافے) ہی کے نہیں بلکہ ردّ و بدل اور کمی کے نظائر بھی پائے جاتے ہیں جن کو میں مختصراً یہاں نقل کرتا ہوں۔

ردّ و بدل کی ایک صریح مثال:

ردّ و بدل کی نمایاں ترین مثال حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں جمع قرآن ہے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد مبارک میں قرآن کو لکھوا تو ضرور دیا تھا، مگر وہ متفرق پارچوں، تختیوں، کھجوروں کی چھالوں، شانے کی ہڈیوں اور ایسی ہی دوسری چیزوں پر لکھا گیا تھا جو ایک تھیلے میں رکھی ہوئی تھیں۔ حضورؐ نے اُسے سورتوں کی ترتیب کے ساتھ کہیں یکجا نہیں لکھوایا تھا۔ اس کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا دورِ خلافت آیا اور فتنۂ ارتداد کی آگ بھڑک اٹھی تو مرتدین سے لڑائیوں میں، خصوصاً جنگ یمامہ میں بہت سے حُفّاظ شہید ہو گئے۔ بخاری، ترمذی، مسند احمد، مسند ابو داؤد طیالسی اور دوسری کتبِ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اِس صورتِ حال میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اگر اسی طرح حُفّاظ شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا۔ اِس خطرے کو انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کر کے یہ رائے دی کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ حضرت صدیقؓ نے جواب دیا کہ میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ مگر حضرت عمرؓ نے کہا هو والله خير "بخدا یہ اچھا کام ہے" اور وہ برابر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت صدیقؓ کو اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے پورا شرح صدر عطا کر دیا اور وہ حضرت عمرؓ کی رائے سے متفق ہو گئے۔ پھر حضرت عمرؓ کی موجودگی میں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو بلا کر قرآن جمع کرنے کا حکم دیا۔ حضرت زیدؓ نے بھی اِس پر وہی بات کہی جو ابتداء میں حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سے کہہ چکے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کیسے وہ کام کر رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ دونوں صاحبوں نے اُن کو جواب دیا ھو واللہ خیر۔ اور دونوں صاحب اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زیدؓ کو بھی اِس معاملہ میں شرح صدر عطا فرما دیا۔ اِس طرح جمع قرآن کا وہ عظیم کام شروع کیا گیا جسے انجام دینے میں بکثرت صحابہؓ نے حصہ لیا، اور تمام ہی صحابہ کے علم میں رفتہ رفتہ یہ بات آگئی کہ خلیفۂ وقت کی نگرانی میں یہ کام کیا جا رہا ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیے یہ کام ظاہر ہے کہ دنیوی تدابیر میں سے نہیں بلکہ تعبّدی اعمال میں سے تھا۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ نے اسی وجہ سے حضرت عمرؓ کی تجویز سُنتے ہی اُس کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ وہ کام کیسے کیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ مگر جس دلیل کی بنا پر حضرت عمرؓ نے یہ تجویز پیش کی تھی، اور جس کی بنا پر حضرت ابوبکرؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کو اِس کے جواز، بلکہ وجوب پر شرح صدر حاصل ہُوا وہ ھُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ اِس کے بعد جو کام کیا گیا وہ سراسر ردوبدل کی نوعیت رکھتا تھا، کیونکہ اِس کے ذریعہ سے قرآن کی اُس متفرق حالت کو، جو حضورؐ کے زمانے میں تھی، رَد کر کے یکجائی حالت میں تبدیل کر دیا گیا۔ مگر نہ کسی نے اُس وقت اِسے بدعت اور اِحداث فی الدین قرار دیا اور نہ آج تک کوئی اس پر یہ اعتراض کر سکا ہے، بلکہ اسے جناب صدیق اکبرؓ کی اہم ترین دینی خدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔

کمی کی ایک نمایاں مثال:

اب ذرا "کمی" کی بھی ایک نمایاں ترین مثال ملاحظہ فرمائیے۔ بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابوداؤد وغیرہ کتب حدیث میں صحیح ترین سندوں سے یہ بات منقول ہوئی ہے کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہُوا تھا۔ اکابر اہل علم نے اِس کی تشریح یہ کی ہے کہ قرآن مجید ابتداء میں تو صرف قریش کی زبان میں نازل ہوا تھا، مگر بعد میں جب اسلام عرب کے مختلف علاقوں میں پھیلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست پر عرب کی چھ فصیح ترین بولیوں (DIALECTS) میں بھی اُس کے پڑھنے کی اجازت دے دی گئی جن میں تلفظ، اِعراب، یا محاورے کا صرف ایسا فرق ہوتا تھا جس سے معنی میں کوئی فرق واقع نہ ہوتا تھا۔ لیکن یہ اجازت ایسی کھلی اجازت نہ تھی کہ مختلف علاقوں کے لوگ اپنی اپنی بولیوں میں قرآن کو خود بدل لیں، بلکہ جبریلِ امین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورؐ کو بتاتے تھے کہ کس لفظ کو قریش کی بولی کے سوا عرب کی دوسری بولیوں میں کس طرح پڑھا جائے، اور اُسی کے مطابق حضورؐ لوگوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے تھے۔ اِس بنا پر ساتوں حرفوں پر قرآن کی سب قرأتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تھیں اور توقیفی تھیں۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا "جبریلؑ نے مجھے پہلے صرف ایک حرف پر قرآن پڑھایا تھا، پھر میں برابر اُن سے رجوع کرکے زیادہ حرفوں پر پڑھنے کی اجازت مانگتا رہا، یہاں تک کہ سات حرفوں تک پڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔ مسلم کی روایت میں امام زُہری کے حوالہ سے اس پر اتنا اضافہ اور ہے کہ یہ اجازت صرف اُن اُمور تک تھی جن سے حلال و حرام کا فرق نہ واقع ہوتا تھا۔ مسلم، نسائی، ابوداؤد، ترمذی اور طبری نے حضرت اُبَی بن کعبؓ کی روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرأتِ قرآن میں یہ توسع ہجرت کے بعد ہوا ہے۔ اِس روایت میں یہ ذکر ہے کہ مدینے کے ایک مقام اضاۃِ بنی غفار میں جبریل علیہ السّلام حضورؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی اُمت کو قرآن ایک حرف پر پڑھائیں۔ حضورؐ نے عرض کیا کہ میں اِس حکم میں نرمی کی درخواست کرتا ہوں، میری اُمت اس کی طاقت نہیں رکھتی (یعنی جو لوگ عربی زبان کی ایک خاص بولی کے عادی ہیں ان کے بچوں، بوڑھوں، جوانوں، مردوں اور عورتوں کے لیے یہ مشکل ہے کہ کسی دوسری بولی میں قرآن پڑھ سکیں)۔ پھر وہ دو اور اس کے بعد تین بولیوں کا حکم لاتے اور حضورؐ مزید کی درخواست فرماتے رہے۔ آخرکار انہوں نے آکر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سات حرفوں پر قرآن پڑھانے کا حکم دیتا ہے، ان میں سے جس حرف پر بھی لوگ پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔

