مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ازواجِ مطہراتؓ پر زبان درازی کا الزام

سوال۔ آپ نے سورۃ تحریم کی آیت <<اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا وَاِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ>> .... الآیہ کی تشریح کرتے ہوئے تفہیم القرآن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جو روایت بخاری اور مُسند احمد سے نقل کی ہے، اس میں حضرت عمرؓ کے الفاظ ”لَا تُرَاجِعِی“ کا مفہوم ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی زبان درازی نہ کر“ (ترجمان القرآن، جلد ۲۷، عدد ۴، صفحہ ۲۲۳، آخری سطر) اگرچہ صحیح ہے لیکن میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ ان الفاظ کو بدلنے پر غور فرمائیں کیونکہ اہل زیغ نے آپ پر جملہ بہت سے الزامات کے ایک یہ الزام بھی بڑے زور شور سے پھیلا رکھا ہے کہ مولانا مودودی نے ازواجِ مطہرات کو ”زبان درازی“ کہہ کر ان کی گستاخی اور بے ادبی کی ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ تفہیم القرآن میں ”زبان درازی نہ کر“ کے الفاظ کی جگہ ”پلٹ کر جواب نہ دے“ یا ”دو بدو جواب نہ دے“ کے الفاظ رکھ دیں تو مفہوم کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا اور اہل زیغ کے ہاتھ میں بھی پروپیگنڈہ کے لیے شوشہ نہیں آئے گا۔

جواب۔ حضرت عمرؓ کی روایت سے یہ بات تو ثابت ہے کہ ازواج مطہراتؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر دُو بدُو جواب دینے لگی تھیں۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی چھوٹا اپنے سے بڑے رُتبے والے کو پلٹ کر جواب دے یا دُو بدُو جواب دے تو اسی کا نام زبان درازی ہے۔ مثلاً باپ اگر کسی بات پر بیٹے کو ڈانٹ دے یا اظہارِ ناراضی کرے اور بیٹا اس کو پلٹ کر جواب دے یا دُو بدُو جواب دینے لگے تو آپ اسے زبان درازی نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ کجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی یہ رویہ اختیار کرے۔ اب اگر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ازواج مطہرات کے احترام کی فکر ہے تو اس کا آخر میرے پاس کیا علاج ہے ظاہر ہے کہ ازواج مطہرات کا رویہ کچھ زیادہ ہی ناپسندیدہ ہو گیا تھا جس کی بنا پر پہلے تو حضرت عمرؓ اپنی صاحبزادی حضرت حفصہؓ پر غضبناک ہوئے، پھر ازواج مطہرات میں سے ایک ایک کے ہاں جا کر ان کو اللہ کے غضب سے ڈرایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراض ہو کر ۲۹ دن تک ان سے قطع تعلق کر کے اپنے بالاخانے میں قیام فرمایا حتیٰ کہ صحابہ کرام میں یہ تشویش پھیل گئی کہ حضورؐ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، اور آخر کار خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اُن کو تنبیہ فرمائی۔ اب اگر یہ محض پلٹ کر جواب دینے یا دُو بُدو جواب دینے ہی کا چھوٹا سا معاملہ تھا تو یہ معترضین اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر ایک آیت نازل کر دی؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا سمجھتے ہیں کہ آیا آپؐ معاذ اللہ بڑے ہی تُنک مزاج واقع ہوئے تھے کہ ذرا سی بات پر بیویوں سے اس قدر ناراض ہو گئے؟ اور حضرت عمرؓ کو کیا سمجھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر بیٹی کو ڈانٹا اور پھر ازواج مطہرات میں سے ایک ایک کے گھر جا کر ان کو خدا سے ڈراتے پھرے؟ یہ سب کچھ تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے جسے صرف نقل کرنے کا میں گناہ گار ہوں۔ رہے معترضین تو انہیں بہرحال میری ہر بات پر اعتراض کرنا ہے، اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ان کی کسی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کروں گا جب تک چاہیں وہ اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔ (ترجمان القرآن نومبر ۱۹۵۶ء)