مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

انشورنس کو حُرمت سے پاک کرنے کی تدابیر

سوال۔ انشورنس کے بارے میں آپ کا یہ خیال درست ہے کہ اس میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ اس کے لیے طویل اور مسلسل کام کی ضرورت ہے۔ میں نے اب تک اپنی انشورنس کمپنی میں لائف انشورنس کے کاروبار سے احتراز کیا ہے لیکن اب غور کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ زندگی کے بیمے کی قباحتوں کو درج ذیل تدابیر سے رفع کیا جا سکتا ہے۔

۱- زرِ ضمانت حکومت کے پاس جمع کراتے وقت یہ ہدایت دی جا سکتی ہے کہ اس روپیہ کو سودی کاروبار میں لگانے کے بجائے کسی سرکاری کارخانے یا پی۔ آئی۔ ڈی۔ سی میں حصص خریدے جائیں۔ کوشش کی جائے تو امید ہے کہ حکومت اس بات کو مان لے گی۔ اس طرح سودی کام میں اشتراک سے نجات ہو سکتی ہے۔

۲- کمپنی کو اختیار ہے کہ جس فرد کا چاہے بیمہ فسخ کر دے یا پہلے ہی قبول نہ کرے۔ ہم قواعد میں یہ گنجائش رکھ سکتے ہیں کہ جو صاحب چاہیں اپنی رقم وارثوں میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ خدا اور رسول کے احکام کی شدت سے پابندی یہ شرط لگا کر بھی کی جا سکتی ہے کہ جو حضرات شرعی تقسیم پر رضامند نہ ہوں ان کا بیمہ قبول نہ کیا جائے تاکہ ہمارے ہاں وہی لوگ بیمہ کرا سکیں جو ہمارے مطلوبہ شرعی اصولوں پر چلیں۔

۳- قمار کی آمیزش سے بچنے کے لیے بیمہ کرانے والے لوگوں کو یہ ہدایت کرنے پر آمادہ کیا جائے کہ ان کی موت کی صورت میں صرف اتنا روپیہ ورثاء کو دیا جائے گا جو وہ فی الحقیقت بذریعہ اقساط جمع کروا چکے ہیں۔

ظاہر ہے کہ اگرچہ بحالات موجودہ اس کاروبار میں شر کا پہلو بہت غالب ہے لیکن خیر کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔

کچھ عرصہ قبل قباحتوں کی شدت محسوس کرتے ہوئے میں نے اپنی کمپنی کو فروخت کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر بعد میں محسوس کیا کہ کوئی ایسی راہ نکالی جائے جس سے دوسروں کے لیے مثال قائم ہو سکے اور اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے انشورنس کا کاروبار چلایا جا سکے۔ آپ تکلیف فرما کر میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب۔ آپ نے اب جو صورت انشورنس کے کاروبار کو درست کرنے کے متعلق لکھی ہے اس سے مجھے توقع ہے کہ اس کی حُرمت کے اسباب ختم ہو سکیں گے۔ میرے نزدیک اس کو جواز کے دائرے میں لانے کے لیے کم از کم جو کچھ کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے:

۱- حکومت کو اس امر پر راضی کیا جائے کہ وہ کمپنی کا زرِ ضمانت اپنے کسی سرکاری یا نیم سرکاری صنعتی یا تجارتی کام میں حصہ داری کے اصول پر لگا دے اور کمپنی کو اس کا ایک متعین نہیں بلکہ تناسب منافع دے۔

۲- کمپنی اپنے دوسرے سرمائے کو بھی ایسے منافع بخش کاموں میں لگائے جن میں سود کے بجائے منافع اس کو حاصل ہو کسی قسم کے سُودی کاروبار میں اس کے سرمائے کا کوئی حصہ نہ لگایا جائے۔

۳- زندگی کا بیمہ صرف انہی لوگوں کا قبول کیا جائے جو دو باتوں کو تسلیم کریں۔ ایک یہ کہ ان کی موت کے بعد صرف ان کی جمع شدہ رقم ہی وارثوں کو دی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ شرعی قاعدے کے مطابق یہ رقم تمام وارثوں میں تقسیم ہو گی۔

۴- بیمہ کرانے والوں میں سے جو لوگ اپنی رقم پر منافع چاہتے ہوں ان کا روپیہ ان کی اجازت سے اُسی قسم کے تجارتی کاموں میں حصہ داری کے اصول پر لگا دیا جائے جن کا ذکر اُوپر میں نے نمبر ۲ میں کیا ہے۔

یہ چار اصلاحات اگر آپ نافذ کر سکیں تو اس سے صرف یہی فائدہ نہ ہوگا کہ آپ کی کمپنی کا کاروبار پاک ہو جائے گا بلکہ اس سے ملک میں انشورنس کی اصلاح چاہنے والوں کو عام طور پر بڑی مفید رہنمائی ملے گی۔ (ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۶ء)