مسلم، نسائی اور طبری میں حضرت اُبیّ بن کعبؓ کا ایک اور بیان روایت ہوا ہے کہ اُن کی موجودگی میں یکے بعد دیگرے دو آدمی مسجد نبوی میں آتے اور ہر ایک نے قرآن اُس طریقے کے خلاف پڑھا جس طریقے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبیّؓ کو پڑھنا سکھایا تھا، اور اُن کی قرأتیں آپس میں بھی ایک دوسرے سے مختلف تھیں حضرت اُبیّؓ دونوں کو ساتھ لے کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اِس اختلافِ قرأت کا ذکر کیا۔ حضورؐ نے اُن دونوں کی قرأت سُنی اور ہر ایک کی قرأت کو صحیح قرار دیا۔ حضرت اُبیّؓ کہتے ہیں کہ: ”یہ بات سُن کر میرے دل میں ایسی تکذیب پیدا ہوئی جو جاہلیت کے زمانے میں بھی نہ تھی“۔ طبری کی روایت میں ان کے الفاظ ہیں کہ ”میں نے اپنے اندر ایسا شیطانی وسوسہ پایا جس سے میرا چہرہ سُرخ ہوگیا“۔ یہ حالت دیکھ کر حضورؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینے پسینے ہوگیا۔ پھر حضورؐ نے مجھے بتایا کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے جو سب کے سب شافی و کافی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اور روایت بخاری و مسلم اور ترمذی و نسائی میں حضرت عمرؓ سے منقول ہوتی ہے کہ میں نے ایک روز ہشام بن حکیم بن حزامؓ [واضح رہے کہ یہ صاحب فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے۔ اس لیے جس واقعہ کا حضرت عمرؓ نے ذکر کیا ہے وہ لامحالہ فتح کے بعد ہی کسی زمانہ میں پیش آیا ہوگا] کو سورۃ قرآن پڑھتے سنا اور اُن کی قرأت کو اُس قرأت سے مختلف پایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ ایک روایت میں حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ میں نے اُن سے پوچھا یہ قرأت تمہیں کس نے سکھائی ہے؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ایک اور روایت میں وہ فرماتے ہیں کہ میں اُن کا ہاتھ پکڑ کر انہیں حضورؐ کے پاس لے گیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرا جی چاہتا تھا کہ انہیں اسی وقت پکڑ لوں، مگر میں نے ان کی نماز ختم ہونے تک صبر کیا، پھر ان کا گریبان پکڑ کر حضورؐ کے پاس لے گیا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب تھا کہ میں ان پر جھپٹ پڑتا، مگر میں نے ان کے سلام پھیرنے تک صبر کیا، پھر ان کا گریبان پکڑ کر حضورؐ کے پاس لے گیا۔ اس کے آگے سب روایتیں متفق ہیں کہ حضورؐ نے پہلے حضرت ہشام کی قرأت سُنی اور فرمایا ٹھیک ہے، اسی طرح یہ سُورۃ نازل ہوئی ہے۔ پھر آپؐ نے حضرت عمرؓ کی قرأت سُنی اور فرمایا ٹھیک ہے، اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ اس کے بعد آپ نے وضاحت فرمائی کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے لہٰذا جس طرح آسانی ہو، پڑھو۔

ان روایات سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ساتوں حرفوں پر قرأت توقیفی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر تھی، ہر ایک حرف پر قرآن نازل ہوا تھا، اور لوگ بطور خود اپنی بولی میں قرآن کے الفاظ کو منتقل نہیں کر لیتے تھے، بلکہ حضورؐ نے ہر حرف پر لوگوں کو قرآن پڑھنا سکھایا تھا۔ دوسری بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ قرأتوں کے اِس اختلاف پر جھگڑے خود حضورؐ کے سامنے شروع ہو گئے تھے، مگر آپ نے اِن مختلف قرأتوں کی توثیق فرمائی اور جھگڑوں کی بنا پر قریش کی بولی کے سوا باقی سب بولیوں کی قرأت منسوخ کرنے کا اعلان نہیں فرمایا۔

اب ذرا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی طرف آئیے۔ اُن کے جمع قرآن کے بارے میں صحیح ترین حدیث وہ ہے جو بخاری میں ابراہیم بن سعد، عن الزہری، عن انسؓ بن مالک کی سند سے روایت ہوئی ہے۔ اس میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت حذیفہ بن الیمان آرمینیہ و آذربیجان کی مہم سے واپس آکر امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اُنہوں نے قرآن کی قرآت میں لوگوں کا جو اختلاف دیکھا تھا اس سے وہ سخت پریشان تھے۔ آتے ہی انہوں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین، اِس اُمت کو سنبھال لیجیے قبل اس کے کہ کتاب اللہ میں ان کے اندر یہود و نصاریٰ جیسا اختلاف رونما ہو جائے۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے اُم المومنین حضرت حفصہؓ کو کہلا بھیجا کہ وہ صحیفے ہمیں بھیج دیجیے جو آپ کے پاس ہیں، ہم اُن کی نقلیں کرا کے آپ کو واپس بھیج دیں گے۔ [حضرت ابوبکرؓ نے جو قرآن لکھوایا تھا وہ حضرت حفصہؓ کے پاس تھا اس روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ صحیفوں کی شکل میں تھا، مگر دوسری روایات میں یہ ہے کہ وہ ایک ہی صحیفہ تھا، اور اہل علم میں مشہور بات یہی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے قرآن کو ایک مُصحف میں جمع کر دیا تھا۔ امام بدرالدین زرکشی البرھان میں اور امام سیوطی الاتقان میں اسی کو صحیح قرار دیتے ہیں]۔ چنانچہ وہ انہوں نے بھیج دیئے۔ پھر حضرت عثمانؓ نے حضرت زیدؓ بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت سعیدؓ بن العاص اور حضرت عبدالرحمنؓ بن الحارث بن ہشام کو حکم دیا کہ اُن کو مُصحفوں میں نقل کریں، اور ہدایت فرمائی کہ جہاں تینوں قریشی حضرات اور حضرت زیدؓ بن ثابت کے درمیان اختلاف واقع ہو وہاں قریش کی زبان میں کتابت کی جائے کیونکہ قرآن دراصل اِسی زبان میں نازل ہوا تھا۔ پھر یہ مصحف جو تیار کرائے گئے تھے ان کا ایک ایک نسخہ مختلف علاقوں کے مرکزی مقامات پر بھجوا دیا گیا [اس میں اختلاف ہے کہ یہ کتنے مَصْحَف تھے مشہور یہ ہے کہ یہ پانچ تھے جن میں سے ایک مدینے میں رکھا گیا تھا اور باقی دوسرے مرکزی مقامات پر بھیج دیئے گئے۔ مگر ابو حاتم سجستانی کی روایت یہ ہے کہ سات نسخے تھے جن میں سے ایک مدینے میں رکھا گیا اور باقی مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ اور کوفہ بھیجے گئے۔ یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے] اور امیر المومنین کی طرف سے حکم دے دیا گیا کہ ہر صحیفہ یا مُصْحَف جو اس مستند نسخے کے خلاف ہو جلا ڈالا جائے۔

