رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
علمی خیانت
سوال۔ محمود عباسی صاحب نے ’تحقیقِ مزید‘ کے نام سے جو کتاب لکھی ہے اس کے چند اقتباسات نقل کر رہا ہوں۔ براہِ کرم اس امر پر روشنی ڈالیے کہ جو کچھ اس میں لکھا گیا ہے وہ کہاں تک صحیح ہے۔ الجھن یہ ہے کہ تمام سیرت نگار تو آنحضورؐ کے دادا کی وفات کے بعد ابوطالب کو حضورؐ کا سرپرست تسلیم کرتے ہیں، مگر محمود عباسی کچھ اور ہی داستان بیان کر رہے ہیں۔
صفحہ ۱۲۵- عبدالمطلب کی وفات کے وقت ان کے نو بیٹے زندہ تھے۔ جن میں سب سے بڑے زبیر تھے، وہی قریش کے دستور کے مطابق اپنے والد کے جانشین ہوئے اور انہی کو عبدالمطلب نے اپنا وصی بھی مقرر کیا تھا۔
<<والزبیر وکان شاعراً شریفاً و الیه اوصٰی عبدالمطلب>> (طبقات ابن سعد، ص ۴، جلد ۱)
صفحہ ۱۲۵- زبیر و ابوطالب اور عبداللہ والد ماجد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تینوں ایک ماں سے حقیقی بھائی تھے۔
صفحہ ۱۲۶- ۱۲۵- قدیم ترین مورخ ابو جعفر محمد بن حبیب متوفی ۲۴۵ھ مؤلف کتاب ’المُحَبَّر‘ نے ”الحکام من قریش ثم من بنی ھاشم“ کے عنوان کے تحت قریش کے تمام خاندانوں میں سے جو لوگ اپنے وقت میں سردار اور حاکم رہے ان کی فہرست درج کی ہے بنی ہاشم میں عبدالمطلب کے بعد زبیر بن عبدالمطلب لکھے، بعد ان کے چھوٹے بھائی ابوطالب کے .... نام درج کیے ہیں، صفحہ ۱۳۲۔
صفحہ ۱۳۶۔ عبدالمطلب کو اپنے اس نیک صفات اور پاکیزہ خصلت فرزند زبیر پر فخر و ناز ہونا بجا تھا۔ مرتے وقت انہی کو جانشین کیا۔
صفحہ ۱۲۷-۱۲۶۔ حلف الفضول .... وہ معاہدہ و حلف ہے جو قریشی خاندانوں اور قبیلوں میں ..... انہی کی تحریک پر آپس میں عبداللہ بن جدعان کے گھر بیٹھ کر کیا تھا (شرح ابن ابی الحدید)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر اپنے چچا زبیر کے ساتھ موجود تھے، .... سن شریف اس وقت آنحضور کا بروایت مختلفہ اٹھارہ سے بیس برس کا بتایا گیا ہے۔
صفحہ ۱۲۸۔ اپنے دادا کے انتقال کے بعد آنحضور اپنے ان ہی چچا زبیر بن عبدالمطلب کی کفالت میں رہے، انہوں نے اور ان کی زوجہ عاتکہ بنت ابی وہب بن عمرو بن عائد بن عمران بن مخزوم نے اپنے بچوں سے زیادہ محبت و شفقت سے آپ کی پرورش کی۔
صفحہ ۱۳۲۔ آپ اس عمر کے تھے کہ زبیر بن عبدالمطلب کی وفات کے بعد کسی دوسرے چچا اور رشتہ دار کی کفالت سے مستغنی ہو چکے تھے۔
جواب۔ محمود عباسی صاحب کی عادت ہے کہ مشہور ترین روایات کو رد کر کے ایسی روایات تلاش کرتے ہیں جن سے مطلب براری ہو سکے اور اگر یہ بھی نہ ہو تو روایات کو توڑ مروڑ کر اپنے مطلب پر ڈھال لیتے ہیں جس ابن سعد کی روایت انہوں نے زبیر بن عبدالمطلب کے بارے میں نقل کی ہے اسی ابن سعد نے طبقات (طبع بیروت) میں صفحہ ۱۱۹ پر یہ روایت نقل کی ہے کہ عبدالمطلب کے بعد ابوطالب نے آپ کی پرورش اپنے ذمے لی اور وہ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت کرتے تھے۔ اس سے ایک صفحہ پہلے ابن سعد نے صفحہ ۱۱۸ پر لکھا ہے کہ عبدالمطلب نے مرتے وقت ابوطالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کی وصیت کی تھی۔ یہی بات تمام محدثین اور مورخین اور سیرت نگاروں نے بالاتفاق لکھی ہے لیکن عباسی صاحب کی علمی خیانت کا حال یہ ہے کہ عبدالمطلب کی جس وصیت کا واقعہ وہ ابن سعد سے نقل کر رہے ہیں وہ دراصل یہ ہے کہ عبدالمطلب نے بنی خزاعہ سے حلف کا جو معاہدہ کیا تھا اس کے بارے میں اپنے بیٹے زبیر کو وصیت کی تھی کہ اس عہد و پیمان کو نباہنا۔ پھر زبیر نے ابوطالب کو اور ابوطالب نے عباس بن عبدالمطلب کو اسی چیز کی وصیت کی۔
ابوجعفر محمد بن حبیب جس کا حوالہ انہوں نے دیا ہے اس نے عبدالمطلب کے بعد منصب ریاست پر زبیر کی جانشینی کا ذکر کیا ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ حضورؐ کی خبر گیری ان کے سپرد کی گئی تھی۔ انہی دو نمونوں سے آپ عباسی صاحب کی صداقت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، فروری ۱۹۷۶ء)