مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حضرت موسیٰؑ کی دعوت کے دو اجزاء

سوال:۔ سوال نمبر ۱ کے بارے میں آپ کے مختصر جواب سے اندازہ ہوا کہ میرے سوال کا مرکزی نکتہ جو حضرت موسیٰؑ کے مشن سے متعلق ہے جناب کی تائید سے محروم رہا اور آپ نے اپنے جواب میں اپنے اسی موقف کا اعادہ فرمایا جو اس سے قبل آپ تفہیم القرآن میں پیش فرما چکے ہیں۔ آپ کےنقطہٴ نظر کو قبول کرنے میں جو اشکال ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے فرعون اور آلِ فرعون کے ایمان سے مایوس ہونے کے بعد بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت نہیں فرمائی تھی بلکہ آغازِ نبوت ہی میں فرعون کے سامنے ایمان کی دعوت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ”ارسالِ بنی اسرائیل“ کا مطالبہ بھی پیش فرما دیا تھا۔ اس کی آخر کیا مصلحت تھی؟ کیا صرف ایمان کی دعوت کافی نہیں تھی؟ اس اشکال کا ایک ہی حل میری سمجھ میں آتا ہے اور وہ یہ کہ ارسالِ بنی اسرائیل کا مطالبہ، دعوتِ ایمان کا بدل نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ اگر فرعون ایمان لائے تب بنی اسرائیل مصر سے ہجرت کر جائیں۔ بلکہ یہ ایک مستقل مطالبہ تھا جسے اگر فرعون ایمان لے آتا تب بھی پورا کرایا جاتا۔ قرآن کا اندازِ بیان بھی اسی کی تائید کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

امید ہے کہ جناب اپنی اولین فرصت میں میری اس گزارش پر توجہ دیں گے اور اپنی دوبارہ غور فرمودہ رائے سے آگاہ فرمائیں گے۔

جواب۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے سامنے دعوتِ دین اور ارسالِ بنی اسرائیل کا مطالبہ ایک ساتھ پیش کرنا فی الواقع وہی اشکال پیدا کرتا ہے جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں اس قصے کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان پر غور کرنے سے یہ اشکال رفع ہو جاتا ہے۔

ارسالِ بنی اسرائیل کا مطالبہ آغاز ہی میں اس لیے پیش کر دیا گیا کہ ایک مسلمان قوم، جو مصر ہی میں نہیں، اُس وقت پورے شرقِ اوسط میں بلکہ شاید پوری متمدن دنیا میں توحید رسالت کی ماننے والی واحد قوم تھی، ایک مدت سے کفار کے شدید ظلم و ستم کی تختہ مشق بنی ہوئی تھی، اور حالات اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ اس کا مٹ جانا یا کفار میں جذب ہو جانا مستقبل قریب میں بالکل یقینی نظر آتا تھا۔ اس حالت میں یہ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ پہلے ایک کافی مدت تک فرعون و ملاء فرعون کو دین حق کی دعوت دی جاتی رہے اور جب اس کے مسلمان ہونے کی کوئی امید باقی نہ رہے تب یہ مطالبہ لے کر اٹھا جائے کہ جو مسلمان قوم اس کی سرزمین میں موجود ہے اُسے وہ ملک سے نکل جانے کی اجازت دے دے کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا اور اس قوم کی حفاظت کے مسئلے سے قطع نظر کر کے صرف دعوت دین کے تقاضے پورے کیے جاتے رہتے تو ۲۵-۳۰ سال کی مدت میں، جو اہل مصر پر حجت پوری کرنے کے لیے درکار تھی یہ مسلمان قوم فنا ہو جاتی، اور اس کے معنی یہ ہوتے کہ نئے سرمائے کے حصول کی فکر میں وہ سرمایہ بھی کھو دیا گیا جو پہلے سے موجود تھا۔

لیکن چونکہ حضرت موسیٰؑ ایک قومی لیڈر نہیں تھے، بلکہ فی الاصل ان کا مشن دعوت ہی تھا، اس لیے انہوں نے محض ارسال بنی اسرائیل کا مطالبہ ہی نہیں کیا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دین کی دعوت بھی پیش فرمائی اور آخر وقت تک اس کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ دعوت اگر کامیاب ہو جاتی اور مصر کا فرمانروا طبقہ اسلام قبول کر لیتا تو پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ ایک مسلمان قوم خواہ مخواہ دارالاسلام سے ہجرت کر کے کسی دارالکفر کی طرف منتقل ہوتی جہاں اسے از سر نو کفار سے برسر پیکار ہونا پڑتا۔ مگر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، مصر میں دین کے ساتھ ساتھ ارسال بنی اسرائیل کا مطالبہ بھی شروع کر دیا گیا تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا بنی اسرائیل کی پھیلی ہوئی آبادیاں ملک چھوڑ کر نکل جانے کے لیے آخری مرحلے میں یکایک تیار نہ کی جا سکتی تھیں۔ اُن میں یہ عزم صرف اس وجہ سے پیدا ہوا کہ ۲۵-۳۰ سال سے ان اس کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، ورنہ ان کا (MORALE) مدتِ دراز کی غلامی اور ظلم و ستم نے اس بری طرح توڑ دیا تھا کہ عین وقت پر اگر ان سے نکلنے کے لیے کہا جاتا تو کوئی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرتا۔ (ترجمان القرآن، جون ۱۹۴۸ء)