اس معاملے میں آپ یہ صاف دیکھ سکتے ہیں کہ قریش کی زبان کے سوا باقی چھ زبانوں کی قرائتیں، جو سب کی سب توقیفی تھیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی تھیں، اس مصلحت کی بنا پر منسوخ کر دی گئیں کہ اُمت کو قرآن کے الفاظ اور اس کی عبارتوں میں اختلاف کے فتنے اور خطرے سے بچا لیا جائے۔ حضرت عثمانؓ کے اس فعل سے پوری اُمت نے اتفاق کیا ہے اور اسے ان کی عظیم ترین حَسَنَات میں شمار کیا گیا ہے۔ لیکن بہرحال یہ اس امر کی صریح نظیر ہے کہ تَعَبُّدی اُمور میں بیشی ہی نہیں کمی بھی کی گئی ہے اور اسے کسی صاحبِ علم نے بدعت نہیں سمجھا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے ابن ابی داؤد کے حوالہ سے سُوَید بن غَفْلہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عثمانؓ نے یہ کام صحابہ کے مشورے سے کیا تھا۔ مگر اس سے بات اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے، کیونکہ صحابہ شریعت کے خلاف مشورہ دینے کے ہرگز مجاز نہ تھے، لہٰذا جب اُنہوں نے سات توقیفی قرائتوں میں سے چھ کم کرنے اور صرف ایک باقی رکھنے کی رائے دی، درآنحالیکہ اللہ اور اس کے رسول کا کوئی حکم اس کے حق میں موجود نہ تھا، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ مصلحتِ اسلام و مسلمین کے لیے ان کے نزدیک ایسا کرنا شرعاً جائز ہی نہیں، دین کے اندر فتنے کے امکانات کا سدباب کرنے کے لیے واجب بھی تھا، اگرچہ اپنی ظاہری شکل کے لحاظ سے یہ ایک اِحداث فی الدین تھا۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۷۵ء)

درُود میں ”سیّدنا و مولانا“ کا استعمال اور بعض اہم اصولی بحثیں - (۲)

اضافے کی نظیریں:

اس کے بعد اُن نظائر کی طرف آئیے جو تعبُّدی اور توقیفی اُمور میں بیشی اور اَورادِ صلوٰۃ کے ماثور الفاظ پر اضافے کے بارے میں ہم کو احادیث میں ملتی ہیں۔

حکم آنے سے پہلے مدینے میں جمعہ کا قیام:

عبد بن حُمید، ابن المُنذِر اور عبد الرزاق نے ابنِ سیرین سے جو روایات نقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے مدینے تشریف لے جانے سے پہلے، بلکہ جمعہ کی فرضیت کا حکم نازل ہونے سے بھی پہلے مدینہ طیّبہ میں انصار نے آپس میں مشورہ کیا کہ جس طرح یہود اور نصاریٰ نے ہفتے میں ایک دن اجتماعی عبادت کے لیے مخصوص کر رکھا ہے، اسی طرح ہم بھی ایک دن اس کام کے لیے مختص کرلیں۔ پھر انہوں نے جمعہ کا دن اس کے لیے تجویز کیا اور اس کا قدیم نام یومِ عروبہ چھوڑ کر نیا نام جمعہ رکھ دیا، اس تجویز کے مطابق پہلی نمازِ جمعہ حضرت اسعد بن زُرارہؓ نے پڑھائی۔ اس کی تائید ابو داؤد ، ابنِ ماجہ ، ابن حبان، حاکم، بیہقی اور دارقطنی کی اُس روایت سے ہوتی ہے جو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اُن کے صاحبزادے عبدالرحمن نے نقل کی ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جمعہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے قائم کیا تھا جس میں چالیس آدمی شریک ہوئے تھے۔ دارقطنی میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ جمعہ کا حکم مکہ معظمہ میں ہجرت سے پہلے نازل ہوا۔ اُس وقت مکے میں اقامت جمعہ ممکن نہ تھی۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر کو لکھا کہ تم مدینے میں جمعہ قائم کرو۔ طبرانی میں حضرت ابومسعود انصاری کی روایت ہے کہ اس حکم کے مطابق جو پہلی نمازِ جمعہ حضرت مصعب نے پڑھائی اُس میں بارہ آدمی شریک تھے [ سوال کیا جا سکتا ہے کہ حکم آنے سے پہلے انصار نے جو جمعہ بطور خود قائم کیا تھا اُس میں تو پہلے روز چالیس آدمی شریک ہوئے اور حکم آنے کے بعد جو جمعہ قائم کیا گیا اس میں صرف بارہ آدمی شریک ہوئے، اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حکم مکے سے مدینے بھیجا گیا تھا ہو سکتا ہے کہ قاصد جمعہ ہی کے دن وہاں پہنچا ہو اور اس کا اعلان عام بروقت نہ کیا جا سکا ہو]۔ یہاں دیکھیے، صحابہ کی ایک جماعت باہمی مشورے سے بطورِ خود ایک نئی نماز کا اضافہ کرتی ہے، حضورؐ کی حیاتِ طیبہ میں یہ واقعہ پیش آتا ہے، مگر اس پر حضورؐ کسی ناراضگی کا اظہار نہیں فرماتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اُسی نماز کی فرضیت کا حکم نازل ہو جاتا ہے، اور وہی نماز جو حکم سے پہلے شروع کی گئی تھی، از روئے حکم قائم کی جانے لگتی ہے۔

