رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
حضورؐ کی تاریخ وفات و ولادت
سوال۔ میرے دل میں سخت پریشانی ہے کہ فرقہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ سرکار رسالت مآب کی وفات و ولادت ۱۲ ربیع الاول ہے، اور فرقہ شیعہ کا خیال ہے کہ حضورؐ کی پیدائش ۱۷ ربیع الاول اور وفات ۲۸ صفر ہے۔ حضورؐ کی وفات کے وقت اہل بیت و صحابہ کرام دونوں موجود تھے۔ اختلاف کیوں ہوا اور کب ہوا؟ اصحاب محمدؐ و اہل بیت محمدؐ کے زمانے میں ان کا کیا عمل تھا، طبیعت پریشان ہے۔
جواب۔ اہلِ سُنّت کی روایات میں اِس بات پر اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات ربیع الاوّل میں پیر کے روز ہوئی تھی۔ البتہ تاریخوں میں اختلاف ہے۔ ولادتِ مبارکہ کے بارے میں کسی نے ۲، کسی نے ۸، کسی نے ۱۲، اور کسی نے ۱۷ تاریخ لکھی ہے، لیکن جمہور اہلِ سُنّت کے ہاں مشہور تاریخ ۱۲ ربیع الاوّل ہے۔ اِسی طرح وفات کے بارے میں کسی نے یکم ربیع الاوّل، کسی نے ۲، اور کسی نے ۱۲ تاریخ لکھی ہے، مگر جمہور اہلِ سُنّت میں مشہور تاریخ ۱۲ ربیع الاوّل ہی ہے۔ اہلِ سُنّت کی روایات کے مطابق حضورؐ کی وفات اور ولادت کے بارے میں صحابۂ کرام اور اہلِ بیت کے ہاں نہ کوئی عمل رائج تھا نہ کسی قسم کی تقریبات ہوتی تھیں۔
اہلِ تشیّع کی مشہور کتاب علّامہ کُلینی کی اصولِ کافی میں بھی تاریخِ پیدائش و وفات دونوں ۱۲ ربیع الاوّل ہی درج ہیں۔ لیکن علمائے شیعہ کا اتفاق اس پر ہے کہ تاریخِ ولادت ۱۷ ربیع الاوّل اور تاریخِ وفات ۲۸ صفر ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، ائمۂ اہلِ بیت بھی حضورؐ کی ولادت یا وفات کے دن کوئی تقریب منعقد نہیں کرتے تھے۔
یہ تعین کرنا بہت مشکل ہے کہ تاریخوں میں اختلاف کیوں ہوا اور کب ہوا؟ (ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۶۳ء)