رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنی اسرائیل کا فتح فلسطین سے گریز
(سورۃ بقرہ کی آیت ۲۴۳ کی تشریح)
سوال - سورۃ بقرہ کی آیت ۲۴۳- <<أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ>> کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے حاشیہ ۲۶۶ تحریر فرمایا ہے کہ اس میں بنی اسرائیل کے اس خروج کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد انہوں نے فلسطین میں جہاد کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحرائے سینا میں نظر بند کر دیا۔ ان کے مرنے کے بعد اُن کی نئی نسل جوان ہوئی، انہوں نے حضرت یوشع کی قیادت میں فلسطین کو فتح کیا۔ یہ واقعہ تو اپنی جگہ صحیح ہے لیکن آیت زیر بحث کا انطباق اس واقعہ پر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس آیت میں خوف موت کو عِلّت خروج قرار دیا ہے لیکن مصر سے بنی اسرائیل کی خروج کی عِلّت خوفِ موت نہ تھی بلکہ موسیٰ علیہ السّلام کو خدا کا حکم تھا۔ <<وَاِذْ اَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي>>۔دوسری بات یہ کہ آیت زیر بحث میں خروج کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن مصر سے خروج قابلِ مذمت نہ تھا بلکہ ہجرت تھی۔ تیسری بات یہ کہ : <<فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْيَاھُمْ>> کے الفاظ کا متبادر مفہوم یہی ہے کہ جن لوگوں پر موت طاری کر دی گئی، انہی کو پھر زندہ کر دیا گیا۔ میں نے تفاسیر کا مطالعہ کیا، کہیں بھی آپ والی بات نہیں ملی بلکہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی طرف اشارہ بتاتے ہیں۔اور لکھتے ہیں کہ طاعون کے خوف سے بھاگتے ہوئے نکلے۔ راستہ میں اُن کو موت دی گئی۔ پھر انہی کو زندہ اٹھایا گیا۔ مہربانی فرما کر اس اشکال کو حل فرمائیں۔
جواب۔ سورۃ بقرہ کی جس آیت کی تشریح پر آپ نے اشکال کا ذکر کیا ہے اس کے الفاظ بجائے خود اسی تشریح کے مقتضی ہیں۔ اور مزید برآں آگے کا سلسلہ کلام بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ <<خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ>> اور <<حَذَرَ الْمَوْتِ>> کے درمیان <<وَهُمْ اُلُوْفٌ>> پر غور فرمائیے۔ اگر گھروں سے نکلنے کا سبب طاعون یا کسی وبا سے مر جانے کا خوف ہوتا تو یہاں <<وَهُمْ اُلُوْفٌ>> کہنا بے معنی ہوتا۔ کیونکہ ایسی موت کا خوف دس بیس آدمیوں کو بھی ہو سکتا ہے اور سینکڑوں آدمیوں کو بھی اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس پر عبرت دلانے کے لیے ان لوگوں کو ہلاک کر دینے کا ذکر کوئی اہمیت رکھتا ہو۔ <<وَهُمْ اُلُوْفٌ>> کے الفاظ اس جملے میں صاف طور پر یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود موت کے خوف سے بھاگ نکلے۔ اُلُوْفٌ کا لفظ دس ہزار سے زیادہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے بہت زیادہ تعداد میں ہونے کے باوجود اُن کا بھاگ نکلنا اسی صورت میں قابلِ مذمت ہو سکتا ہے جب کہ وہ کسی دشمن کے مقابلے سے اس بزدلی کی بنا پر بھاگے ہوں کہ جان انہیں بڑی پیاری تھی اور موت سے وہ ڈرتے تھے۔ اس کے بعد یہ ارشاد کہ <<فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْيَاھُمْ>> ، لازمی طور پر یہی معنی نہیں رکھتا کہ جن لوگوں کے حق میں ہلاکت کا فیصلہ کیا گیا ہو، وہ پھر زندہ کر دیئے گئے ہوں۔ ایک قوم کے معاملے میں جب یہ بات کہی جائے گی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے خوف رکھنے والوں کو اسی موت کا مزا چکھا دیا جائے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ اور اسی قوم کے دوسرے افراد کو وہ زندگی بخش دی جائے جس سے وہ موت سے بے خوف ہو کر غنیم کا مقابلہ کریں۔ آگے کی آیت <<وَقَاتِلُوْا فِی سَبِیْلِ اللهِ>>، الآیہ۔ اس مقصودِ کلام کو واضح کر دیتی ہے کہ مسلمانوں کو یہ واقعہ سنا کر راہِ خدا میں لڑنے کی ہمت دلائی جائے۔ اس سلسلۂ کلام میں طاعون یا کسی وبا سے مرنے کے خوف کا آخر کیا محل ہے۔
رہی یہ بات کہ بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کا اصل سبب خوفِ موت نہیں، بلکہ حکمِ ہجرت تھا، تو اس کے بارے میں یہ امر غور طلب ہے کہ مصر میں کثیر التعداد ہونے کے باوجود ان کو لڑ کر اپنی جان و مال بچانے کا حکم دینے کے بجائے ہجرت کا حکم کیوں دیا گیا؟ اس کی وجہ ظاہر ہے یہی تھی کہ وہ فرعون اور آلِ فرعون سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ بدترین مظالم سہہ رہے تھے اور اُف نہ کرتے تھے، بلکہ حضرت موسیٰؑ سے وہ اُلٹی شکایتیں کر رہے تھے کہ آپ کے آنے سے تو ہم اور مصیبت میں پڑ گئے ہیں۔(ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۷۹ء)