حضورؐ کی موجودگی میں ماثور الفاظ پر اضافہ:

بخاری، مسلم، ابوداؤد، مسند احمد، نسائی اور طبرانی میں حضرت رفاعہ بن رافع کی روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ رکوع سے سر اٹھا کر جب حضورؐ نے <<سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه>> فرمایا تو پیچھے سے ایک شخص نے کہا <<رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ>> نماز سے فارغ ہو کر حضورؐ نے پوچھا ابھی ابھی یہ بات کس نے کہی تھی؟ اس نے عرض کیا، یا رسولؐ اللہ میں نے۔ حضورؐ نے فرمایا ”میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس کو لکھ لینے کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں“۔ یہاں بھی آپ دیکھ لیں کہ اس شخص نے حضورؐ کے سکھاتے ہوئے الفاظ پر مزید چند الفاظ کا اضافہ خود کیا تھا۔ یہ زائد الفاظ حضورؐ کے بتاتے ہوئے نہ تھے۔ اور اس نے ماثور الفاظ پر یہ اضافہ حضورؐ کی موجودگی میں حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کیا تھا۔ آپ کے نقطہ نظر سے تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ حضورؐ اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرماتے اور اسے ڈانٹتے کہ ماثور الفاظ پر اپنی طرف سے چند الفاظ بڑھا کر تو نے خلاف شرع حرکت کی ہے، تو میرے سامنے دین کے اندر ایک نیا طریقہ اختراع کرنے کی جسارت کر بیٹھا ہے، تیرے بڑھاتے ہوئے الفاظ اگر شریعت میں مطلوب ہوتے تو میں ان کی تعلیم دیتا، تو ان کو اوراد نماز میں داخل کرنے والا کون ہوتا تھا لیکن حضورؐ نے اس کو پوری جماعت کے سامنے یہ بشارت دی کہ تیرے کلمات اتنے قابل قدر تھے کہ فرشتے ان کو لکھنے کے لیے دوڑ پڑے، اور ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ ان الفاظ کو ثبت کرنے کی سعادت اسے نصیب ہو جائے۔

تشہد کے ماثور الفاظ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے داخل کردہ الفاظ کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں اور یہ بھی بتا چکا ہوں کہ اس سے جان چھڑانے کے لیے جو تاویل آپ نے کی ہے وہ بالکل بے معنی ہے۔

ایک نئی اذان کا اضافہ:

مسند احمد اور نسائی کی روایت ہے کہ جمعہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر تشریف فرما ہو جاتے تھے تب بلال اذان دیتے تھے‘ اور جب آپ منبر سے اُترتے تھے تو وہ تکبیر اقامت کہتے تھے۔ (یہ گویا دو اذانیں تھیں جو حضور کے زمانے میں مقرر ہوئیں)۔ بخاری، نسائی، ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سائب بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کے عہد میں جمعہ کی پہلی اذان اُس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا اور آبادی بڑھ گئی تو اُنہوں نے تیسری اذان (یعنی وہ اذان جو امام کے منبر پر آنے سے پہلے دی جاتی ہے) کا حکم دیا جو زوراء [یہ مدینے کے بازار میں ایک اونچا گھر تھا جس کی چھت پر مؤذن اذان دیتا تھا کہ دُور دُور تک آواز پہنچ جائے] کے مقام پر دی جاتی تھی۔ بخاری کی ایک اور روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ جمعہ کے روز تیسری اذان کا اضافہ کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے، جبکہ اہل مدینہ کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے حکم دیا کہ پہلی اذان اُس مکان پر دی جائے جس کا نام زوراء تھا۔ پھر جب وہ منبر پر بیٹھ جاتے تھے تو ان کا مؤذن اذان دیتا تھا اور جب وہ منبر سے اُترتے تھے تو مؤذن تکبیر اقامت کہتا تھا۔ یہ تعبّدی امور کے دائرے میں ماثور و مسنون عمل پر ایک صریح اضافہ تھا جو خلیفہ برحق نے ایسے زمانے میں کیا تھا جبکہ صحابہ و تابعین سے دنیائے اسلام بھری پڑی تھی، مگر اس کی مخالفت تو کیا ہوتی، اسلامی دنیا کے بلاد و امصار میں وہ مقبول ہوگئی صرف ایک ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جن کے متعلق ابن ابی شیبہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اسے بدعت کہا تھا۔ مگر حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ ان کے اس قول میں یہ احتمال بھی ہے کہ انہوں نے اسے منکر سمجھتے ہوئے بدعت کہا ہو، اور یہ احتمال بھی ہے کہ انہوں نے اسے صرف اس بنا پر بدعت قرار دیا ہو کہ یہ طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رائج نہ تھا، اور ہر وہ کام جو آپ کے زمانے میں نہ ہوا ہو بدعت کہلاتا ہے۔ لیکن ایسے کاموں میں بعض اچھے ہوتے ہیں اور بعض اس کے خلاف "حافظ کے اس خیال کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ خود حضرت عبداللہ بن عمرؓ اس سے پہلے ایک 'اچھی بدعت' کا ارتکاب کر چکے تھے۔ مزید برآں ایک اور فعل کو بھی انہوں نے بدعت قرار دینے کے بعد اس کی تحسین فرمائی تھی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

ابن عمر کا چاشت کی نماز کو 'اچھی بدعت' کہنا:

صلوۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا پڑھنا بجائے خود تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، اس لیے اس کے سُنت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس کا التزام، یا مسجدوں میں اس کا پڑھا جانا حضور کے عہد مبارک میں رائج نہ تھا، بعد کے لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی رائے اس کے بارے میں دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا "بدعت ہے اور اچھی بدعت" (ابن ابی شیبہ)۔ ایک اور روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں: "یہ نیا نکالا ہوا طریقہ ہے اور ان اچھے طریقوں میں سے ہے جو لوگوں نے نکال لیے ہیں" (سعيد بن منصور)۔ اور ایک تیسری روایت میں ان کا ارشاد ہے: "لوگوں نے کوئی نئی چیز ایسی نہیں نکالی ہے جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو" (عبدالرزاق)۔ یہ تینوں روایتیں بالکل صحیح سندوں سے منقول ہوئی ہیں۔ ملاحظہ ہو فتح الباری، باب صلوۃ الضحیٰ۔

