مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کوے کی حُلّت و حُرمت اور بعض دوسرے مسائل

سوال ۱۔ کیا کوے کا گوشت حلال ہے؟ نیز یہ تحریر فرمائیں کہ کون کون سے جانور اور پرندے حرام یا حلال ہیں؟ نیز ’دُرِّ مختار‘ کا بعض لوگ حوالہ دیتے ہیں کہ اس میں کوے کے گوشت کو حلال قرار دیا گیا ہے، یہ کہاں تک درست ہے؟

۲۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران بعض لوگوں نے مکانوں کی چھتوں پر خوفِ خدا سے اذانیں دیں۔ ایسا کرنا کہاں تک جائز ہے؟ کیا یہ فعل مستحب ہے یا گناہ ہے یا خلاف شرع ہے؟

۳۔ ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے، جب کہ ٹوپی یا کپڑا موجود ہو؟ کیا کوئی حدیث ایسی ہے جس سے ننگے سر نماز پڑھنے کا جواز ملتا ہے؟

جواب: (۱) جن جانوروں کی حُرمت کے متعلق قرآن پاک یا حدیثِ صحیح میں تصریح ہے، ان پر تو اُمت میں اتفاق ہے۔ لیکن جن جانوروں کے بارے میں تصریح نہیں ہے بلکہ اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اُن کی حِلت و حُرمت میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ کوّے کے گوشت کے متعلق درالمختار میں لکھا ہے :

<<” ولا يحل .... الغراب الابقع الذى ياكل الجيف لانه ملحق بالخبائث قاله المصنف>> (ای صاحب تنویر الابصار) <<ثم قال والخبیث ما تستخبثه الطباع السليمة“>> اور حلال نہیں ہے ...... وہ کوّا جس کے رنگ میں سیاہی اور سفیدی ملی جلی ہو اور جو مُردار کھاتا ہو، کیونکہ وہ خبائث میں شامل ہے۔ یہ بات مصنف (یعنی صاحبِ تنویر الابصار) نے لکھی ہے پھر کہا ہے کہ خبیث وہ ہے جسے سلیم الطبع لوگ گندا اور ناپاک سمجھتے ہیں۔ علامہ شامی نے رَدُّ المُحتار میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :

<<” اما الغراب الابقع (الذى فيه بياض وسواد) والاسود فهو انواع ثلاثة، نوع يلتقط الحبّ ولا ياكل الجيف وليس بمكروه ، ونوع لا ياكل الا الجيف فانه مكروه ، وهو الذى سماه المصنف الابقع - ونوع يخلط، ياكل الحب مرة والجيف اخرى، ولم يذكره فى الكتاب ، وهو غير مكروه عنده (اى ابى حنيفه) ومكروه عند ابى يوسف “>>۔ ملے جلے رنگ یا سیاہ رنگ کے کوّوں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو دانے چگتا ہے اور مُردار نہیں کھاتا۔ وہ مکروہ نہیں ہے۔ دوسرا وہ جو مُردار ہی کھاتا ہے۔ وہ مکروہ ہے اور مُصنّف نے اُسی کو نِلے جلے رنگ کا کوّا کہا ہے۔ تیسرا وہ جو کبھی مُردار کھاتا ہے اور کبھی دانے چگتا ہے مصنف نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ وہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک مکروہ ہے۔ (رد المحتار، جلد ۵، ص ۲۶۶)

اسی کتاب میں مندرجہ بالا بحث کو آپ دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ کون کون سے پرندے حلال ہیں۔

۲- سیلاب یا کثرتِ بارش یا کسی اور آفت کے موقع پر اذانیں دینا مسلمانوں میں رائج ہو گیا ہے، لیکن میرے علم کی حد تک یہ طریقہ کسی سند پر مبنی نہیں ہے، بلکہ غالباً لوگوں نے اسے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارنے کی ایک صورت سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ اگر لوگ اسے مشروع سمجھ کر کریں تو غلط ہے، اور اگر محض اللہ سے فریاد کرنے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے کریں تو مباح ہے۔

۳- نماز میں سر ڈھانکنے کا کوئی حکم، یا ننگے سر نماز پڑھنے کی کوئی نہی میرے علم میں نہیں ہے۔ البتہ یہ معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام عمامہ یا ٹوپی پہنے ہوئے ہی نماز پڑھتے تھے۔ <<خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ>> کے حکم کا تقاضا بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز اچھا لباس پہن کر پڑھی جائے، اور ٹوپی یا عمامہ بھی اس میں داخل ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص ننگے سر نماز پڑھے تو اُس کی نماز ہو جائے گی۔ (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۴۹ء)