حضرت عمر کا تراویح کو 'اچھی بدعت' کہنا:

نماز تراویح بھی حضور کے عمل سے ثابت ہے، اس لیے اُس کے سُنّت ہونے میں اختلاف نہیں ہے۔ مگر مسجد میں اُس کا ایک ہی امام کے پیچھے پڑھا جانا، اور اُسے باجماعت ادا کرنے کا عام رواج ایک نیا طریقہ تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں جاری کیا اور اس کے بارے میں فرمایا نِعْمَةُ الْبِدْعَةُ هٰذِهِ (یہ ایک اچھی بدعت ہے)۔ یہ بھی تعبّدی اُمور کے بارے میں شارع کے طریقے پر ایک اضافہ ہی تھا، لیکن حضرت عمرؓ جیسے سخت متبعِ سنت صحابی و خلیفہ نے اسے نیا طریقہ جانتے ہوئے اچھا طریقہ سمجھ کر جاری کیا اور صحابہ و تابعین، ائمہ مجتہدین، فقہاء و محدثین، سب نے بِلا تأمل اس کی پیروی کی۔

درُود میں سیّدنا و مولانا کے الفاظ کا استعمال:

اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعبّدی اعمال میں ردّ و بدل اور کمی بیشی کا قطعاً ممنوع ہونا، اور اس قاعدہ کلیّہ میں کسی استثناء کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہ ہونا ایک ایسا تشدّد ہے جس کی تائید احادیثِ صحیحہ سے نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ درُود میں ماثور الفاظ پر ”سیّدنا و مولانا“ کا اضافہ کیا واقعی ناجائز اور ممنوع ہے؟ لیکن میں اس بحث کے آغاز ہی میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں درُود میں صرف وہ الفاظ بڑھانا جائز سمجھتا ہوں جو بجائے خود حُضور کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے مشروع ہوں خواہ درُود کے ماثور الفاظ میں وہ شامل نہ ہوں۔

درُود کے ماثور الفاظ پر ابنِ مسعُودؓ کا اضافہ:

آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ احادیث سے جتنے درُود (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درُود) ثابت ہیں، ان میں سیّدنا کا لفظ شامل نہیں ہے لیکن یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے، اگرچہ وہ حافظ ابن حجرؒ ہی نے کیا ہو، کہ کسی صحابی سے ایسا کوئی درُود ثابت نہیں ہے۔ ابن ماجہ، باب الصلوٰة علی النبیؐ میں حضرت عبداللہ بن مسعُودؓ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ <<اِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسِنُوا الصَّلٰوةَ عَلَيْهِ فَاِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذٰلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ>> تم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو تو حسن و خوبی کے ساتھ بھیجو، تمہیں کیا خبر، ہو سکتا ہے کہ تمہارا درود حضور کے سامنے پیش ہو“ لوگوں نے عرض کیا ”تو پھر وہ آپ ہمیں سکھا دیں“ اس پر انہوں نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: <<اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا يَّغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ>> خدایا، اپنی عنایت و رحمت اور اپنی برکتیں نازل فرما رسولوں کے سردار، متقیوں کے پیشوا اور نبیوں کے خاتم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر جو تیرے بندے اور رسول ہیں، جو نیکی اور بھلائی کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں۔ خدایا اُن کو اُس مقام محمود پر پہنچا جس پر اولین و آخرین رشک کریں“ اس کے بعد حضرت ابن مسعودؓ نے درود کے وہ ماثور الفاظ پڑھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیم کردہ ہیں۔

حضرت عبداللہ کے اس ارشاد کا صحیح مطلب اس مثال سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اگر کوئی شریف آدمی کسی کے ہاں جاتا ہے اور اس کے ملازم سے اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے کہتا ہے تو اپنی زبان سے وہ خود یہ نہیں کہتا کہ صاحب خانہ سے کہو مولانا عبدالرحمن صاحب تشریف لائے ہیں، بلکہ وہ کہتا ہے ”عبدالرحمن حاضر ہوا ہے“۔ اب یہ ملازم کی تمیز پر موقوف ہے کہ وہ صاحب خانہ کو اطلاع دینے کے لیے آنے والے کے مرتبے کے مطابق الفاظ استعمال کرتا ہے یا ٹھیک وہی الفاظ دہرا دیتا ہے جو آنے والے نے اپنے لیے استعمال کیے تھے۔

اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کو حضرت اسود بن یزید نے روایت کیا ہے جو جلیل القدر تابعین میں سے تھے۔ اُن کا مرتبہ اِس سے بلند تر ہے کہ اُن کی ثقاہت کے لیے کسی کی سند لائی جائے۔ اُن سے اِس کو روایت کرنے والے ابو فاختہ سعید بن علاقہ ہیں جنہیں حافظ ابن حجر نے تقریب میں ثقہ قرار دیا ہے۔ اُن سے عون بن عبداللہ اِس کے راوی ہیں جن کی ثقاہت پر امام احمد، یحییٰ بن معین، عجلی اور نسائی نے شہادت دی ہے۔ ان سے روایت کرنے والے المسعودی عبدالرحمن بن عبداللہ ہیں، اور یہی وہ راوی ہیں جن کو مختلط الحواس قرار دے کر یہ روایت ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے قابل ٹھیرائی جاتی ہے۔ حالانکہ علمائے رجال نے تصریح کی ہے کہ وہ ثقہ تھے اور صرف آخر عمر میں ان کا ذہن اُلجھ گیا تھا۔ امام احمد اور ابن عمار کہتے ہیں کہ کوفے اور بصرے میں جو روایات لوگوں نے اُن سے سُنی ہیں وہ سب صحیح ہیں، البتہ بغداد جا کر ان کا ذہن پراگندہ ہو گیا تھا۔ ابن ابی حاتم اپنے والد ابو حاتم کا قول نقل کرتے ہیں کہ اپنی موت سے سال یا دو سال پہلے اُن کے ذہن کی یہ حالت ہوئی تھی۔ ابنِ معین کہتے ہیں کہ قاسم اور عون بن عبداللہ سے جو احادیث انہوں نے روایت کی ہیں وہ صحیح ہیں۔ ابن عیینہ کہتے ہیں کہ میرے علم میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے علم کو مسعودی سے زیادہ جاننے والا نہ تھا۔ علمائے رجال کی اس شہادت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح بے دردی کے ساتھ اُن احادیث کو اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے جو مفید مطلب نہیں ہوتیں۔

کیا واقعی حضورؐ نے اپنے لیے لفظ ’سید‘ کے استعمال کو ممنوع قرار دیا تھا؟:

آپ کا یہ قول قطعاً صحیح نہیں ہے کہ اپنے لیے ’سید‘ کا لفظ استعمال کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا۔ یہ احادیث کو نہ سمجھنے اور ان کے موقع و محل کو جانے بغیر ان سے غلط نتائج نکالنے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس معاملہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشامد، اور کسی کے منہ پر اس کی تعریف کرنے کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ بخاری اور ابوداؤد میں حضرت ابوبکرہؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورؐ کے سامنے ایک اور شخص کی تعریف کی۔ آپ نے تین مرتبہ (اور دوسری روایت میں ہے بار بار) فرمایا: ”تو نے تو اپنے دوست کا گلا کاٹ دیا“۔ پھر سمجھایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنے کسی بھائی کی مدح ضروری کرنی ہو اور وہ واقعی اس کے متعلق وہی کچھ جانتا ہو جو وہ کہنا چاہتا ہے تو یوں کہے کہ ”میں اُسے ایسا سمجھتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہے کہ اس کو جاننے والا تو اصل میں اللہ ہے اور میں اللہ پر اس کا تزکیہ کرنے والا نہیں ہوں“۔

یہ بات نگاہ میں رکھیے اور پھر اُس روایت کو دیکھیے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ حضورؐ نے اپنے لیے لفظ ”سید“ کے استعمال سے منع فرما دیا تھا۔ مُسند احمد میں حضرت انسؓ بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یا سیدنا و ابن سیدنا، و خیرنا و ابن خیرنا! (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم)، اے ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہمارے بہترین شخص اور ہمارے بہترین شخص کے بیٹے“۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا ”لوگو، اپنے تقویٰ پر قائم رہو، شیطان تمہیں غلط راستے پر نہ ڈالنے پائے، میں محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اُس منزلت سے اُونچا اُٹھانے کی کوشش کرو جو اللہ عزوجل نے مجھے عطا کی ہے“۔ اس کے ساتھ ہی وہ روایت بھی ملاحظہ فرما لیجیے جس کی بنا پر آپ لفظ سیّد کے استعمال سے منع کر دینے کی تاریخ متعین فرما رہے ہیں مُسند احمد میں تین جگہ اور ابو داؤد و کتاب الادب میں ایک جگہ یہ ذکر ہے کہ بنی عامر کا وفد حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں مُطَرِف بن عبد اللہ بن الشِّخِّیر کے والد بھی شریک تھے۔ مُطَرِف اپنے والد ہی کے حوالہ سے ان کا یہ بیان روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حاضر ہو کر آپؐ کو سلام کیا اور پھر کہا کہ آپ ہمارے ولی ہیں، آپ ہمارے سید (سردار) ہیں، آپ ہم پر سب سے زیادہ عطاء و بخشش کرنے والے اور فضل فرمانے والے اور بڑے عمدہ کھانے کھلانے والے ہیں۔‘‘ اُن کے اِس خوشامدانہ انداز کو دیکھ کر حضورؐ نے ان کے الفاظ اَنتَ سَیِّدُنَا کے جواب میں فرمایا اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ تبارک و تعالیٰ۔ اور جب وہ خوشامد کیے ہی چلے گئے تو فرمایا ”اپنی بات کہو اور شیطان تمہیں اپنے مطلب کے لیے استعمال نہ کرے۔“

اس کلام کو دلیل قرار دے کر یہ کہنا کہ حضورؐ نے اپنے لیے لفظ ”سیّد“ کے استعمال کو منع فرمادیا تھا، حدیث دانی اور حدیث فہمی کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے۔ حضورؐ کے الفاظ السَّیِّدُ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ اللہ کے سوا کسی کے لیے لفظ سَیِّد استعمال نہیں کیا جاسکتا، تو پھر ان تمام احادیث کو غلط ٹھیرانا پڑے گا جن میں غیر اللہ کے لیے لفظ سیّد استعمال کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ اللہ جل شانہٗ کے اسمائے خاص میں لفظ السَّیِّد کا اضافہ کرنا پڑے گا، حالانکہ اسمائے الٰہی میں کسی نے بھی اس کو شمار نہیں کیا ہے لیکن اگر اس کا مطلب صرف یہ لیا جائے کہ اور سب کے لیے تو یہ لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے البتہ حضورؐ کے لیے اس کا استعمال ممنوع ہے تو یہ سراسر بے بنیاد معنی آفرینی ہوگی، کیونکہ جن فقرے کو آپ دلیل بنا رہے ہیں اس سے یہ مفہوم کسی طرح بھی نہیں نکلتا۔ علاوہ بریں یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کہ جب خوشامد کے سوا کسی اور انداز میں حضورؐ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا تو آپ نے اس سے منع نہ فرمایا۔ چنانچہ مُسندِ احمد میں نضلہ بن طریف کی روایت ہے کہ اُن کے قبیلے کے ایک شخص عبداللہ کی بیوی ناشزہ ہو کر بھاگ گئی اور اسی قبیلے کے ایک دوسرے شخص مُطَرِّف بن بَہل کے ہاں جا بیٹھی۔ عبداللہ نے جا کر اُس شخص سے اپنی بیوی کا مطالبہ کیا تو اُس نے انکار کر دیا۔ آخرکار وہ فریادی بن کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چند اشعار کی صورت میں اپنی شکایت پیش کی۔ اُن میں سے پہلا شعر یہ تھا:

<<يا سَيّدَ الناسِ وَدَيّانَ العرب>>

<<اليك اشكو ذربة من الذرب>>

”اے لوگوں کے سردار اور عرب کے فرمانروا، آپ کے پاس میں بڑی زبان دراز عورتوں میں سے ایک کی شکایت پیش کرتا ہوں۔“

یہ چونکہ فریادی کی فریاد تھی نہ کہ کسی خوشامدی کی خوشامد، اس لیے اِن الفاظ پر حضورؐ نے کوئی اعتراض نہ فرمایا، بلکہ فوراً مطرف کے نام فرمان لکھا کہ اس شخص کی بیوی اس کے حوالے کر دو [یہ صاحب بنی جدیلہ میں سے تھے جو بنی مازن کے گھرانوں میں سے ایک گھرانا تھا۔ ان کا حضورؐ کو ”دیّانِ العرب“ کہہ کر خطاب کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس قبیلے کا قبولِ اسلام بھی فتح مکہ اور جنگ حنین کے بعد ہی کا واقعہ ہو سکتا تھا جبکہ آپؐ واقعی عرب کے فرمانروا ہو گئے تھے۔]

بے سند اور غیر متعلق روایات سے استدلال:

قاضی عیاض کی شفا سے آپ نے جو روایت نقل کی ہے، اُس کا کوئی حوالہ اُنہوں نے نہیں دیا ہے اور نہ اس روایت کی سند بیان کی ہے۔ عجیب بات ہے کہ مفید مطلب روایت تو بلا سند و بلا حوالہ قبول، اور خلافِ مطلب روایت اگر صحاح ستّہ میں سے ایک کے اندر پوری متصل سند کے ساتھ درج ہو تو اس کے ایک راوی پر بلا تحقیق تہمتیں جوڑ کر پوری حدیث ردّ۔ رہی آپ کی نقل کردہ وہ روایت جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتے کا سوال، اور حضرت جبرئیلؑ کے مشورے پر حضورؐ کا جواب نقل کیا گیا ہے تو وہ اس بحث میں سرے سے غیر متعلق ہے۔

حضورؐ کے ارشاد پر حضرت عمرؓ کا اعتراض!:

آپ نے اس مشہور واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ جب بنی قریظہ کے معاملہ میں حَکَم کی حیثیت سے فیصلہ دینے کے لیے حضرت سعدؓ بن مُعاذ بلائے گئے تھے تو حضورؐ نے حاضرین کو، یا انصار کو حکم دیا تھا کہ <<قُوْمُوْا اِلٰی سَيِّدِکُمْ>> لیکن بخاری، مسلم، ابوداؤد، مُسند احمد، اور مَغازی و سیرت کی کتابوں میں اِس واقعے کی تمام دوسری روایات چھوڑ کر آپ کی نگاہ صرف مُسند احمد کی اُس ایک روایت پر جا کر ٹھہری جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضورؐ کے یہ ارشاد فرماتے ہی کہ <<قُوْمُوْا اِلٰی سَيِّدِکُمْ>> (اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاؤ) حضرت عمرؓ بھری مجلس میں بول اُٹھے کہ <<سَيِّدُنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ>> (ہمارا سردار تو اللہ عزوجل ہے)۔ تھوڑی دیر کے لیے اِس بات سے قطع نظر کر لیجیے کہ دوسری روایتیں اِس ذکر سے خالی ہیں، آپ کی سمجھ میں یہ بات آ کیسے گئی کہ حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں یہ گستاخی کر سکتے تھے؟ اور وہ حضرت عمرؓ یہ بات کیسے کہہ سکتے تھے جن کا اپنا قول ترمذی میں حضرت عائشہؓ سے اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے کہ <<اَبُوْبَکْرٍ سَيِّدُنَا وَخَیْرُنَا وَ اَحَبُّنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ>> (ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں، ہمارے بہترین آدمی ہیں، ہم سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہیں)۔ اور جن کا ایک دوسرا قول بخاری میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے یوں منقول ہوا ہے کہ <<اَبُوْبَکْرٍ سَيِّدُنَا وَ اَعْتَقَ سَیِّدَنَا>>، یعنی بلالؓ (ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار، یعنی بلالؓ کو آزاد کیا ہے۔)

کیا حضورؐ کے لیے دُعا میں سیدنا کہنا رُوحِ دُعا کے خلاف ہے؟:

آپ فرماتے ہیں کہ درُود میں حضور کے لیے سید کا لفظ استعمال کرنا رُوحِ دُعا کے خلاف ہے، درخواست اور دُعا میں تو عبدیت اور عاجزی و انکساری کا اظہار ہونا چاہیے اور جس کے حق میں دُعا کرنی ہو اس کے لیے تو یوں کہنا چاہیے کہ ایک بندہ مسکین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے، نہ یہ کہ ہمارا آقا اور سردار حاضر ہو رہا ہے۔ آپ کی یہ بات اُس صورت میں تو بلاشبہ درست ہے جبکہ آدمی خود اپنے لیے دعا مانگ رہا ہو۔ مگر کیا یہ اُس صورت میں بھی صحیح ہے جبکہ آدمی کی دُعا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہو؟ کیا آپ حضورؐ کے حق میں دُعا مانگتے ہوئے (معاذ اللہ) یوں کہیں گے کہ ”یا اللہ بے چارے مسکین محمد رسول اللہ پر اپنی رحمتیں نازل فرما“؟ پھر آپ کی یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے جبکہ مُسند احمد، مُسند ابو عوانہ، صحیح ابن حبان اور حافظ مروزی کی مُسند ابوبکر صدیقؓ میں صحیح سند کے ساتھ روزِ قیامت کی شفاعت کے متعلق یہ روایت آئی ہے کہ حضرت حُذیفہ بن یمان سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور ان سے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اُس روز اللہ تعالیٰ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دُعا کا ایک ایسا طریقہ کھولے گا جو اس سے پہلے کسی بشر پر کبھی نہیں کھولا گیا۔ اور حضور عرض کریں گے <<اَیْ رَبِّ جَعَلْتَنِی سَیِّدَ وَلَدِ ادَمَ وَلَا فَخْرَ وَاَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَمَۃِ وَلَا فَخْرَ>> اے میرے رب، تو نے مجھے سید اولادِ آدم بنایا اور اس پر کوئی فخر نہیں، اور قیامت کے روز پہلا وہ شخص بنایا جس کے نکلنے کے لیے زمین شق ہوگی اور اس پر کوئی فخر نہیں۔ دیکھیے یہاں خود اللہ تعالیٰ حضورؐ کو دُعا کا طریقہ سکھا رہا ہے، اور اس میں سید ولد آدم کے الفاظ استعمال ہو رہے ہیں۔ کیا یہ ’روحِ دُعا‘ کے خلاف ہے؟

لفظ سیّد کی مشروعیت:

آپ کے تمام اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اب میں عرض کرتا ہوں کہ سیّد کا لفظ ایک مشروع لفظ ہے جو بکثرت احادیث میں حضورؐ کے لیے بھی اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔

بخاری، مسلم، مُسند احمد، مُسند ابوداؤد طیالسی، ترمذی، ابوداؤد، دارمی اور دوسری کتب حدیث میں بکثرت سندوں کے ساتھ حضرات ابن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کی روایات آتی ہیں جن میں وہ حضورؐ کے یہ ارشادات نقل کرتے ہیں کہ <<انا سيد ولد ادم يوم القيمة ولا فخر>>، یا <<انا سيد الناس يوم القيمة ولا فخر>>۔ ان میں سے بعض روایات میں یوم القیمة کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ صرف سید ولد ادم کے الفاظ ہیں۔

مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ اور مُسند احمد میں یہ روایات آتی ہیں کہ لعان کے بارے میں جب حکم الہی کے نزول سے پہلے یہ مسئلہ پیش ہوا کہ شوہر اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ ملوث دیکھ لے تو کیا کرے، اور اس موقع پر حضرت سعدؓ بن عبادہ نے غیر معمولی غیرت کا اظہار کیا، تو حضورؐ نے انصار کو خطاب کرکے فرمایا <<اسمعوا الى ما يقول سيدكم>>۔ "سنو تمہارے یہ سردار کیا کہہ رہے ہیں"۔ اسی طرح بخاری، مسلم، نسائی وغیرہ میں حضرت عائشہؓ سے اِفک کا جو قصّہ منقول ہوا ہے اس میں وہ حضرت سعدؓ بن عبادہ کے لیے سید الخزرج کے الفاظ استعمال فرماتی ہیں۔ اور حضرت سعدؓ بن مُعاذ کے لیے لفظ سیّد کے استعمال کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

مُسند احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہؓ بن مسعود، حضرت اُبیؓ بن کعب کے لیے سید القراء کے الفاظ استعمال فرماتے ہیں۔

مسلم، ابوداؤد اور مُسند احمد وغیرہ میں حضور کا یہ ارشاد منقول ہے کہ غلام اور لونڈیاں اپنے مالک اور مالکہ کو رَبّی اور رَبّتِی نہ کہیں بلکہ سَیِّدِی اور سَیِّدَتِی کہا کریں۔

بخاری، مسلم، ترمذی، مُسند احمد وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے سَیِّدَةُ نِسَاءِ هٰذِهِ الاُمّة ، سَیِّدَةُ نِسَاءِ المُؤمِنین یَا نِسَاءِ المُؤمِنَات، اور سَیِّدَةُ نِسَاءِ اَهْلِ الجَنَّة کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔

بخاری، ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق حضور کا یہ ارشاد منقول ہے کہ <<ابنی هٰذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ الله اَنْ یُصلِحَ بِه بَینَ فِئَتَینِ مِنَ المُسلِمین>> (میرا یہ بیٹا سَیِّد ہے، اور اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا)۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ دوسری روایتوں میں الفاظ کچھ کچھ مختلف ہیں، مگر حضرت حسنؓ کے لیے سَیِّد کا لفظ سب میں موجود ہے۔

حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے سَیِّدَا شَبابِ اَهلِ الجَنة کے الفاظ ترمذی، ابن ماجہ، نَسَائی اور مُسند احمد بن حنبل میں وارد ہوئے ہیں، اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے سَیِّدَا کُهُولِ اَهلِ الجَنَّة کے الفاظ مختلف سندوں سے مُسند احمد، ترمذی اور ابن ماجہ میں منقول ہیں۔

یہ تمام احادیث اس بات پر شاہد ہیں کہ سَیِّد کا لفظ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیر مشروع ہے اور نہ دوسرے انسانوں کے لیے، اور وہ نہ اس دنیا میں غیر مشروع ہے نہ آخرت میں۔ پھر نماز کے اندر یا خارج از نماز حضور پر درُود بھیجتے ہوئے اس کے استعمال کو کیسے ناجائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

لفظ مولیٰ کی مشروعیت:

ایسا ہی معاملہ لفظ مولیٰ کا ہے۔ ابن ماجہ میں یہ روایت آئی ہے کہ کسی حج کے موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضرت معاویہؓ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت علیؓ کا ذکر بُرائی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اس پر حضرت سعدؓ غضب ناک ہو گئے اور انہوں نے فرمایا <<تقول هذا الرجل سمعتُ رسول الله صلّى الله عليه وسلّم يقول من كنتُ مولاه فعلى مولاه>>۔ آپ یہ باتیں اُس شخص کے بارے میں کہہ رہے ہیں جس کے متعلق میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا ہے کہ ”میں جس کا مولیٰ ہوں علیؓ بھی اس کا مولیٰ ہے“۔

مُسند احمد اور نَسائی میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضرت بریدہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت علیؓ کے ساتھ یمن کی مہم پر گیا اور وہاں مجھے ان سے سخت برتاؤ کا تجربہ ہوا۔ میں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی حضورؐ کا چہرہ مبارک میری بات سُن کر متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا ”اے بریدہ، کیا میں مومنوں کے لیے اُن کی جان سے بڑھ کر عزیز نہیں ہوں؟“ میں نے عرض کیا ”کیوں نہیں، یا رسول اللہؐ“۔ حضورؐ نے اس پر فرمایا <<من كنتُ مولاه فعلىُّ مولاه>>۔ حافظ ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ اس روایت کی سند عمدہ اور قوی ہے اور اس کے راوی سب کے سب ثقہ ہیں۔

نَسائی میں حضرت زیدؓ بن ارقم کی روایت نقل کی گئی ہے جس میں وہ حجّۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خُم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”پھر آپؐ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، <<من كنتُ مولاه فهذا وليّه>>، ”جس کا میں مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا ولی ہے“۔ حافظ ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ امام ذہبیؒ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام احمدؒ نے مُسند میں حضرت زید بن ارقم کی روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے کہ حضورؐ نے وادیِ خُم میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا ”کیا تم نہیں جانتے، یا فرمایا کہ کیا تم اس کی شہادت نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے بڑھ کر عزیز ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا ضرور۔ آپ نے فرمایا فمن کنتُ مولاہ فَعَلِیٌّ عَلِیّاً مولاہ۔ اور دوسری روایت میں ہے فَعَلِیٌّ مولاہ۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ اِسناد عمدہ ہے اور اس کے راوی سُنَن کی شرط کے مطابق ثقہ ہیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ مولا کا لفظ بھی نبی اور غیر نبی، دونوں کے لیے غیر مشروع نہیں ہے۔ پھر اگر نماز کے اندر اور خارج از نماز، حضورؐ پر درُود بھیجتے ہوئے سیدنا و مولانا کے الفاظ استعمال کیے جائیں تو اس میں آخر گناہ کیا ہے؟ اور کس دلیل سے اس کو ممنوع یا ناجائز یا مکروہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ (ترجمان القرآن، اکتوبر ۱۹۷۵ء)